ترکی نے یونان کی جانب سے کریٹ کے جنوب میں یکطرفہ توانائی تلاش کی سرگرمیوں پر شدید تنقید کی ہے، جب امریکی کمپنی شیورون کی قیادت میں ایک کنسورشیم نے اس علاقے میں قدرتی گیس کی تلاش کے لیے لیز معاہدوں پر دستخط کیے۔ انقرہ کا کہنا ہے کہ یہ اقدام بین الاقوامی قانون اور علاقائی معاہدوں کی خلاف ورزی ہے۔
ترکی کی وزارت دفاع نے جمعرات کو بیان میں کہا کہ یہ منصوبہ دو ہزار انیس میں ہونے والے ترکی لیبیا سمندری حدود کے معاہدے کی خلاف ورزی کرتا ہے۔ ترکی کے مطابق اس معاہدے میں طے شدہ سمندری حدود کو نظر انداز کرتے ہوئے یونان نے گیس کی تلاش کا عمل شروع کیا ہے۔
اگرچہ انقرہ نے تسلیم کیا کہ مجوزہ ڈرلنگ اس کے اپنے براعظمی شیلف سے براہ راست متصادم نہیں، تاہم اس کا مؤقف ہے کہ یہ سرگرمی دو ہزار پچیس میں لیبیا کی جانب سے اقوام متحدہ میں جمع کرائے گئے سمندری دعووں سے بھی متصادم ہے۔
ترکی نے مزید کہا کہ وہ ایتھنز کی جانب سے کیے جانے والے غیر قانونی اقدامات کے خلاف ردعمل میں لیبیا کے حکام کی حمایت جاری رکھے گا۔
متنازع پانیوں میں اختلاف
یونان کے لیے یہ معاہدہ سمندری علاقے میں توانائی کی تلاش کے لیے دستیاب رقبے میں نمایاں اضافہ کرتا ہے اور سمندر کے اندر توانائی ذخائر کی تلاش کی کوششوں میں نئی رفتار کی علامت سمجھا جا رہا ہے۔
ترکی اور یونان دونوں شمالی اوقیانوس معاہدہ تنظیم کے رکن ہیں اور مشرقی بحیرہ روم اور بحیرہ ایجیئن میں سمندری حدود، فضائی حدود اور قدرتی وسائل کے دعووں پر طویل عرصے سے اختلافات کا شکار رہے ہیں۔
سن دو ہزار تیئیس میں تعلقات بہتر بنانے کے لیے ایک اعلامیہ جاری کیا گیا تھا جس کے بعد دونوں ممالک کے بیانات میں سختی کم ہوئی، تاہم بنیادی تنازعات تاحال حل طلب ہیں۔
