ترکیہ کے وزیر خارجہ خاقان فیدان نے کہا ہے کہ، اگر دہشت گرد تنظیم PKK/YPG ترکیہ کی شرائط پر عمل نہیں کرتی تو ان کے خلاف ضروری کارروائی کی جائے گی۔ انہوں نے ایک نجی ٹی وی چینل کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے شام کی موجودہ صورتحال اور ترکیہ کے کردار پر تفصیلی روشنی ڈالی۔
خاقان فیدان کا کہنا تھا کہ، شام میں نئی انتظامیہ کو قومی اور علاقائی سالمیت کو یقینی بنانے کے لیے PKK/YPG کے مسئلے کا حل نکالنا ہوگا۔ ترکیہ کی جانب سے دہشت گرد تنظیم کو ایک واضح الٹی میٹم دیا جا چکا ہے، اور یہ پیغام امریکہ سمیت دیگر ذرائع سے بھی پہنچایا گیا ہے۔ وزیر خارجہ کے مطابق، بین الاقوامی دہشت گردوں اور عسکریت پسندوں کو فوری طور پر شام چھوڑنا ہوگا۔
انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ، اب تک PKK/YPG کی طرف سے کوئی مثبت ردعمل یا تیاری دیکھنے میں نہیں آئی۔ الٹی میٹم کا مقصد واضح ہے، اگر فوجی کارروائی سے بچنا ہے تو تنظیم کے اراکین کو شام سے نکل کر ہتھیار ڈالنے ہوں گے اور باقی عناصر کو شام کے نئے نظام کا حصہ بننا ہوگا، تاکہ بغیر خونریزی کے تبدیلی ممکن ہو۔
خاقان فیدان نے مزید وضاحت کرتے ہوئےکہا کہ، شامی کرد شہریوں کو کسی قسم کے نقصان سے بچانے اور انہیں معمول کی زندگی میں واپس لانے کے لیے نئی شامی انتظامیہ کا تعاون ضروری ہے۔ ترکیہ کی شرائط کے تحت شام میں کردوں کو شہریت اور شناختی کارڈ فراہم کیے جانے چاہیئے، تاکہ وہ قانونی طور پر محفوظ زندگی گزار سکیں۔
