turky-urdu-logo

ترکیہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے گستاخانہ خاکے پر شدید عوامی ردعمل، ترک حکومت کی فوری کارروائی قابلِ تحسین

(رپورٹ :  شبانہ ایاز، انقرہ) ترکیہ میں شائع ہونے والے ایک طنزیہ خاکے نے ترک عوام کے جذبات کو شدید مجروح کیا، جس کے بعد ترک حکومت نے فوری ایکشن لیتے ہوئے میگزین لیمن کے چار افراد کو گرفتار کر لیا، جن میں ایڈیٹر اِن چیف بھی شامل ہیں۔ یہ خاکہ مبینہ طور پر انبیاء کرام کی توہین پر مبنی تھا، جس پر پورے ترکیہ میں شدید احتجاج دیکھنے میں آیا۔

 خاکے یا گستاخی؟

حکومت نواز اخبار ینی شفق کے مطابق، خاکے میں آسمان پر دو شخصیات کو پروں اور نور کے ہالے کے ساتھ دکھایا گیا، جنہیں حضرت محمد ﷺ اور حضرت موسیٰ علیہ السلام کے طور پر تعبیر کیا گیا، جب کہ نیچے بمباری کا منظر نمایاں تھا۔ اسلامی عقیدے کے مطابق انبیاء کرام کی تصویری نمائندگی سختی سے ممنوع ہے۔

گرفتاریاں اور حکومتی مؤقف

ترک پولیس نے فوری کارروائی کرتے ہوئے کارٹونسٹ دووان پہلوان، ایڈیٹر ظفر اکنار، گرافک ڈیزائنر جبریل اوکچو اور منیجر علی یاوز کو گرفتار کر لیا۔ مزید دو افراد کے وارنٹ بھی جاری کیے گئے ہیں۔

 ترک وزیر داخلہ علی یرلیکایا نے کہا:”یہ بے شرم لوگ قانون کے کٹہرے میں ہوں گے۔”

صدر رجب طیب ایردوان نے اس گستاخانہ عمل کو”مزاح کے پردے میں اشتعال انگیزی”

قرار دیا اور وعدہ کیا کہ”اللہ کے رسول کی توہین کرنے والے قانون سے نہیں بچ سکیں گے۔”

 عوامی ردعمل اور احتجاج

استنبول میں لیمن کے دفتر کے باہر عوام سراپا احتجاج نظر آئے۔ مساجد سے لے کر سڑکوں تک مظاہرین نے ایک ہی مطالبہ کیا: "آزادیٔ اظہار کے نام پر اسلام کی توہین ناقابلِ قبول ہے”اسلامی تنظیم اوزگور دیر کے سربراہ نے اسے”ایمان اور اقدار پر حملہ”قرار دیا۔

میڈیا کی آزادی یا مذہبی پامالی؟

لیمن نے صفائی پیش کی کہ یہ دو عام مسلمان تھے، نہ کہ پیغمبر ﷺ، اور حضرت موسیٰ ، مقصد فلسطینی مسلمانوں کے دکھ اجاگر کرنا تھا۔ تاہم، اسلامی حلقوں نے اس وضاحت کو مسترد کر دیا۔صحافتی تنظیمیں گرفتاریوں کو آزادیء صحافت پر حملہ قرار دے رہی ہیں، جب کہ مسلم عوام کا مؤقف ہے: "کسی بھی آزادی کو مقدسات کی توہین کا لائسنس نہیں دیا جا سکتا۔”

 طنزیہ مجلات کیا ہوتے ہیں؟

ترکیہ میں طنزیہ مجلات یعنی مزاحیہ رسائل کی ایک لمبی تاریخ ہے۔

یہ وہ میگزین ہوتے ہیں جو ہنسی مذاق، طنز اور تنقید کے ذریعے معاشرتی، سیاسی یا مذہبی معاملات پر تبصرہ کرتے ہیں۔ ان کا مقصد عوام کی توجہ اہم مسائل کی طرف مبذول کرانا ہوتا ہے، مگر بعض اوقات ان کی زبان یا انداز سے لوگوں کے جذبات مجروح ہو جاتے ہیں، خاص طور پر جب بات اسلام یا انبیاء کرام کی ہو۔

لیمن بھی ترکیہ کا ایک مشہور طنزیہ میگزین ہے جو اکثر حد سے تجاوز کرتا رہا ہے۔

 ترکیہ کا واضح پیغام :   ترکیہ نے یہ واضح کر دیا ہے کہ اسلامو فوبیا، آزادیء رائے کی آڑ میں، نہ یہاں برداشت ہوگا اور نہ ہی کہیں اور۔ترک حکومت کی بروقت اور جرات مندانہ کارروائی نہ صرف قابلِ تحسین ہے بلکہ پوری اسلامی دنیا کے جذبات کی ترجمانی بھی کرتی ہے۔

Read Previous

خاندانی نظام کے استحکام سے ہی ایک پائیدار اور محفوظ معاشرہ ممکن ہے

Read Next

حجاب، حوصلہ اور خواب – ایک ترک ماں کی بیٹی کے ساتھ گریجویشن کی کہانی

Leave a Reply