ترکیہ کے وزیرِ ٹرانسپورٹ و انفراسٹرکچر عبدالقادر اورال اوغلو کے مطابق، انفارمیشن اینڈ کمیونیکیشن ٹیکنالوجیز اتھارٹی نے نئی پالیسی کے تحت غیر مطلوب کالز اور ایس ایم ایس کو ان کے ماخذ سے ہی روکنے کے اقدامات شروع کر دیے ہیں۔
حکام کا کہنا ہے کہ حالیہ مہینوں میں شہریوں کی جانب سے غیر ضروری کالز اور پیغامات کے حوالے سے بڑی تعداد میں شکایات موصول ہوئیں، جس کے بعد ان مسائل کے حل کے لیے فوری فیصلے کیے گئے۔
نئے ضوابط کے تحت اب موبائل آپریٹرز صرف اپنے رجسٹرڈ صارفین سے ہی رابطہ کر سکیں گے، جبکہ غیر متعلقہ افراد کو نہ کال کی جا سکے گی اور نہ ہی انہیں تشہیری یا معلوماتی پیغامات بھیجے جا سکیں گے۔
اس کے علاوہ ایسے پیغامات اور کالز پر بھی پابندی عائد کی گئی ہے جو عوام میں خوف و ہراس پھیلانے، گمراہ کرنے یا دھوکہ دہی، جوا اور سٹے بازی سے متعلق ہوں۔
حکام نے خبردار کیا ہے کہ قوانین کی خلاف ورزی کرنے والے آپریٹرز کے خلاف مزید سخت کارروائی کی جائے گی، جس میں ان کی سروسز کو محدود یا معطل بھی کیا جا سکتا ہے۔
نئے اقدامات کے تحت مشکوک نمبرز کے غلط استعمال کو روکنے کے لیے کالر آئی ڈی کے نظام میں بھی تبدیلیاں کی گئی ہیں، جبکہ مخصوص کوڈز سے بھیجے جانے والے پیغامات کو محدود کر دیا گیا ہے۔
اسی طرح بیرونِ ملک سے آنے والے ایسے پیغامات جن میں مشکوک لنکس شامل ہوں، انہیں بھی بلاک کیا جائے گا تاکہ شہریوں کو آن لائن فراڈ سے محفوظ رکھا جا سکے۔
ماہرین کے مطابق یہ اقدامات نہ صرف صارفین کو تحفظ فراہم کریں گے بلکہ ڈیجیٹل کمیونیکیشن کے نظام کو بھی زیادہ محفوظ اور قابلِ اعتماد بنائیں گے۔
ناظرین، یہ پیش رفت اس بات کی یاد دہانی ہے کہ ہمیں بھی اپنی ذاتی معلومات کے تحفظ اور مشکوک کالز یا پیغامات سے محتاط رہنے کی ضرورت ہے۔کیونکہ ایک محتاط شہری ہی محفوظ معاشرے کی بنیاد بنتا ہے
