ترک صدر رجب طیب ایردوان نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 76 ویں اجلاس سے خطاب کیا۔
خطاب میں صدر ایردوان نے امت مسلمہ کو درپیش مسائل پر کھل کے بات کی۔
انہوں نے اقوام متحدہ کی سیکیورٹی کونسل کے پانچ مستقل اراکین پر کڑی تنقید کی جن کی وجہ سےدنیا مسائل کا شکار ہے۔
صدر ایردوا ن کا اجلاس سے خطاب
صدر ، حکومت اور مملکت کے معزز سربراہ، معزز سیکرٹری جنرل اور معزز وفود
اپنی اور اپنی قوم کی طرف سے میں آپکو تہہ دل سے سلام پیش کرتا ہوں۔
میری خواہش ہے کہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کا 76 واں اجلاس ہمارے ملک اور پوری انسانیت کے لیے فائدہ مند ثابت ہو۔
مجھے 2 سال بعد جنرل اسمبلی میں آکر دوبارہ آپ سے مخاطب ہوتے ہوئے بہت خوشی محسوس ہو رہی ہےکیونکہ پچھلے 2 سالوں کے دوران ہم سب انسان بہت ہی تکلیف دہ وقت سے گزرے ہیں۔
ہم نے کورونا وائرس کی عالمی وبا کے دوران اپنے دوستوں ، رشتہ داروں اور پیاروں سمیت 45 لاکھ لوگوں کو کھو دیا ہے جسے رواں صدی کا سب سے بڑاصحت کا بحران قرار دیا گیا ہے۔
تمام کوششوں اور ویکسینشن میں پیش رفت کے باوجود ہم نے وبا کے منفی اثرات کے تسلسل کو دیکھا ہے۔
یہ ماحول جو ہم اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 76 ویں سیشن میں دیکھ رہے ہیں اس سے مجھے اس بات کا یقین ہو رہا ہے کہ یکجہتی اور تعاون کے پیغامات جو یہاں پہنچائے گئے ہیں وہ نہ صرف وبائی امراض کے خلاف لڑنے میں مدد فراہم کریں گے بلکہ ان لاکھوں لوگوں کو بھی امید دلائیں گے جو اس وقت مشکل وقت سے گزر رہے ہیں۔
ہمیں جنرل اسمبلی کو مضبوط کرنے کی ضرورت ہے تاکہ عالمی برادری عالمی مسائل میں زیادہ موثر کردار ادا کرسکےاور میں اس موقع پر 75 ویں جنرل اسمبلی کے صدر مسٹر وولکا ن بوزکیر کے اس سمت میں کی گئی بہترین کاوشوں کے لیے شکریہ ادا کرنا چاہتا ہوں اور مجھے یقین ہے کہ جناب عبداللہ شاہد جنہوں نے حال ہی میں 76ویں جنرل اسمبلی کی صدارت شروع کی ہے اور مجھے یقین ہے کہ وہ اس پرچم کو مزید بلندیوں تک لے کر جائیں گے
اور بطور ترکی ہم اپنی ذمہ داریاں پوری کرتے رہیں گے تاکہ جنرل اسمبلی اپنی سرگرمیاں انتہائی موثر طریقے سے انجام دے سکے۔
اس موقع پر میں انتونیو گوئتریس کو بھی مبارکباد پیش کرنا چاہتا ہوں جنہوں نے اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل میں کامیابی حاصل کرکے دوبارہ کام شروع کیا ہے ۔
یہ انتہائی افسوس ناک بات ہے کہ اس سال جنرل اسمبلی اجلاس کا عنوان امید میں لچک پیدا کرنے پر رکھا گیا ہے۔
سب سے پہلے میں ایک حقیقت سامنے رکھنا چاہتا ہوں جسے سننا چاہے کتنا ہی تکلیف دہ کیوں نہ ہو۔
