ترکیہ آج اپنے پہلے مقامی طور پر تیار کردہ طیارے "ویجیھی کے-6” (Vecihi K-VI) کی تاریخی پرواز کی صد سالہ یاد منا رہا ہے، جو 28 جنوری 1925 کو معروف ہواباز اور انجینئر ویجیھی ہرکوش نے کامیابی سے انجام دی تھی۔ یہ طیارہ ترکیہ کی فضائی تاریخ میں عزم، جدوجہد اور خود انحصاری کی علامت سمجھا جاتا ہے۔
ویجیھی ہرکوش نے اس طیارے کی تیاری 24 جون 1923 کو ازمیر میں شروع کی، جب ان کی عمر صرف 29 برس تھی۔ طیارہ تربیتی اور جاسوسی مقاصد کے لیے ڈیزائن کیا گیا تھا اور اس کی تیاری میں جنگِ آزادی کے دوران حاصل کیے گئے یونانی فوجی طیاروں کے پرزے اور انجن استعمال کیے گئے۔ اگرچہ یہ طیارہ ایک سال سے بھی کم عرصے میں مکمل ہو گیا تھا، تاہم تکنیکی منظوری کے فقدان اور بیوروکریٹک رکاوٹوں کے باعث اس کی پہلی پرواز میں تاخیر ہوئی۔
بالآخر، 28 جنوری 1925 کو سہ پہر تین بجے، ویجیھی ہرکوش نے ازمیر کے علاقے سیدیکوئے (موجودہ غازی امیر) سے سرکاری اجازت کے بغیر خود ہی طیارہ فضا میں بلند کیا۔ تقریباً 200 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار کی صلاحیت رکھنے والے اس طیارے نے 15 منٹ کی کامیاب آزمائشی پرواز مکمل کی، جسے دوستوں، حکام اور مقامی شہریوں کی بڑی تعداد نے دیکھا۔
اگرچہ یہ پرواز فنی لحاظ سے مکمل طور پر کامیاب رہی، مگر اجازت کے بغیر اڑان بھرنے پر ویجیھی ہرکوش کو نصف ماہ کی تنخواہ جرمانہ اور دس دن کی نظر بندی کی سزا سنائی گئی۔ اپریل 1925 میں شائع ہونے والے رسالے "رصimli آی” میں انہوں نے اس صورتحال کو ایک ایسے باپ سے تشبیہ دی جو اپنے بیمار بچے کے پاس کھڑا بے بسی سے رو رہا ہو۔ انہوں نے لکھا کہ انہیں اپنے طیارے کی صلاحیتوں پر مکمل یقین تھا، مگر اس کے باوجود پرواز کی اجازت نہیں دی جا رہی تھی، جس پر مجبوراً انہوں نے خود ہی یہ جرات مندانہ قدم اٹھایا۔
ویجیھی ہرکوش نے اپنی زندگی میں 16 طیاروں کے منصوبے تیار کیے اور 1932 میں ترکیہ کا پہلا سول ایوی ایشن اسکول بھی قائم کیا۔ تاہم "ویجیھی کے-6” کو ان کے کام کا بنیادی سنگِ میل قرار دیا جاتا ہے۔
ویجیھی ہرکوش میوزیم ایسوسی ایشن کے سربراہ بہادر گوریر کے مطابق:
"کے-6 ترکیہ کا پہلا شہری طیارہ تھا، جس نے ہماری فضائی ترقی کی بنیاد رکھی۔ اگر آج ہم ہوابازی کے میدان میں آگے بڑھے ہیں تو اس کی شروعات ویجیھی کے-6 ہی سے ہوئی تھی۔”
انہوں نے کہا کہ اجازت کے بغیر، خطرات سے آگاہ ہوتے ہوئے اور سزا کا یقین ہونے کے باوجود اس پرواز کا فیصلہ کرنا جرات، قربانی اور قومی عزم کی ایک سنہری مثال ہے، جسے تاریخ میں ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔
