استنبول میں عالمی اقتصادی فورم کے تحت منعقدہ ترکیہ کنٹری اسٹریٹیجی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے صدر رجب طیب ایردوان نے کہا ہے کہ خطے کو ہلا کر رکھ دینے والی “بے معنی، غیر قانونی اور غیر ضروری جنگ” کی قیمت صرف فریقین نہیں بلکہ پوری انسانیت ادا کر رہی ہے۔
صدر ایردوان نے مشرقِ وسطیٰ میں جاری جنگ کے تناظر میں مکالمے اور سفارت کاری کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ جب بات چیت اور سفارتی ذرائع مشترکہ راستہ فراہم کرتے ہیں تو ان کوششوں کو سبوتاژ کرنے کا بوجھ پوری دنیا پر پڑتا ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر تنازعات ختم نہ ہوئے تو اس کی قیمت مزید بڑھے گی اور جغرافیائی فاصلے بھی کسی ملک کو محفوظ نہیں رکھ سکیں گے۔
انہوں نے کہا کہ جنگ کے اثرات عالمی سطح پر توانائی کی منڈیوں، پیداوار، انفارمیشن ٹیکنالوجی، ٹرانسپورٹ اور تجارتی نیٹ ورکس پر واضح طور پر محسوس کیے جا رہے ہیں۔ صدر ایردوان کے مطابق حالیہ برسوں میں عالمی معیشت وبا کے بعد بحالی، سبز اور ڈیجیٹل تبدیلی، بڑھتی تجارتی کشیدگی اور جغرافیائی سیاسی حالات کے زیر اثر رہی ہے۔
صدر ایردوان نے مزید کہا کہ بڑھتے ہوئے توانائی کے خطرات، کمزور سپلائی چینز اور تحفظ پسند معاشی پالیسیوں نے عالمی معیشت کو مزید غیر مستحکم بنا دیا ہے، جس کے باعث کم ہی معیشتیں پائیدار استحکام برقرار رکھ پا رہی ہیں۔
اجلاس کا موضوع “عالمی مرکز میں ترقی: مسابقت اور لچک کو مضبوط بنانا” تھا، جس میں عالمی معیشت میں ترکیہ کی پوزیشن اور تعاون کے مواقع پر تفصیلی گفتگو کی گئی۔
اس موقع پر 16 ممالک سے تعلق رکھنے والے 23 بین الاقوامی سرمایہ کاروں نے بھی شرکت کی، جو مجموعی طور پر 1.2 ٹریلین ڈالر کے مختلف شعبوں کی نمائندگی کر رہے تھے۔ اجلاس میں ترکیہ کے کردار، سرمایہ کاری کے امکانات اور طویل المدتی ترقی کے مواقع کا جائزہ لیا گیا۔
اجلاس میں بلیک راک کے چیف ایگزیکٹو لارنس فنک اور عالمی اقتصادی فورم کے عبوری صدر الائس زونگی نے بھی شرکت کی۔
مختلف سیشنز میں وزیر خزانہ مہمت شمشیک نے معاشی اصلاحات اور سرمایہ کاری پالیسیوں، وزیر توانائی الپ ارسلان بایراکتار نے توانائی کے تحفظ اور تنوع، جبکہ وزیر خارجہ حاقان فیدان نے علاقائی استحکام اور بین الاقوامی تعاون میں ترکیہ کے کردار پر روشنی ڈالی۔
اجلاس میں ترکیہ کی مسابقت بڑھانے، معیشت کو زیادہ مضبوط بنانے، پائیدار ترقی کی حمایت اور براہِ راست غیر ملکی سرمایہ کاری کو تیز کرنے کے لیے عملی تعاون کے مختلف شعبوں پر بھی غور کیا گیا۔