بد قسمتی سے اس وبائی مرض کے دوران ہمیں اس بات کی یاددہانی ہوئی ہے کہ پوری دنیا ایک بڑے خاندان کا حصہ ہے لیکن یکجہتی کے امتحان میں ہم بری طرح ناکام ہوئے ہیں خاص طور پر پسماندہ ممالک اور معاشرے کے غریب طبقات وبائی مرض کے دوران اپنے ہی بھروسے چھوڑ دیے گئے ہیں ۔
عالمی نظام کا مسخ شدہ ڈھانچہ جو مسائل کو حل کرنے کے بجائے بڑھا رہا ہے اور ان مسائل کو مزید گہرا کرتا جا رہا ہے اور ان مسائل کا حل نہیں نکال پا رہا اور ساتھ ہی ساتھ دنیا بھر میں جانی نقصان میں بھی حصہ ڈال رہا ہے ۔
اس وقت جب لاکھوں لوگ اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں اور لاکھوں لوگ وائرس کے لپیٹ میں ہی یہ انسانیت کے لیے بد نامی ہے لیکن پھر بھی مختلف طریقوں سے ویکسین کی کرپشن ابھی بھی جاری ہےیہ واضح ہے کہ کورونا وائرس وبائی مرض کے باعث ہونے والی عالمی تباہی کو صرف بین الاقوامی تعاون اور یکجہتی کے ذریعے ی قابو کیا جا سکتا ہے جب تک تمام ملک اس وبائی مرض سے آزاد نہیں ہو جاتےکسی بھی ملک کے لیے اپنے بل بوتے پر محفوظ رہنا ممکن نہیں ہے۔
ہم امید کرتے ہیں کہ جو بل ہم جنرل اسمبلی میں پیش کریں گے وہ اس حقیقت کو سمجھنے میں ایک اہم موڑ ثابت ہوگا۔
وبائی امراض کے دوران عالمی تعاون کی اہمیت کے علاوہ میڈیکل سائنس نے جو ترقی حاصل کی ہے اس کا مشاہدہ کرنے کا موقع ملا ہے ہمیں اس بات پر فخر ہے کہ ڈبلیو ایچ او کی منظور کردہ پہلی ویکسین جرمنی میں ترکی کے دوسائنسدانوں نے تیار کی ہے۔
ہم نے بطور ترکی پہلے دن سے ہی دنیا بھر میں اپنے دوستوں ، بھائیوں اور بہنوں کے ساتھ اپنی صلاحیتوں کو باٹنے کی کوشش کی ہے جو بلکل ہمارے عقیدے کے مطابق ہے کہ لوگوں کو زندہ رہنے دیا جائے تاکہ ریاست زندہ رہ سکے۔
ایک طرف جہاں ہم نے اپنے شہریوں کو صحت کی بہترین سہولیات فراہم کیں وہیں ہم نے 159 ملکوں اور 12 بین الاقوامی تنظیموں کو امداد بھجوائی۔
اس موقع پر میں آپکو مخاطب کرنا چاہتا ہوں کہ مستقبل میں ہم ترکو ویک کے نام سے ویکسین جاری کریں گےجو پوری انسانیت اور ہماری قوم کے لیے فائدہ مند ثابت ہوگی۔
ہم عالمی صحت کی تنظیموں کو مضبوط بنانے اور وبائی امراض کے خلاف کنونشن کی تیاری کے لیےکیے جانے والے اقدامات کی حمایت کرتے ہیں۔
ہم خاص طور پر اس بات پر بھی زور دیتے ہیں کہ لوگوں کے سماجی اور معاشی زندگی کے تسلسل کے درمیان
توازن قائم کیا جائے۔
معزز وفود یہ واقعات جو ہم دیکھ رہے ہیں ہمیں ایک بار پھر حقیقت یا ددلاتے ہیں کہ ہماری خوشیاں اور غم ،ہماری تکلیفیں اور کامیابیاں ،ہمارے مسائل اور انکے حل سب ایک جیسے ہیں۔
جب کوئی پوری تیاری کے ساتھ کام کرتا ہے تو اسکا اثر پوری انسانیت پر پڑتا ہے ناں کہ صرف بڑے ملکوں پر ہم نے انتہائی تکلیف دہ شکل میں افغانستان میں اسکی مثال دیکھی ہے کہ مسائل کا حل دباؤ کے طریقوں سے نہیں نکالا جا سکتا جو زور زبردستی سے مسائل حل کرسکیں ،افغانستان کے لوگوں کو تنہا چھوڑ دیا گیا تھا انہیں عدم استحکام اور 4 دہائیوں سے زائد عرصے سے جاری تنازعات کے نتائج کے ساتھ چھوڑ دیا گیا تھا۔
