استنبول میں ہائیہ صوفیہ اور بلو مسجد سے چند کلو میڑ کے فاصلے پر ایک مینار ہے جسے بزنطینی یا رومی طرز تعمیر کا شاہکار سمجھا جاتا تھا یہ پینتیس میڑ (ایک سو پندرہ فٹ) لمبا ہے اور آج ڈیڑھ ہزار سال کے بعد امتداد زمانہ کے ستم سہنے کےبعد گو کہ اس کی اصل شکل بہت بگڑ گئی ہے لیکن پھر بھی راہ گیر کی توجہ اپنی طرف ضرور مبذول کراتا ہےاسے چمبرلیٹاش cemberlitas کا مینار بھی کہتے ہیں اور جلا ہوا مینار (Burnt Pillar ) بھی 326ء میں قسطنطین اوّل کے حکم پر اسے تعمیر کیا گیا اور ایک روایت کے مطابق قسطنطین دو مینار روم سے لے کر آیا تھا جہاں یہ اپالو کے مندر میں نصب تھے ان میں سے ایک چمبرلیٹاش مینار اور دوسرا سر پینٹائین Sepentine column مینار ہے جسے قسطنطنیہ کے ہپوڈرم Hippodrome یا سرکس میں نصب کیا گیاقسطنطین اوّل نے مغربی روم سے علیحدگی کا فیصلہ کیا اور بیزنتھہم Byzathium شہر کا نام بدل کر قسطنطنیہ رکھا اور اسے مشرقی روم یا بزنطینی روم کا دارلحکومت بنایا چمبرلیٹاش مینار کو اس کی یاد گار کے طور پر فصیل شہر کے باہر نصب کیا اور اس کا نام قسطنطین مینار رکھا یہ اصل میں بت پرست حکومت کے خاتمے اور عیسائی حکومت کے آغاز کی علامت سمجھا جاتا تھا اس پر قسطنطین اوّل کا سونے سے بنا مجسمہ اپالو کے روپ میں نصب تھا جس کے بائیں ہاتھ میں ایک مگدر تھا جس کا دستہ اس صلیب کی لکڑی سے بنا تھا جس پر حضرت عیسی کو چڑھایا گیا تھااور دائیں ہاتھ میں سرخ یاقوت سے بنا ایک سیب تھا جسے ترک “کیزل ایلما “ کہتے تھے ۔ یہ سرخ سیب صدیوں تک ترکوں کے لئے قسطنطنیہ کی فتح کا استعارہ بنا رہا یہاں تک کہ 1453ء میں سلطان فاتح نے یہ سیب حاصل کر لیا ۔ کزل ایلما” کو عثمانی ترکوں نے ایک خفیہ کوڈ کے طور پر استعمال کیا، جس سے مراد قسطنطنیہ کی فتح تھی۔ یہ شہر ان کا اہم ہدف تھا، کیونکہ رسول اللہ ﷺ کی ایک حدیث میں قسطنطنیہ کی فتح اور فاتح لشکر کی فضیلت کا ذکر تھا ۔ ترک قبائل میں یہ اصطلاح "نسل در نسل” منتقل ہوئی اور ان کی جنگی تحریک کا مرکز بنی۔ مثال کے طور پر، جب ان سے پوچھا جاتا کہ "یہ راستہ کہاں جاتا ہے؟” تو جواب ہوتا: "کزل ایلما” (یعنی قسطنطنیہ) کی طرف جاتا ہے ۔ 1453 میں سلطان محمد فاتح نے قسطنطنیہ فتح کر کے اس خواب کو پورا کیا۔ اس فتح کے بعد شہر کا نام "اسلام بول” (اسلام کا شہر) رکھا گیا، جو بعد میں "استنبول” بن گیا ۔ فتح کے بعد ایا صوفیہ، جو ایک عیسائی گرجا تھا، مسجد میں تبدیل کر دیا گیا۔ یہ اقدام "کزل ایلما” کے مفہوم کی تکمیل سمجھا گیا ۔ترکی روایات میں "سرخ سیب” کا تصور محض ایک جغرافیائی ہدف نہیں، بلکہ ایک مثالی معاشرے کی علامت بھی ہے، جس میں عدل اور اسلامی حکمرانی شامل ہے۔ جدید دور میں بھی یہ اصطلاح قوم پرست اور مذہبی حلقوں میں اتحاد اور عظمتِ رفتہ کی بحالی کی علامت کے طور پر استعمال ہوتی ہے۔2014 ء میں نوجوانوں کی ایک تحریک نے ایا صوفیہ کو دوبارہ مسجد بنانے کی کوشش کی، جسے 2020 میں ترکی کی عدالت نے قانونی طور پر بحال کیا۔ اس عمل کو "کزل ایلما” کے تاریخی وعدے کی تکمیل سے جوڑا گیا ۔