ترکیہ کی آئینی عدالت کے سربراہ قادر اوزکایا کی قیادت میں وفد نے وزیراعظم شہباز شریف سے ملاقات کی، جس میں پاکستان اور ترکیہ کے درمیان عدالتی تعاون، دوطرفہ تعلقات اور مستقبل کے مشترکہ منصوبوں پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔
وزیراعظم شہباز شریف نے اس موقع پر دونوں ممالک کے درمیان تاریخی اور برادرانہ تعلقات کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان اور ترکیہ نہ صرف سیاسی بلکہ ادارہ جاتی سطح پر بھی تعاون کو فروغ دے رہے ہیں۔ انہوں نے عدالتی شعبے میں جدید ٹیکنالوجی کے استعمال کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ اس سے عوام کو تیز اور مؤثر انصاف کی فراہمی ممکن ہو سکتی ہے۔
پاکستان اور ترکیہ کے درمیان عدالتی تعاون کو مزید مضبوط بنانے کے لیے ترکیہ کی آئینی عدالت کا اعلیٰ سطحی وفد 6 اپریل سے 9 اپریل 2026 تک پاکستان کے دورے پر رہا، جسے دونوں ممالک کے درمیان ادارہ جاتی تعلقات کے استحکام میں ایک اہم سنگِ میل قرار دیا جا رہا ہے۔

دورے کا اہم مرحلہ 6 اپریل 2026 کو اس وقت سامنے آیا جب سپریم کورٹ آف پاکستان میں دونوں ممالک کے درمیان عدالتی تعاون کے فروغ کے لیے مفاہمتی یادداشت پر دستخط کیے گئے۔ اس موقع پر چیف جسٹس یحییٰ آفریدی، وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ اور دیگر اعلیٰ عدالتی حکام موجود تھے۔ تقریب کے بعد مہمان وفد کے اعزاز میں خصوصی ظہرانہ بھی دیا گیا جس میں دوطرفہ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اظہار کیا گیا۔
7 اپریل کو ترک وفد نے پاکستان کے اعلیٰ عدالتی اداروں کا دورہ کیا اور آئینی و عدالتی نظام پر بریفنگ لی۔ اس دوران پاکستانی اور ترک ججز و ماہرینِ قانون کے درمیان ملاقاتیں ہوئیں جن میں عدالتی اصلاحات، مقدمات کے بروقت فیصلوں اور جدید ٹیکنالوجی کے استعمال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
8 اپریل کو وفد لاہور پہنچا جہاں لاہور ہائیکورٹ میں ان کا استقبال کیا گیا۔ چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ عالیہ نیلم سمیت دیگر ججز سے ملاقات میں عدالتی نظام میں بہتری، ڈیجیٹلائزیشن اور فوری انصاف کی فراہمی پر گفتگو ہوئی۔ وفد کو ہائیکورٹ کا دورہ بھی کروایا گیا جبکہ یادگاری شیلڈز کا تبادلہ اور دوستی کی علامت کے طور پر پودا بھی لگایا گیا۔

چار روزہ دورے کے دوران ترک وفد نے مختلف عدالتی اداروں کے سربراہان سے ملاقاتیں کیں جن میں مستقبل میں مشترکہ تربیتی پروگرامز، ججز کے تبادلے اور جدید عدالتی نظام کے فروغ کے لیے تعاون بڑھانے پر اتفاق کیا گیا۔ وفد نے پاکستان کے ثقافتی ورثے کو بھی سراہا اور تاریخی مقامات کا دورہ کیا، جس سے دونوں ممالک کے تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کی توقع ظاہر کی جا رہی ہے۔