سیاسی عمل کے علاوہ افغانستان کو عالمی برادری کی مدد اور یکجہتی کی ضرورت ہے ہمیں امید ہے کہ ملک میں جلد امن واستحکام اور سلامتی قائم ہو جائے گی اور افغان عوام سکون کی سانس لیں گے اور بطور ترکی ہم مشکل وقت میں افغانستان میں اپنے فرائض بخوبی انجام دیتے رہیں گے۔
انسانیت کی تباہی میں 10 سال گزر چکے ہیں اور یہ سب پوری دنیا کی آنکھوں کے سامنے ہے کہ لاکھوں لوگ اپنی جان سےہاتھ دھو بیٹھے ہیں اور لاکھوں لوگ اب تک بے گھر ہو چکے ہیں جبکہ ہمارا ملک ان تباہیوں کو روکنے میں لگا ہے ۔
ہم اس دہشت گرد تنظیم کے خلاف بھی لڑ رہے ہیں جس نے اس خطے کو ڈبو دیا ہے ۔
ہم واحد ایسے اتحادی ہیں جس نے داعش کا مقابلہ کیا اور اس تنظیم کو شکست دی۔
ایک بار پھر اپنی ثابت قدمی کے ساتھ ہم شام میں پی کے کے دہشت گرد تنظیم کی طرف سے کی جانے والے دہشت گرد سرگرمیوں کو روکنے کے لیے تیار ہیں۔
ہماری کوششوں کے نتیجے میں ہم 4 لاکھ 62 ہزار شامی لوگوں کو انکے علاقں میں پہچانے میں کامیاب ہوئے اورانہیں وہاں سیکورٹی بھی فراہم کی۔
اسی طرح اگلیپت میں اپنی ثابت قدمی کی بدولت ہم لاکھوں لوگوں کی زندگیاں بچا رہے ہیں اور انہیں بے گھر ہونے سے بچا رہے ہیں۔
عالمی برادری شام کے بحران کو مزید 10 سال تک جاری رہنے کی اجازت نہیں دے سکتی ہمیں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد 254 کی بنیاد پر مسئلے کا سیاسی حل تلاش کرنے کے لیے کوشش کرنے کی ضرورت ہے جو شامی عوام کی توقعات پر پورا اترے ہم اقوام متحدہ کے انسانی ہم آہنگی کے طریقے کار کی توسیع کا خیر مقدم کرتے ہیں جو شام کے شمال مغرب میں ترکی کے قریب 12 ماہ کے لیے کیاگیا ہے۔
ہم امید کرتے ہیں کہ کونسل اس مسئلے پر دکھائی جانے والی مفاہمت کو سیاسی عمل کے ساتھ امید دلانے اور پناہ گزینوں کو محفوظ طریقے سے واپس پہنچانے کی یقین دہانی کرانے پر عمل کرے گی ۔
میں ایک بار پھر آپ سب کی موجودگی میں یہ کہنا چاہتا ہوں کہ خطے میں دہشت گرد تنظیموں کے درمیان کوئی فرق کرنا ناقابل قبول ہے۔
دنیا کے مختلف ممالک میں گذشتہ 10 سالوں سے ہونے والے دہشت گرد سرگرمیوں سے یہ بات صاف ظاہر ہے کہ دہشت گرد نا صرف ہمارا مشترکہ دشمن ہے بلکہ یہ پوری انسانیت کا دشمن ہے دہشت گرد تنظیم کے خلاف ہماری جدوجہد شام کی علاقائی سالمیت اور ہماری قومی سلامتی پر لاحق خطرے کے حل ہونے تک جاری رہے گی۔
ہمارے ملک میں شامیوں کے علاوہ دیگر پناہ گزین بھی موجود ہیں جن کی تعداد اب تک 10 لاکھ سے تجاوز کر چکی ہے۔
افغانستان میں موجودہ حالات کے باعث ہمیں وہاں سے نقل مکانی کرنے والے لاکھوں مہاجرین کی آمد کے امکان کا سامنا ہے۔