یہ مینار آتش فشانی چٹانوں (Porphyry) سے بنایا گیا تھا اور اس پر نکل کی چادر چڑھائی گئی تھی اس کے اردگرد ایک بڑا باغ اور چرچ تھا اس چرچ میں حضرت عیسی سے منصوب متبرکات رکھی گئی تھیں ان متبرکات میں حضرت عیسی کی صلیب (True Cross) کے ٹکڑے دو چوروں (The Two Thieves) کی صلیب کے کچھ حصے (بائیبل کے مطابق یہ چور حضرت عیسی پر ایمان لائے تھے اور انہیں ان کے ساتھ ہی سولی پر چڑھایا گیا تھا) اور میری میگڈیلین کا وہ مرتبان Mary Magdalene جس میں رکھے تیل سے وہ حضرت عیسی کے سر اور پاؤں کی مالش کیا کرتی تھی شامل تھیں 1106ء میں ایک زوردار آندھی چلی جس نے قسطنطین کے مجسمے کو شدید نقصان پہنچایا تو قسطنطین کا یہ مجسمہ اپنے سرخ سیب اور مگد سمیت گر گیا تو اس وقت کے قیصر روم ایمانوئیل اوّل نے اس مجسمے کی جگہ سونے کی بنی صلیب لگوا دی 1204ء میں چوتھی صلیبی جنگ کے دوران جب یونانی عیسائیوں نے قسطنطنیہ پر قبضہ کیا تو انہوں نے لوٹ مار کے دوران سونے کی بنی صلیب اتار لی اور بعد میں تانبے کی بنی صلیب لگا دی ، اس مینار پر لگا سارا نکل بھی اتار لیاگیاانہوں نے قیصر روم الیکسس ڈیو کاس Alxious Doukas کو سزا کے طور پر اس مینار سے کود کر جان دینے پر مجبور کیا۔ 1453ء میں سلطان فاتح نے قسطنطنیہ کو فتح کیا تو اس نے اس صلیب کو اتروا دیا 1779ء میں ایک ناگہانی آگ میں سارا باغ اور وہ چرچ جل کر راکھ ہوگیا جس میں وہ متبرکات رکھی گئیں تھیں اور مینار کو بھی شدید نقصان پہنچا اور اس کا رنگ سیاہ ہوگیا اسی لئے اسے جلا ہوا مینار Burnt Pillar بھی کہتے ہیں عثمانی خلیفہ عبدالحمید اوّل نے اس کی تعمیر کروائی اور اس گرد اینٹوں کا وہ چبوترا بنوایا جو آج ہمیں نظر آتا ہے 1972ء میں اس کی تعمیر نو کے دوران اس کو مضبوط بنانے کے لئے اس کے گرد لوہے کے چھلے یا بریکٹ لگائے گئے یہ مینار رومی اور بزنطینی طرز تعمیر کا شاندار نمونہ سمجھا جاتا ہے اور یونیسکو کی ورلڈ ہیرٹج لسٹ میں شامل ہے استنبول جانے والے دوستوں کے لئے اس مینار کا محل وقوع بہت مددگار ثابت ہو سکتا ہے کیونکہ پرانے استنبول کی زیادہ تر یادگاریں اس کے اردگرد واقع ہیں اگر آپ استنبول ٹرام میں سفر کریں تو T1 یا بلو لائن کے چمبرلٹاش سٹیشن کے باہریہ مینار ایستادہ ہے اس کے شمال کی جانب بڑا بازار Grand Bazar اور غازی عتیق پاشا کی مسجد ہے جو 1496ء میں بایزید دوئم کے وزیراعظم عتیق پاشا نے بنوائی تھی اس مسجد سے ایک کلومیڑ کے فاصلے پر سیلمانیہ مسجد اور خلیفہ سیلیمان عالیشان کا مقبرہ ہے اس مینار کے سٹیشن سے مشرق (Up) کی جانب اگلا سٹیشن سلطان احمد ہے جہاں بلو مسجد اور ہائیہ صوفیہ اور Topkapı محل واقع ہیں اور اگر آپ پیدل ہائیہ صوفیہ کی طرف جائیں تو اس مینار سے چند سو میڑ کے فاصلے پر سلطان عبدالحمید اوّل کی مسجد اور مقبرہ ہے اور دو سٹیشن کے بعد Eminonu ایمینونو سٹیشن ہے جہاں سے آپ آبنائے باسفورس اور شہزادوں کے جزیرے کے لئے کروز یا بوٹ پکڑ سکتے ہیں اور یہیں سے آپ حضرت ابو ایوب انصاری کے مقبرے سلطان محمد فاتح کی مسجد اور پنوراما میوزیم کے لئے ٹیکسی یا بس لے سکتے ہیں اس مینار کے سٹیشن سے مغرب یا ڈاؤن جانے والی ٹرام آپ کو Dolmabahçe محل گلابی مسجد اور استنبول آرکیالوجیکل میوزیم لے جائے گیمصنف ڈاکٹر تصور اسلم بھٹہ کی کتاب "زبان یار من ترکی” سے اقتباس .

