ترکی بھر میں آج 99 واں یوم فتح جوش و خروش سے منایا جا رہا ہے۔
30 اگست 1922 کو جنگ آزادی کو ” آزادی یا موت” کے نعرے کے ساتھ شروع کیا گیا۔
عظیم فتح ، عظیم رہنما مصطفی کمال اتاترک کی قیادت میں لڑی جانے والی اس جنگ کو تاریخ میں سنہری حروف سے لکھا گیا ہے۔
یوم فتح کی 99 ویں سالگرہ ملک بھر میں جوش و خروش کے ساتھ منائی جا رہی ہے۔
یومِ فتح کی تقریبات کا آغاز مزار اتاترک سے ہوا ۔
30 اگست یوم فتح کے موقع پر صدر رجب طیب ایردوان نے اپنے وفد کےہمراہ اتاترک کے مزار پر حاضری دی۔
صدر رجب طیب ایردوان نے اتاترک کے مزار پر پھولوں کی چادر چڑھائی اور اسکے بعد ایک منٹ کی خاموشی اختیار کی گئی اور اسکے بعد قومی ترانہ بھی بجایا گیا۔
بعد میں صدر ایردوان وفد میثاقِ ملی ٹاور تشریف لے گئے جہاں صدر ایردوان نے وزٹنگ بک میں اپنے تاثرات کو قلمبند کیا۔
صدر ایردوان نے وزٹنگ بک میں اپنے تثارات پیش کرتے ہوئے لکھا کہ
"عزیز اتاترک ، ہم ایک بار پھر عظیم فتح کی 99 ویں سالگرہ کے موقع پر آپ کی خدمت میں حاضر ہیں ۔ اس تاریخی دن پر ، ہم آپ کی شخصیت اور اپنے شہداء کو رحمت کے ساتھ یاد کرتے ہیں۔ آپ نے ہمارے لیے جو اہداف مقرر کیے ہیں ان کے مطابق ترکی ایک روشن مستقبل کی جانب گامزن ہے ۔ ترک مسلح افواج جو کہ ہر شعبے میں نمایا ں کارکردگی کا مظاہرہ کررہی ہے ہماری آنکھ کا تارہ ہے ۔ ہم نے جمہوریت ، انصاف ، حقوق اور آزادیوں کی پیروی کرتے ہوئے اپنے سفر کو جاری رکھا ہوا ہے۔ آپ کی جانب سے ہمیں عطا کردہ یہ امانت اب محفوظ ہاتھوں میں ہے۔ آپ کی روح شاد رہے۔
استنبول میں 30 اگست کے یوم فتح کی 99 ویں سالگرہ کی تقریبات میں سے ایک تقریب تقسیم اسکوائر میں منعقد کی گئی۔
اس موقع پر استنبول کےگورنر ، پہلی آرمی کمانڈ اور استنبول میٹروپولیٹن بلدیہ کی جانب سے پھولوں کی چادر چڑھائی گئی۔
