turky-urdu-logo

میزائل اور جدید ٹیکنالوجی کی تیاری میں ترکیہ کی بڑی پیش رفت

ترکیہ نے دفاعی صنعت میں ایک اور اہم سنگِ میل عبور کرتے ہوئے جدید ٹیکنالوجی پر مبنی دفاعی نظاموں کی تیاری کو مزید تیز اور مضبوط بنانے کا اعلان کیا ہے۔ صدر رجب طیب اردوان نے انقرہ میں دفاعی کمپنی روکیتسان کی نئی پیداواری تنصیبات کے افتتاح کے موقع پر کہا کہ آنے والے وقت میں ترکیہ کا بنیادی ہدف جدید ہتھیاروں اور دفاعی نظاموں کو زیادہ رفتار اور بڑی تعداد میں تیار کرنا ہے۔

تقریب کے دوران نئی فیکٹریوں کا افتتاح کیا گیا جبکہ مزید منصوبوں کی بنیاد بھی رکھی گئی۔ اس موقع پر سکیورٹی فورسز کو جدید دفاعی مصنوعات بھی فراہم کی گئیں۔ صدر اردوان نے کہا کہ گزشتہ دو دہائیوں میں کی گئی مسلسل سرمایہ کاری کے نتیجے میں ترکیہ نے دفاعی میدان میں نمایاں ترقی کی ہے اور اب ملک اپنی زیادہ تر دفاعی ضروریات مقامی سطح پر پوری کرنے کے قابل ہو چکا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ پہلے ترکیہ اپنی دفاعی ضروریات کے لیے تقریباً اسی فیصد بیرونی ممالک پر انحصار کرتا تھا، لیکن اب یہ انحصار کم ہو کر بیس فیصد سے بھی نیچے آ چکا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ نئی سرمایہ کاری سے فضائی دفاعی نظام اور میزائل سازی کی صلاحیت مزید مضبوط ہوگی، جس سے ملک کی دفاعی طاقت میں نمایاں اضافہ ہوگا۔

صدر اردوان نے کہا کہ جدید ٹیکنالوجی، خاص طور پر ڈیجیٹل نظام اور مصنوعی ذہانت، جنگ کے طریقوں کو تیزی سے تبدیل کر رہی ہے۔ ایسے حالات میں جدید اور ذہین دفاعی نظاموں کی تیاری نہایت ضروری ہو چکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ترکیہ کے تیار کردہ دفاعی نظام، خاص طور پر ڈرون ٹیکنالوجی، دنیا بھر میں توجہ حاصل کر رہی ہے اور اس کی وجہ سے دفاعی برآمدات میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔

اعداد و شمار کے مطابق سال دو ہزار پچیس میں ترکیہ کی دفاعی برآمدات میں تقریباً اڑتالیس فیصد اضافہ ہوا اور یہ دس ارب ڈالر سے تجاوز کر گئیں۔ رواں سال کی پہلی سہ ماہی میں بھی برآمدات میں بارہ فیصد سے زائد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ حکومت کا ہدف ہے کہ دو ہزار اٹھائیس تک دفاعی برآمدات کو گیارہ ارب ڈالر تک پہنچایا جائے اور ترکیہ کو دنیا کے دس بڑے دفاعی برآمد کنندگان میں شامل کیا جائے۔

صدر اردوان نے مزید بتایا کہ نئے منصوبوں کے تحت مختلف شہروں میں ایندھن بنانے کی تنصیبات، جدید میزائل مراکز اور تحقیق و انجینئرنگ کے ادارے قائم کیے جا رہے ہیں۔ ان منصوبوں کی مجموعی مالیت ایک ارب ڈالر تک پہنچ چکی ہے جبکہ مستقبل میں یہ سرمایہ کاری تین ارب ڈالر تک بڑھنے کی توقع ہے۔

انہوں نے کہا کہ جدید میزائل اور دفاعی نظام، جن میں مختلف فضائی دفاعی اور سمارٹ ہتھیار شامل ہیں، جلد مسلح افواج کے حوالے کیے جائیں گے۔ ان اقدامات کا مقصد ملک کے دفاع کو مضبوط بنانا اور کسی بھی ممکنہ خطرے کے مقابلے کے لیے مکمل تیاری کو یقینی بنانا ہے۔

ماہرین کے مطابق دفاعی صنعت میں یہ پیش رفت نہ صرف قومی سلامتی کے لیے اہم ہے بلکہ معیشت کے لیے بھی فائدہ مند ثابت ہو رہی ہے، کیونکہ اس سے روزگار کے مواقع بڑھ رہے ہیں اور ملکی ٹیکنالوجی کی صلاحیت میں اضافہ ہو رہا ہے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ جدید دفاعی نظاموں کی تیز رفتار تیاری ملک کو بدلتے ہوئے عالمی حالات میں مزید محفوظ اور خود مختار بنائے گی۔

Read Previous

ترکیہ کی دفاعی صلاحیت میں اضافہ : Roketsan کے Tayfun بیلسٹک اور SOM کروز میزائل ترک افواج کے حوالے

Read Next

ترکیہ میں پہلا اسکن بینک قائم،جدید ٹشو لیبارٹری سے طبی شعبے میں نئی کامیابی

Leave a Reply