تہران: ترکیہ کے وزیرِ خارجہ نے تہران میں اپنے ایرانی ہم منصب کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ ترکیہ اور ایران کے درمیان تجارتی اور معاشی تعلقات کو مزید وسعت دینے کے وسیع امکانات موجود ہیں، خاص طور پر سرحدی راستوں کے مؤثر استعمال کے ذریعے تجارت میں نمایاں اضافہ کیا جا سکتا ہے۔
حکان فدان نے کہا کہ وہ ترکیہ کے صوبے میں نئے ایرانی قونصل خانے کے افتتاح کے منتظر ہیں اور وعدہ کیا کہ اگر عباس عراقچی بھی شریک ہوئے تو وہ خود بھی افتتاحی تقریب میں شرکت کریں گے۔ دونوں وزرائے خارجہ نے غیر قانونی مہاجرت کے خلاف مشترکہ اقدامات کو مزید مؤثر بنانے پر بھی اتفاق کیا۔
ترک وزیر خارجہ نے واضح کیا کہ مشرقِ وسطیٰ میں عدم استحکام کا سب سے بڑا سبب اسرائیل ہے، جبکہ ایران کے ساتھ جاری جوہری مذاکرات کے حوالے سے ترکیہ نے اس عزم کا اظہار کیا کہ وہ ایران کے ساتھ کھڑا ہے تاکہ مسئلہ بین الاقوامی قانون کے تحت حل ہو اور پابندیاں ختم ہوں۔
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے اس موقع پر اعلان کیا کہ نیا سرحدی گیٹ کھولنے کے لیے ایران مکمل طور پر تیار ہے۔ انہوں نے شام اور لبنان پر اسرائیلی حملوں کو خطے کو عدم استحکام میں دھکیلنے کی بڑی سازش قرار دیا اور کہا کہ شام کا امن اس کی علاقائی سالمیت کے تحفظ سے وابستہ ہے۔
عباس عراقچی نے دہشت گرد تنظیم کے اسلحہ چھوڑنے کے عمل کا خیرمقدم کرتے ہوئے اسے خطے کے لیے ایک مثبت پیش رفت قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گردی پورے خطے کے لیے سنگین خطرہ ہے اور اس کے خاتمے کے لیے مشترکہ کوششیں ناگزیر ہیں۔
اس موقع پر دونوں رہنماؤں نے اس بات پر بھی اتفاق کیا کہ ترکیہ اور ایران کا قریبی تعاون نہ صرف دو طرفہ تعلقات کو مضبوط کرے گا بلکہ پورے خطے میں امن اور استحکام کے امکانات کو بھی تقویت دے گا۔
