انقرہ: ترکیہ کے صدر رجب طیب ایردوان نے کہا ہے کہ ترکیہ اور شام کا ساتھ دینے والے ممالک و طاقتیں مستقبل میں فائدے میں رہیں گی، جبکہ انقرہ اور دمشق کے درمیان تعاون خطے میں دائمی امن و استحکام کی بنیاد ثابت ہوگا۔
صدر ایردوان نے اپنے بیان میں زور دیا کہ
“ترک، کرد اور عرب اقوام کا اتحاد خطے میں امن و سکون کی حقیقی کلید ہے۔ جو قوتیں ہمیں تقسیم کرنا چاہتی ہیں، وہ دراصل مشرقِ وسطیٰ کے امن کو سبوتاژ کر رہی ہیں۔”
انہوں نے مزید کہا کہ ترکیہ علاقائی تعاون، ہمسایہ تعلقات کی بحالی اور دہشت گردی کے خاتمے کے لیے عملی اقدامات کر رہا ہے۔
ایردوان نے اس بات پر بھی زور دیا کہ شام میں امن و استحکام ترکیہ کے اپنے قومی مفاد سے منسلک ہے، اور دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کی بحالی سے شامی عوام کی واپسی اور سرحدی سلامتی کو مضبوط بنایا جا سکے گا۔
ترک صدر کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ترکیہ اور شام کے درمیان رابطے اور مصالحتی عمل میں پیش رفت کی اطلاعات موصول ہو رہی ہیں، جبکہ روس اور ایران بھی اس سلسلے میں ثالثی کا کردار ادا کر رہے ہیں۔
سیاسی ماہرین کے مطابق، صدر ایردوان کا حالیہ بیان خطے میں نئے سفارتی موڑ کی نشاندہی کرتا ہے اور مشرقِ وسطیٰ میں ترکیہ کے متوازن کردار کو مزید مضبوط کر سکتا ہے۔
