صدر رجب طیب ایردوان کا کہنا ہے کہ ترکی افغانستان سے کبھی منہ نہیں مو ڑے گا۔
صدر ایرددان نے اسلامی تعاون تنظیم کے رکن ممالک کی پارلیمانی یونین کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہماری مشترکہ خواہش ہے کہ افغانستان دیرپا امن اور استحکام حاصل کرئے۔
انکا کہنا تھا کہ ہمارے لیے افغانیوں سے منہ موڑنا ہر گز ممکن نہیں ہے۔
طالبان کا افغانستان میں اقتدار سنبھالنے کے بعد ترکی اور ترکی کے امدادی گروپوں نے افغانستان کے لوگوں کے لیے وسیع پیمانے پر امداد بھیجی ہے اور ترک حکام نے ملک میں انسانی صورت حال کے بارے میں خبردار کیا ہے۔
شام کے بحران پر صدر ایردوان نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل پر اپنی ذمہ داریاں پوری نہ کرنے کا الزام لگاتے ہوئے کہا کہ یہ بات بہت ہی مایوس کن ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ترکی جیسے ممالک، جو بحرانی خطوں کے پڑوسی ہیں، ہجرت اور پناہ گزینوں کے معاملے پر اصل بوجھ اٹھاتے ہیں، بجائے اس کے کہ مغربی ممالک جو اس معاملے پر آواز بلند کرتے ہیں۔
ترکی ان تارکین وطن کے لیے ایک اہم ٹرانزٹ پوائنٹ رہا ہے جو نئی زندگیاں شروع کرنے کے لیے یورپ جانا چاہتے ہیں، خاص طور پر وہ لوگ جو جنگ اور ظلم و ستم سے بھاگ رہے ہیں جیسے کہ شام کی خانہ جنگی جو 2011 کے شروع میں شروع ہوئی تھی۔
ترکی ابھی بھی 40 لاکھ پناہ گزینوں کی میزبانی کر رہا ہے، جو کہ دنیا کے کسی بھی ملک سے زیادہ ہے، ان علامات کے باوجود کہ افغان مہاجرین کی ایک نئی لہر ترکی اور یورپی یونین کی طرف بڑھ سکتی ہے۔
اسرائیل فلسطین تنازعہ کے لیے مستقل امن اور استحکام کے بارے میں صدر ایردوان کا کہنا تھا کہ یہ صرف مشرقی یروشلم کے ساتھ 1967 کی سرحدوں پر مبنی ایک "آزاد، خودمختار، اور علاقائی طور پر مربوط” فلسطینی ریاست کے قیام سے ہی حل ہو سکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ دوسری جنگ عظیم کے دوران یورپ میں یہودیوں کے خلاف ہونے والی نسل کشی کی قیمت فلسطینیوں کو چکانا پڑ رہی ہے جو کہ غیر منصفانہ اور بے ایمانی ہے۔
اسلاموفوبیا اور نفرت انگیز تقریر پر صدر ایردان نے آئی ایس آئی پی اے بی کے اراکین پر زور دیا کہ وہ مزید فیصلہ کن اقدامات کریں۔
انہوں نے کہا کہ ہم یورپ کو جہا ں مختلف نسلوں کے 3 کروڑ 50 لاکھ مسلمان رہتے ہیں اسے اپنے بھائیوں اور بہنوں کے لیےحراستی کیمپ میں تبدیل کرنے کی اجازت نہیں دے سکتے۔
"ایک تنظیم کے طور پر، ہمیں اسلامو فوبیا اور نفرت انگیز تقاریر کے خلاف جنگ میں مزید فیصلہ کن اقدامات کرنے چاہئیں۔”
صدر ایردوان نے کورونا وائرس وبائی مرض کے دوران ترکی کی دوسری ممالک کی مدد کے بارے میں بتاتے ہوئے کہا کہ ترکی نے 160 ممالک اور ضرورت مند 12 بین الاقوامی تنظیموں کو امداد فراہم کی تھی اور 11 ممالک کو ویکسین بھی فراہم کی تھی۔
