ترک صدر ایردوان نے انقرہ کابینہ کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ترکی افغانستان میں امن و استحکام کو یقینی بنانے کے لیے جدوجہد جاری رکھے گا۔ اس زمن میں اگر افغان حکومت سے بھی رابطہ کرنا پڑا تو کریں گے۔
صدر نے صداتی محل میں منعقدہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اگر ضرورت محسوس ہوئی تو ہم طالبان کی قائم کردہ حکومت سے مذاکرات کے لیے بھی تیار ہیں ۔
صدر کا کہناتھا کہ افغان میں 5 ہزار ترک شہریوں میں سے 500 ترک شہریوں اور 83 غیر ملکیوں کو باحفاظت ترکی پہنچا دیا گیا ہے۔
علاوہ ازیں دیگر 300افراد جو وطن واپس آنے کے خواہش مند ہیں ان کو بھی جلد ترکی پہنچا دیا جائے گا ۔
افغان مہاجرین
افغان مہاجرین کا تذکرہ کرتے ہوئے صدر کا کہنا تھا کہ ترکی پر مہاجرین کو پناہ دینے کی کوئی ذمہ داری نہیں ہے ۔
صدر ایردوان نے حزب اختلاف کے الزامات مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ترکی نے 2 لاکھ سے زائد افغان پناہ گزیروں کو واپس بھیجا ہے۔
صدر نے بتایا کہ شام میں دہشت گردوں سے پاک علاقوں میں 4 لاکھ 50 ہزار مہاجرین ترکی سے اپنے وطن لوٹ چکے ہیں۔
ترکی میں اس وقت 40 لاکھ مہاجرین موجود ہیں جو کہ دنیا میں کسی بھی ملک سے زیادہ ہیں۔