ایک ایسے ملک کے طور پر جس نے شام کے بحران میں انسانی وقار کو بچایا اب اسکے پاس مزید پناہ گزینوں کو پناہ دینے کی جگہ نہیں ہے۔
اب وقت آگیا ہے کہ تمام اسٹیک ہولڈرز اس مسئلے میں اپنا کردار ادا کریں 1951 جنیوا کنونشن اور بین الاقوامی انسانی قانون لکھنے والوں کے لیے ایک مکمل رویہ رکھنے کی ضرورت ہے۔
معزز وفود لیبیا میں بین الاقوامی جواز کے لیے ہماری بھر پور حمایت کی بدولت جنگ بندی کا اعلان کیا گیا اور پھر صدارتی کونسل اور قومی اتحاد کی حکومت نے کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہم عوامی خدمات کی فراہمی اور تمام اداروں کو یکجا کرنے کے لیے اتحادی حکومت کے اقدامات کی حمایت جاری رکھیں گے اور انتخابات کو مکمل طور پر منظم کریں گے۔
میں نے لیبیا کی عوام سے جائز حکومت کے ساتھ کھڑے ہونے کی اپیل کی ہے جو لیبیا کے تمام علاقوں پر حکومت کرے گی ہمارے خطے میں عدم استحکام اور امن و سلامتی کے لیے سب سے اہم مسئلہ اسرائیل اور فلسطین کا تنازعہ ہےجب تک فلسطینی عوام پر ظلم ہوتا رہے گا تب تک مشرقی وسطی میں امن ممکن نہیں ہے۔
اس وجہ سے حملہ ، الزام تراشی اور غیر قانونی تصفیہ کی پالیسی فوری طور پر ختم ہونی چاہیے ہم یروشلم پر اسرائیلی قبضے کے خلاف ہمیشہ کھڑے رہیں گے جو اقوام متحدہ کی قرار داد پر مبنی ہے اور قبلہ اول اور فلسطینی عوام کے خلاف ہے۔
امن عمل اور 2 ریاستوں کی تقسیم کو مزید تاخیر کے بغیر حل کرنا ہوگا 1967 کی سرحدوں کی بنیاد پر بیت المقدس کے ساتھ فلسطینی ریاست کی آزاد اور خود مختار ریاست کا قیام ہمارے بنیادی مقاصد میں سے ہے۔
آزربائیجان نے اپنے دفاع کے حق کو استعمال کرتے ہوئے خطے میں استحکام کے لیے حال ہی میں اہم اقدامات کیے
اس ترقی نے خطے میں پائیدار امن کے قیام کے لیے نئے مواقع فراہم کیے ہیں ہم اس میں شامل فریقوں کی طرف سے اٹھائے جانے والے ہر مثبت قدم کی حمایت کے لیے پرعزم ہیں۔
یوکرین کی علاقائی سالمیت اور حاکمیت کے تحفظ کے ساتھ کراینیا کی اہمیت کو قبول نہیں کرتے۔
چین کی علاقائی سالمیت کے تناظر میں ہم سمجھتے ہیں کہ راوگلیور ترک کےمسلمانوں کے بنیادی حقوق کے تحفظ
کے لیے مزید کوششیں کرنے کی ضرورت ہے۔
ہم فریقین کے درمیان بات چیت کے ذریعے اور متعلقہ اقوام متحدہ کی قرارداد کے فریم ورک کے اندر 74 سالوں سے جاری کشمیر کے مسئلے کو حل کرنے میں اپنا کردار ادا کر رہے ہیں۔
ہم بنگلہ دیش اور میانمار میں موجود کینٹس میں رہنے والے روہنگیاں مسلمانوں کے با عزت اور محفوظ طریقے سے اپنے ملک واپس جانے کی بھی حمایت کرتے ہیں۔
اس سوال کا منصفانہ دیرپا اور پائیدار حل صرف نتیجہ خیز حقیقت اور پسندانہ نقطہ نظر سے ممکن ہے۔
