ترکیہ نے جمعرات کو خوجالی قتلِ عام کی 34ویں برسی کے موقع پر 1992 میں آرمینیائی افواج کے ہاتھوں آذربائیجانی شہریوں کے اجتماعی قتل کے متاثرین کو خراجِ عقیدت پیش کیا اور آذربائیجان کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کیا۔
ترکیہ کی وزارتِ خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ ہم 26 فروری 1992 کو آذربائیجان کے خطۂقرہ باغ میں واقع قصبے خوجالی میں بے گناہ شہریوں کے خلاف کیے گئے قتلِ عام کی شدید مذمت کرتے ہیں۔” بیان میں مزید کہا گیا کہ خوجالی میں ڈھائے گئے مظالم انسانیت کے ضمیر پر ایک سیاہ داغ ہیں۔
وزارت کے مطابق، اس سانحے میں شہید ہونے والے 613 افراد —جن میں 106 خواتین، 63 بچے اور 70 بزرگ شامل تھے — کی یاد آج بھی دلوں پر بوجھ بنی ہوئی ہے۔ درجنوں افراد زخمی ہوئے، متعدد کو قید کیا گیا جبکہ کئی لاپتا قرار پائے۔ بیان میں شہداء کے لیے دعائے مغفرت اور آذربائیجان کے عوام سے تعزیت کا اظہار بھی کیا گیا۔
سوویت یونین کے انہدام کے فوراً بعد، 26 فروری 1992 کو آرمینیائی افواج نے قرہ باغ کے علاقے میں واقع خوجالی پر بھاری توپ خانے اور ٹینکوں کے استعمال کے بعد قبضہ کر لیا۔ آذربائیجانی اعداد و شمار کے مطابق تقریباً دو گھنٹے جاری رہنے والی اس کارروائی میں 613 شہری ہلاک اور 487 شدید زخمی ہوئے۔ 1,275 افراد کو قید کیا گیا جن میں سے تقریباً 150 آج تک لاپتا ہیں، جبکہ آٹھ خاندان مکمل طور پر ختم ہو گئے۔
قرہ باغ کا خطہ 1990 کی دہائی کے اوائل میں پہلی قرہ باغ جنگ کے دوران بڑے پیمانے پر جھڑپوں اور قبضے کا مرکز بنا رہا۔ اس عرصے میں آرمینیائی فوج نے Nagorno-Karabakh (نگورنو قرہ باغ) اور اس سے ملحق سات اضلاع پر قبضہ کر لیا تھا، جن میں خوجالی بھی شامل تھا۔ یہ علاقہ بین الاقوامی طور پر آذربائیجان کا حصہ تسلیم کیا جاتا ہے۔
2020 کے موسمِ خزاں میں 44 روزہ جنگ کے دوران آذربائیجان نے قرہ باغ میں کئی شہر، قصبے اور دیہات واگزار کرا لیے۔ بعد ازاں ستمبر 2023 میں آذربائیجان نے ایک “انسدادِ دہشت گردی آپریشن” کے بعد خطے میں مکمل خودمختاری قائم کرنے کا اعلان کیا، جس کے نتیجے میں علیحدگی پسند قوتوں نے ہتھیار ڈال دیے۔
ترکیہ ان اولین ممالک میں شامل ہے جنہوں نے خوجالی کے واقعے کو قتلِ عام قرار دیا اور متاثرین کے لیے انصاف کا مطالبہ کیا۔ انقرہ کا مؤقف ہے کہ خوجالی کے شہداء کو یاد رکھنا اور انصاف کی کوششیں جاری رکھنا علاقائی امن اور تاریخی حقائق کے اعتراف کے لیے ناگزیر ہے۔
