ترکیہ کی دو یونیورسٹیوں کے طلباء نے غزہ میں شہریوں پر اسرائیل کے جاری فوجی حملوں پر اپنے غم و غصے کا اظہار کرنے کے لیے ایک نیا طریقہ اختیار کیا ہے۔
طلباء نے ایک ویڈیو میں متعدد زبانوں میں پیغامات ریکارڈ کر کے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر شیئر کیے گئے۔
استنبول میں Galatasaray یونیورسٹی اور ترکیہ-جرمن یونیورسٹی کے طلباء نے غزہ میں اسرائیل کے حملوں کے بارے میں اپنے جذبات کا اظہار ایک ویڈیو میں کیا جو انہوں نے ترکیہ، فرانسیسی اور جرمن زبانوں میں بنائی تھی۔
طلباء نے یہ ویڈیو اپنے تعلیمی اداروں کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس کے ذریعے شیئر کی۔
ویڈیو میں طالب علموں نے غزہ پر اسرائیلی حملوں کو ایسے پیغامات میں بیان کیا جیسے فلسطین کے بارے میں بات کرنا بند نہ کریں،مرنے والے صرف انسان نہیں بلکہ انسانیت ہیں،انسانیت کو نظر انداز کیا جا رہا ہے، بمباری کی جا رہی ہے اور مارا جا رہا ہے،اکیسویں صدی میں دنیا کی نظروں کے سامنے غزہ کا محاصرہ کیا جا رہا ہے، لوگ خوراک، پانی، ادویات اور بجلی سے محروم ہیں، اور ساتھ ہی بچوں کا قاتل اسرائیل۔