جب کے جزیریے پر موجود 2 لوگوں میں سے ایک جنہیں اقوام متحدہ برابر سمجھتی ہے لیکن یہ بات کہنا مناسب نہیں ہے کہ وہ دونوں لیڈر ہیں اور اس پلٹ فارم سماعت نہیں کر سکتےاس کے حل کے لیے یہ ضروری ہے کہ ترک عوام کے خود مختار معیار اور مساوی بین الاقوامی حیثیت کی تصدیق کریں جو جزیرے کے شریک مالک ہیں اس لیے ترکوں کی طرف سے پیش کیے گئے حل کی حمایت کرنی چاہیے۔
میں بین الاقوامی برادری سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ ترکوں کے خیالات کو کھلے زہن سے تسلیم کریں۔
مشرقی بحیرہ روم کے علاقے میں پرسکون ماحول کا تسلسل ہمارا مشترکہ مفاد ہے ہم امید کرتے ہیں کہ سمندری حدود کے حوالے سے مسئلہ بین الاقوامی قانون اور اچھے پڑوسی تعلقات کے فریم ورک کے اندر حل کیا جائے گامگر اسکے لیے ضروری ہے کہ سب سے پہلے اس ذہنیت کو ختم کرنا ہوگا ک مشرقی بحیرہ روم میں ترکی کی مدد سے بہتری نہیں آسکتی۔
ہماری مشرقی بحیرہ روم میں کانفرنس کے انعقاد کی تجویز جس کے اندر خطے میں ہونے والے تمام کاموں کو کرنے کے طریقے بتائے جائیں گے ابھی بھی مذاکرات اور تعاون کے میز پر موجود ہیں۔
اسی طرح ہم سمجھتے ہیں کہ ایجیئن سمندر کا مسئلہ دو طرفہ بات چیت کے ذریعے حل ہونا چاہیے۔
ہم یورپی یونین کی رکنیت کے عمل میں بھی اپنے عزم کو برقرار رکھے ہوئے ہیں۔
ہم براعظم اور افریقی یونین کے ساتھ مکمل یکجہتی رکھتے ہیں اور آج بھی افریقہ کے ساتھ اپنے گہرے دو طرفہ تعلقات پر اپنا کردار ادا کر رہے ہیں جو 2 صدیوں پرانے ہیں۔
اسی وجہ سے ہم مستقبل قریب کے اندر ترکی میں تیسرا ترکی افریقہ پارٹنر شپ سمٹ کو منعقد کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
اپنے نئے اقدامات کے ساتھ ہم یورپ اور ایشیا کے درمیان ترکی کی حیثیت کو یکجا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں بلکل ویسے ہی جیسے ہم امریکہ اور کینیڈا کے ساتھ اپنے تعلقات کو دو طرفہ اور کثیر الجہتی پلیٹ فارم کے ذریعے بہتر بنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔
ترکی ایک محفوظ، پرامن، خوشحال اور مساوی دنیا کی تکمیل کے لیے کیے جانے والے اقدامات میں ہمیشہ سے دنیا کے شانہ بشانہ ہے۔
معزز وفود، جبکہ زمین اپنے پر ہزاروں نسلوں کے جانداروں کو رہنے کی جگہ فراہم کرتی ہے تو وہ اپنے اس عمل کے بدلے میں ہم سے صرف قدرت کا خیال رکھنا ہی مانگتی ہے۔
بد قسمتی سے قدرت نے انسانوں کی ترقی کے لیے جو وسائل دیے ہیں انسان صدیوں سے انہیں بہت ہی لاپرواہی اور برے طریقے سے استعمال کر رہے ہیں۔
صدیوں تک جاری رہنے والے اس عمل کے بعد اب ہم ان خطرات کا سامنا کر رہے ہیں جو مکمل طور پر ہم انسانوں کی غلطیوں کا نتیجہ ہیں۔
مسائل جنہیں ہم موسمیاتی تبدیلی، فضائی آلودگی ، پانی اور غذائی تحفظ جیسے ناموں سے پکارتے ہیں وہ اب اس حد تک بڑھ چکے ہیں کہ ہمیں اپنی آنے والی نسلوں کے خوشحال اور محفوظ مستقبل کی سخت فکر کرنی چاہیے۔
