صدر رجب طیب ایردوان کا کہنا تھا کہ ترکیہ PKK دہشتگرد گروہ کو تباہ کرنے اور آخری دہشت گرد کے خاتمے کے لیے پرعزم ہے
صدر ایردوان نے سرحد پار کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ دہشت گرد تنظیم، جس نے ترکیہ کی جنوبی سرحدوں کے ساتھ کیے گئے آپریشنز میں بہت زیادہ نقصان اٹھایا ہے، ہماری سرحدوں پر شہری بستیوں پر حملوں سے معصوموں کا خون بہا کر اپنا مکروہ چہرہ دکھا رہی ہے۔ گزشتہ ہفتے دہشت گردوں نے جنوبی ترکیہ میں دہشت گردانہ حملے کیے۔
دارالحکومت انقرہ میں کابینہ کے اجلاس سے بات کرتے ہوئے صدر ایردوان کا کہنا تھا کہ ہم ایک بار پھر دہشت گرد گروپ کو تباہ کرنے کے اپنے عزم کا اعادہ کرتے ہیں جب تک کہ اس کے آخری عسکریت پسند کو بے اثر نہیں کر دیا جاتا۔ دہشت گردوں نے کارکمیس کے غازی انتپ حملے میں ایک 5 سالہ لڑکے اور ایک 22 سالہ استاد کو قتل کیا تھا۔
صدر ایردوان نے کہا کہ ترکیہ کا اپنی سرحدوں کے ساتھ 30 کلومیٹر گہری حفاظتی پٹی قائم کرنے کا عزم جاری ہے، جو ہم نے پہلے اپنی جنوبی سرحد پر امریکہ اور روس کے تعاون کے ساتھ قائم کرنا چاہی تھی۔ ترک حکام نے شکایت کی ہے کہ واشنگٹن اور ماسکو معاہدے کے مطابق اپنے فرائض نبھانے میں ناکام رہے۔
صدر ایردوان نے مزید کہا کہ ہمیں اپنے وطن اور اپنے لوگوں کی سلامتی سے متعلق اقدامات کرتے ہوئے کسی سے اجازت لینے کی ضرورت نہیں ہے اور ہم کسی کے سامنے جوابدہ نہیں ہوں گے۔
انہوں نے زور دے کر کہا کہ کوئی بھی دھمکیوں کے ذریعے ترکیہ کو سیاسی، سفارتی، اقتصادی اور فوجی لحاظ سے اپنے مفادات کے خلاف کسی بھی پوزیشن پر مجبور نہیں کر سکے گا۔
صدر نے یہ بھی کہا کہ کسی کو بھی ترکیہ کی فوجی کارروائیوں سے پریشان نہیں ہونا چاہیے جس کا مقصد سلامتی اور امن کے دائرہِ کار کو بڑھانا ہے۔
صدر ایردوان نے کہا کہ ہمیں ان لوگوں کی منافقت کو برداشت نہیں کرنا جو رجسٹرڈ دہشت گرد گروہوں کا ساتھ دیتے ہیں۔
انقرہ طویل عرصے سے یہ دعویٰ کرتا رہا ہے کہ دہشت گردی کا کوئی مذہب، زبان، نسل، قومیت نہیں ہے اور کسی دہشت گرد گروہ سے دوسرے دہشت گرد گروہ کی حمایت کر کے لڑنا ممکن نہیں ہے۔
حال ہی میں ترکیہ نے عراق اور شام کے شمالی علاقوں میں آپریشن پنجہ کا آغاز کیا، دہشت گرد گروپ( پی کے کے) کے خلاف سرحد پار فضائی مہم، جس کے عراق اور شام کی سرحدوں کے پار غیر قانونی ٹھکانے ہیں جہاں وہ ترکیہ کی سرزمین پر حملوں کی منصوبہ بندی کرتے ہیں اور بعض اوقات اسے انجام دیتے ہیں۔
20 نومبر کو فضائی آپریشن شروع کرنے کے بعد ایردوان نے دہشت گردی کے خطرے کو ختم کرنے کے لیے شمالی عراق اور شمالی شام میں زمینی کارروائی کا اشارہ بھی دیا تھا۔
