ترک بزنس مین عمر فاروق نے اپنا دورہ پاکستان کے دوران ترکی اردو کے لاہور آفس کا وزٹ کیا ۔
پاکستان کی انٹرنیشنل اسلامک یونیورسٹی سے تعلیم یافتہ عمر فاروق نے ترکی اردو سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان ان کا دوسرا گھر ہے اور وہ اپنے بچوں کو بھی پاکستان تعلیم حاصل کرنے کی غرض سے بھیجنا چاہتے ہیں۔
سوال: آپ نے پاکستان سے تعلیم حاصل کی ہے انٹرنیشنل اسلامک یونیورسٹی سے ، آپ کا تجربہ کیسا رہا ؟ کوئی یاد جو آپ ناظرین کےساتھ شئیر کرنا چاہتے ہوں ؟
جواب: سب سے پہلے تو بہت شکریہ آپ کی ٹیم کا اور خصوصی طور محمد حسان کا شکریہ ۔۔میں انٹرنیشنل اسلامک یونیورسٹی سے فارغ التحصیل ہوں اور پاکستان کا ایلومینائے ہوں۔ میں نے 1996 میں یونیورسٹی میں داخلہ لیا اور 2002 میں گریجویشن مکمل کی۔ پاکستا ن اور انٹرنیشنل اسلامک یونیورسٹی میرا دوسرا گھر ہیں اور یہ میں سیاسی بیان نہیں دے رہا بلکہ دل کی گہرایوں سے کہہ رہا ہوں
پاکستان میرا دوسرا وطن ہے ، یہ پاک وطن ہمارا وطن ہے
یہ بہت اچھی بات ہے الحمدللہ میری یہاں بہت اچھی یادیں ہیں اس وقت سے اب تک ۔ جب بھی میں دنیا کے کسی ملک میں کاروبار کے سلسلے میں جاتا ہوں مجھے وہاں انٹرنیشنل اسلامک یونیورسٹی کے ایلومینائے ملتے ہیں یا کوئی نا کوئی پاکستانی بزنس مین ملتا ہے
میں پاکستان کا بہترین پروموٹر ہوں
امید ہے کہ مستقبل میں ترکی سے مزید طالبعلم اور کاروباری افراد پاکستان آئیں اس کے ساتھ ساتھ ہم پاکستان سے بھی طلبا اور کاروباری افراد کو ترکی آنے کی دعوت دیتے ہیں
سوال: آپ تقریبا دس سال سے کاروبار کر رہے ہیں، پاکستان میں آپ کا کاروباری تجربہ کیسا رہا اور کیا دونوں ممالک کے درمیان کاروبار کے مواقع موجود ہیں؟
جواب: پاکستان اور ترکی کے درمیان بے شمار کاروبار کے مواقع موجود ہیں، ہم جیسے کہ کھانے پینے، میک اپ، صفائی کی اشیا اور بےبی فوڈ بناتے ہیں اور ایکسپورٹ کرتے ہیں
ہم 61 ممالک میں اپنی مصنوعات ایکسپورٹ کرتے ہیں جن میں سے ایک پاکستان ہے ۔ ہم نے پاکستان میں اپنا کاروبار 2016 میں شروع کیا اور اب ہمیں یہاں ترک مصنوعات دیکھائی دیتی ہیں اس میں میڈیا کا بھی کردار ہے جسے کہ ارطغرل ، عثمان غازی اور ترک فلموں کا بھی لوگوں پر اثر ہوتا ہے
اس کے علاوہ دونوں ممالک کے درمیان سیاحت سے بھی فائدہ ہوتا ہے پاکستان سے لوگ استنبول ، ازمیر، انطالیہ،طرابزون جاتے ہیں تو واپس آکر ترک مصنوعات کی ڈیمانڈ کرتے ہیں
پاکستانی مصنوعات کے حوا لے سے بات کی جائے تو پاکستانی کاروباری افراد کے لیے بھی مصنوعات برآمد کرنے کے مواقع موجود ہیں
وہ مصنوعات جن کی ڈیمانڈ زیادہ ہے وہ ہیں زراعت جس میں چاول خاص طور پر رمضان کے مہینےمیں پاکستانی چاولوںکی بہت ڈیمانڈ ہوتی ہے
حال ہی میں نے دیکھا ہے کہ میرے ترک دوست پاکستانی کھجور تلاش کر رہے ہیں جسے ٹرکش میں "خورما” کہتے ہیں
اس کے علاوہ کھیلوں کا سامان جیسے فٹبال وغیرہ سیالکوٹ سے برآمد کیے جاتے ہیں
سرجری کے آلات اور ہیلتھ کئیر کی مصنوعات برآمد کی جاتی ہیں
جی ہاں ، بزنس کے مواقع کے ساتھ ساتھ گزشتہ دس پندرہ سالوں میں ترکی میں پاکستانیوں نے اپنی مارکیٹ بھی بنا لی ہے
شامی سپر مارکیٹ، پاکستانی سپر مارکیٹ، افغانی سپر مارکیٹ اور دیگر عرب مما لک کے پاشندوں نے سپر مارکیٹس قائم کر لی ہیں
آج استنبول پیرس کی طرح بن چکا ہے، نیدر لینڈ کی طرح بن چکا ہے وہاں اب صرف استنبول کے ہی شہری نہیں ہیں ، بلکہ اگر آپ انطالیہ جائیں تو آپ دیکھیں گے کہ وہاں پاکستانی دکانیں ہیں
اس وقت پاکستانی کھانوں کی برآمدات کے بے شمار مواقع موجود ہیں
جیسا کہ آپ کا مشہور قرشی جام شیریں اور روح افزا کی بہت ڈیمانڈ ہوتی ہے
استنبول میں ہمارے پاکستانی دوست ہم سے پوچھتے ہیں کہ باسمتی چاول کہاں سے ملیں گے
دنو ں ممالک کے درمیان تجارت کے وسیع مواقع موجود ہیں
ہم لوگوں کو ترکی آنے کی دعوت دیتے ہیں صرف اس لیے نہیں کہ وہ ترکی آئیں مہاجرین کی حیثیت سے اور پھر یورپ چلے جائیں بلکہ ترکی میں ہی بہت سے مواقع موجود ہیں ۔
ایک اور اہم بات ترک حکومت سرمایہ کاروں کی حوصلہ افزائی کر رہی ہے کسی بھی شعبے میں جیسے کہ کھانے پینے ، کیمیکل، زراعت جس میں آپ کے پاس اچھا پلان ہو ترک حکومت آپ کو اپنے شہری کی طرح تعاون فراہم کرے گی
خاص طور پر پاکستانیوں کے لیے یہ بہت آسان ہے کیونکہ انہیں ترکی میں خاصی شہرت حاصل ہے