ان مسائل میں سے ایک موسمیاتی تبدیلی ہے جس پر ہمیں خاص طور پر توجہ دینی چاہیےیہ تبدیلیاں موسمی پریشانیوں کے ساتھ ساتھ بد ترین نتائج اور غیر یقینی صورتحال کا باعث بنیں گی۔
کاربن ڈائی آکسائیڈ ، میتھین اور نائٹروجن آکسائیڈ جیسی گیسیں جوکہ صنعتی دور سے پہلے کے مقابلے میں 50 فیصد سے زیادہ بڑھ چکی ہیں یہ سب دنیا کے درجہ حرارت کو بڑھانے میں ایک مرکزی کردار ادا کر رہی ہیں۔
درحقیقت اب کچھ عرصے سے پوری دنیا میں آفات پیش آرہی ہیں جس کی وجہ صنعتی دورکے باعث درجہ حرارت میں 1.1 ڈگری سینٹی گریڈ اضافہ ہے۔
ہم غیر معمولی واقعات کا سامنا کر رہے ہیں جیسے ایشیا اور یورپ میں سیلاب ،امریکہ میں سمندری طوفان ،افریقہ میں ٹراوٹ ،بحیرہ روم میں آگ ،سبز زمین کی چوٹی پر بارش اور ریگستان میں برف گرنا یہ آفات صرف ماحول اور ایکو سسٹم کو نقصان نہیں پہنچا رہی بلکہ لوگوں کی جائیدادوں اور زندگیوں کو بھی نقصان پہنچا رہی ہیں۔
کئی جگہوں پر لوگ ایک جگہ سے دوسری جگہ ہجرت کرنے کا سوچ رہے ہیں تاہم دنیا نے ابھی تک شام اور افغانستان جیسے علاقوں میں تنازعات کے بحران کی وجہ سےپیدا ہونے والے پناہ گزینوں کو پیش آنے والے مسائل کا کا حل نہیں تلاش کیا ہے۔
اس وقت ہم یہ نہیں جانتے کے خشک سالی اور خوراک کی قلت جیسے عوامل کے باعث سیکڑوں لوگوں کی نقل مکانی سے کیسے نمٹا جائے۔
موسمیاتی تبدیلی کا سب سے زیادہ اثر میٹرپولیٹنٹ کے درمیان میں رہنے والے لوگوں پر نظر آتا ہے،آب و ہوا کی تبدیلی کا سب سے بڑا ثر شہروں کے مراکز میں دیکھا جا رہا ہے۔
مثال کے طور پر ، نیویارک شہر جہاں ہم اس وقت موجود ہیں بہت ہی مشکل اور خطرناک وقت سے گزرا ہے ۔
یہ ہفتے کے دوران 2 سمندری طوفانوں سے متاثر ہوا جس کے نتیجے میں ہر 5 سو سالوں میں بارش دیکھنے میں آتی ہے۔
مغربی یورپ میں بارش کے باعث ہونے والی تباہی کی ابھی تک مرمت نہیں کی جا سکی اگرچہ ہم بطور ترکی اپنے انتہائی مشکل دنوں کے تجربے کے ساتھ اس سلسلے میں انتہائی تیز اور موثر حل پیش کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
عالمی انفراسٹرکچر کا ایک اہم حصہ انسانی ترقی کی گزشتہ 2 صدیوں کی ایک دو طرفہ پیداوار ہے لہذا موجودہ انفراسٹرکچر کے ساتھ موسمیاتی تبدیلی کی منصوبہ بندی کو سنبھالنا ممکن نہیں ہے۔
عالمی درجہ حرارت میں مسلسل اضافہ دنیا کے تمام شعبوں میں ہمیں نئے حصول کی طرف لے کر جا رہا ہے مثال کے طور پر، اب یہ ضروری ہو گیا ہے کہ شہری منصوبہ بندی موسمیاتی تبدیلی کے نتائج کو سامنے رکھتے ہوئے کیے جائے ایک اور خطرہ جو دنیا کے لیے تیزی سے بڑھ رہا ہے وہ یہ ہے کہ جنگلات سب سے زیادہ کاربن کو جذب کرنے کا کام کرتے ہیں مگر ایک طرف بڑھتی ہوئی زمینی ترقی اور جنگلات میں لگنے والی آگ کے باعث انکے ختم ہونے کے خطرات لاحق ہو رہے ہیں۔
