ترکیہ کے ایک ماہر موسمیات نے ایسا جدید ابتدائی انتباہی نظام تیار کیا ہے جو اچانک رونما ہونے والے موسمی خطرات کی پیشگی نشاندہی 60 گھنٹے قبل تک کر سکتا ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ پیش رفت قدرتی آفات سے نمٹنے کی تیاری کو مضبوط بنانے اور شدید موسمی حالات سے ہونے والے معاشی نقصانات کو کم کرنے میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔
یہ نظام جامعہ چناق قلعہ اون سیکیز مارت یونیورسٹی کے شعبہ موسمیاتی انجینئرنگ سے وابستہ پروفیسر حسن تاتلی نے تیار کیا ہے۔ ان کے مطابق یہ ماڈل شدید گرمی یا سردی کی لہروں، طوفانی ہواؤں، خشک سالی اور دیگر اچانک شدت اختیار کرنے والے موسمی واقعات کی بروقت پیش گوئی کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
پروفیسر تاتلی کا کہنا ہے کہ یہ ماڈل کسی بھی اچانک موسمی واقعے سے تین سے ساٹھ گھنٹے پہلے تک ابتدائی وارننگ سگنلز فراہم کر سکتا ہے، جس سے متعلقہ اداروں کو تیاری اور خطرات میں کمی کے لیے قیمتی وقت میسر آتا ہے۔
یہ تحقیق برطانیہ کے معروف سائنسی جریدے "کوارٹرلی جرنل آف دی رائل میٹیورولوجیکل سوسائٹی” میں شائع ہوئی ہے۔ رپورٹ کے مطابق یہ چار بُعدی غیر خطی حرکیاتی ماڈل روایتی پیش گوئی نظام کی کمزوریوں کو مدنظر رکھتے ہوئے تیار کیا گیا ہے، جو اکثر اچانک موسمی تبدیلیوں کو بروقت شناخت کرنے میں ناکام رہتے ہیں۔
"انٹیگریٹڈ ارلی وارننگ سسٹم” نامی اس ماڈل میں موسمی پیش گوئی کو ڈائنامک سسٹمز تھیوری کے ساتھ جوڑا گیا ہے اور ایک واحد، آسانی سے سمجھ میں آنے والا خطراتی اشاریہ تشکیل دیا گیا ہے۔ یہ اشاریہ چار بنیادی عناصر پر مبنی ہے: فضائی حساسیت، بحالی کی صلاحیت، خطرے کے پھیلاؤ کا امکان اور رویوں کا ردِعمل۔
پیچیدہ موسمیاتی ڈیٹا کو صفر سے ایک کے درمیان عددی خطراتی قدر میں تبدیل کر کے یہ نظام حکام، ہنگامی منصوبہ سازوں اور اہم انفراسٹرکچر کے منتظمین کے لیے وارننگ کو زیادہ قابلِ عمل بناتا ہے۔
پروفیسر تاتلی کے مطابق یہ نظام زرعی شعبے میں خصوصی اہمیت رکھتا ہے، جہاں اچانک خشک سالی، ٹھنڈ یا شدید بارش پیداوار اور غذائی تحفظ کو متاثر کر سکتی ہے۔ اسی طرح شہری علاقوں میں گرمی کی لہریں اور سیلاب توانائی اور ٹرانسپورٹ نظام پر دباؤ بڑھا سکتے ہیں، جس کے لیے بروقت انتباہ نہایت ضروری ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ شدید موسمی واقعات اکثر سلسلہ وار اثرات پیدا کرتے ہیں، جیسے سیلاب یا جنگلاتی آگ کا پھیلاؤ، اور یہ نظام ایسے مرکب خطرات کی نشوونما سے قبل ہی خبردار کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
پروفیسر تاتلی کے مطابق انسانی سرگرمیوں کے باعث ہونے والی ماحولیاتی تبدیلیوں نے شدید بارشوں، ژالہ باری اور طوفانوں جیسے واقعات کی شدت اور تعداد میں اضافہ کیا ہے۔ تاہم انہوں نے زور دیا کہ قدرتی خطرات کو مکمل طور پر روکنا ممکن نہیں، مگر بروقت تیاری کے ذریعے انہیں بڑے سانحات میں بدلنے سے روکا جا سکتا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ تیاری ہی فیصلہ کن عنصر ہے، اور ابتدائی انتباہی نظام قدرتی واقعات کو بڑے پیمانے کی آفات میں تبدیل ہونے سے روکنے کے مؤثر ترین ذرائع میں شامل ہیں۔