بڑھتے ہوئے درجہ حرارت سے متا ثرہونے والا ایک اور علاقہ سمندر ہیں پانی کی بڑھتی تعداد اور گلیشیئرز پگھلنے سے گزشتہ صدیوں میں سمندر کی سطح کے اندر 20 سینٹی میٹر اضافہ ہوا ہے۔
یہ گذشتہ 3 ہزار سالوں میں ہونے والا سب سے تیز اضافہ ہے اگر مؤثر اقدامات نہیں کیے گئے اور گیسوں کی تعداد بڑھتی گئی تو توقع ہے کہ صدی کے آخر تک سمندر کی سطح میں 1 میٹر سے زیادہ اضافہ ہو جائے گا۔
ان تبدیلیوں کا مطلب ہے کہ جزائر ریاستوں میں ساحلی شہروں کا اہم حصہ مکمل طور پر ختم ہو جائے گا یقینا یہ صورت حال ہجرت کرنے والے لوگوں کی ایک نئی لہر کو بھی پیدا کرئے گی۔
میں آپ کی توجہ اس حقیقت کی طرف لانا چاہتا ہوں کہ یہ تمام مسائل صرف درجہ حرارت میں 1.1 ڈگری سینٹی گریڈ کے اضافے سے پیدا ہوئے ہیں۔
میں یہ فیصلہ آپ پر چھوڑتا ہوں کہ اگر درجہ حرارت 1.5 سینٹی گریڈ یا 2 سینٹی گریڈ یا اس سے بھی زیادہ ہو جائے تو کیا ہوگا۔
معزز وفود، تمام پیش رفتوں کے بعد ہم 2015 میں آب و ہوا کی تبدیلیوں سے لڑنے کے لیے اکھٹے ہوئے اور پیرس آب و ہوا کے معاہدے پر اتفاق کیا۔
اس معاہدے کے اصولوں کے تحت صدی کے وسط تک درجہ حرارت 1.5 ڈگر سینٹی گریڈ تک چلا جائے گا تاہم موجودہ تبدیلیوں سے پتہ چلتا ہے کہ اگر یہ اقدامات صحیح معنوں میں نہیں کیے گئے تو ایسا ممکن نہیں ہوگا ممکن ہے کہ کورونا وائرس وبائی مرض کو روکنے کے لیے جو ویکسین تیار کی گئی ہے وہ کارآمد ثابت ہو تاہم موسمیاتی تبدیلی سے لڑنے کے لیے لیبارٹری میں حل تلاش کرنا ایک سوال ہے اسی وجہ سے موسمی تبدیلی کے بارے میں ہم اپنے موٹو کو بار بار دہراتے رہتے ہیں۔
دنیا 5 ممالک سے زیادہ بڑی ہے ، جس نے بھی ہمارے ماحول، ہمارے پانی ، ہماری مٹی اور زمین کو سب سے زیادہ نقصان پہنچایا ہے اور جس نے بھی قدرتی وسائل کو بڑے پیمانے پر تباہ کیا ہے اسے بھی موسمیاتی تبدیلی کے خلاف جنگ میں سب سے بڑا حصہ ڈالنا چاہیے اس وقت کوئی بھی اپنی دولت کے بل بوتے پر یہ نہیں کہہ سکتا کہ میں طاقتور ہوں اس لیے میں اس نقصان کو بھرنے میں مدد نہیں کروں گا کیونکہ موسمیاتی تبدیلی سب انسانوں کے ساتھ ایک جیسا سلوک کرئے گی۔
یہ یورپی یا ایشیائی ، امریکی یا افریقی ، امیر یا غریب کے فرق کے بغیر سب کے ساتھ یکساں سلوک کرے گا۔
ہم سب کی یہ ذمہ داری ہے کہ ہم سب اس خطرے کے خلاف بوجھ کو برابر بانٹیں کے ساتھ اس کے بارے میں اقدامات کریں اور اپنی ذمہ داریوں کو حقیقی اور فوری طور پر پورا کریں۔
بطور ترکی ہم اس ذہنیت کے ساتھ کام کرتے ہیں کہ ہم ان ممالک میں شامل ہیں جنہوں نے پیرس موسمیاتی تبدیلی کے معاہدے پر سب سے پہلے دستخط کیے تھے تاہم ابھی تک ہم نے اس معاہدے کی توثیق نہیں کی ہے کیونکہ بوجھ کا باٹنے سے متعلق ناانصافی کی جارہی ہے۔
میں یہاں پوری دنیا کے سامنے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے پلیٹ فارم سے اعلان کرنا چاہتا ہوں کہ ہم نے حال ہی میں معاہدے کے فریم ورک کے اندر ہونے والی پیش رفت کے بعد فیصلہ کیا ہے۔
ہم پیرس ماحولیاتی معاہدے کو اگلے ماہ اپنی پارلیمنٹ میں منظوری کے لیے پیش کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔
گلاسگو میں منعقد ہونے والی اقوام متحدہ کی موسمیاتی تبدیلی کانفرنس سے پہلے ہم نے کاربن نیوٹرل ٹارگٹڈ معاہدے کی مکمل توثیق کا مرحلہ ختم کر دیا تھا۔
ہم اس عمل پر غور کرتے ہیں جس کے لیے ہماری سرمایہ کاری ، مینوفیکچرنگ اور کنٹرولنگ پالیسی میں بنیادی تبدیلی کی ضرورت ہوگی اور یہ ہمارے 2053 کی ویزن کا ایک حصہ ہے۔
بلکل ہمارے پاس موسمیاتی تبدیلی کے حوالے سے دیگر اقدامات ہیں۔
ہم نے یورپی یونین کے گرین ڈیلز کے ساتھ ہم آہنگی کے لیے ضروری ایکشن پلان تیار کیا اور اسے پچھلے مہینے میں نافذ کیا۔
خاتون اول یعنی کہ میری اہلیہ امینہ ایردوان کی زیر قیادت میں زیرو ویسٹ پروجیکٹ کے ساتھ ہم نے اپنی ری سائیکلنگ کی شرح کو 3 سالوں میں 9 پوائنٹس تک بڑھایا۔
ہم خشک سالی کو ختم کرنے کے لیے اپنے جنگل کے اثاثوں کو 20.8 ملین ہیکٹر سے بڑھا کر تقریبا 23 ملین ہیکٹر تک لے کر گئے ۔
ہم نے اپنی بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت میں قابل تجدید توانائی کے وسائل میں 53 فیصد تک اضافہ کیا ہم اپنی صنعت کی ساخت اور بہتر مستقبل کے لیے صاف ستھری پیداوار کی سرگرمیوں کے مطابق اپنی صنعت کی تشکیل نو کے لیے ان اقدامات کو فروغ دے رہے ہیں۔
ہم ضروری مالی مدد حاصل کرکے ان اثرات کو آگے لانے کے لیے پرعزم ہیں۔
ترکی کسی بھی عالمی مسئلےسے لاتعلق نہیں ہے جو بھی بحران سامنے آئے گا ترکی اسکے کے حل میں اپنا کردار ادا کرئے گا اس لیے خواتین و حضرات اپنے تبصرہ کو ختم کرنے سے پہلے میں ایک بار پھر اس بات پر زور دینا چاہوں گا کہ ہمارا ماننا ہے کہ مشکل دور کے باوجود بھی ایک بہتر دنیا کا قیام ممکن ہے۔
اس کا مطلب یہ ہے کہ ہم قوموں کو ان مسائل کو حل کرنے کے لیے ایک منفرد پلیٹ فارم کے طور پر دیکھنا جاری رکھیں گے جو پوری دنیا سے جڑتے ہیں۔
ہماری نئی ترکش عمارت اس عمرت کے بلکل سامنے واقع ہےجس کا ہم نے کل باضابطہ طور پر افتتاح کیا ہے جو کہ اقوام متحدہ کے نظام پر ہمارے اعتماد کی گواہی دیتی ہے۔
دنیا کے 5 سب سے بڑے سفارتی نیٹ ورکس میں سے ایک ملک کے طور پر ہمارے پاس ایک وسیع جغرافیہ میں شعور اور منصفانہ حل کے لیے میدان میں اور میز پر مضبوط موجودگی ہے۔
ہم مکمل طور پر امن ، استحکام ، خوشحالی اور خوشی سے بھر پور دنیا بنا سکتے ہیں۔
میں ایک بار پھر اپنی قوم کی طرف سے آپکو مبارک دیتا ہوں اور 76 ویں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کی کامیابی کی دعا کرتا ہوں آپ سب ہمیشہ خیریت سے رہیں۔
