turky-urdu-logo

’سخت جان اور سنجیدہ فائٹر‘ کا تذکرہ، 11 مہنگے طیاروں کی تباہی کا دعویٰ: غزہ امن بورڈ اجلاس میں ٹرمپ کی گفتگو پر شہباز شریف کی مسکراہٹ

واشنگٹن میں منعقدہ غزہ امن بورڈ کے افتتاحی اجلاس کے دوران امریکی صدر  DONALD TRUMPنے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم شہباز شریف اور پاکستان کے فیلڈ مارشل عاصم منیر کی تعریف کی۔ ٹرمپ نے کہا کہ وہ شہباز شریف کو اُس وقت سے جانتے ہیں جب پاکستان اور انڈیا کے درمیان کشیدگی جاری تھی اور پاکستانی قیادت کو ’سخت جان اور سنجیدہ فائٹر‘ قرار دیا۔ ان ریمارکس کے دوران شہباز شریف کے چہرے پر مسکراہٹ دیکھی گئی۔

اپنے خطاب میں ٹرمپ نے ایک بار پھر دعویٰ کیا کہ انھوں نے پاکستان اور انڈیا کے درمیان جاری لڑائی کو تجارت اور ٹیرف کے ذریعے روکا۔ ان کا کہنا تھا کہ دونوں ممالک لڑنا چاہتے تھے لیکن انھوں نے واضح کیا کہ اگر کشیدگی برقرار رہی تو وہ دونوں پر 200 فیصد ٹیرف عائد کر دیں گے۔ ٹرمپ کے مطابق جب معاشی نقصان کا خدشہ سامنے آیا تو دونوں ممالک پیچھے ہٹ گئے۔

امریکی صدر نے یہ بھی کہا کہ اس کشیدگی کے دوران 11 انتہائی مہنگے جنگی طیارے تباہ ہوئے۔ تاہم انھوں نے نہ تو ان طیاروں کی ملکیت کی وضاحت کی اور نہ ہی اس دعوے کے شواہد پیش کیے۔ اس سے قبل وہ مختلف مواقع پر گرائے گئے طیاروں کی تعداد مختلف بتا چکے ہیں۔

غزہ امن بورڈ کے اس پہلے اجلاس میں 47 ممالک کے نمائندوں نے شرکت کی۔ اجلاس میں اعلان کیا گیا کہ بورڈ کو غزہ کے عبوری انتظامی اختیارات دیے جا رہے ہیں جن میں تعمیرِ نو کی نگرانی، سکیورٹی معاملات، شدت پسند گروہوں کو غیر مسلح کرنے کے اقدامات اور علاقے کو غیر فوجی زون میں تبدیل کرنے کا عمل شامل ہے۔

ٹرمپ نے بتایا کہ مختلف ممالک نے غزہ کے لیے سات ارب ڈالر سے زائد امداد دینے کا وعدہ کیا ہے جبکہ امریکہ 10 ارب ڈالر فراہم کرے گا، اگرچہ اس رقم کے استعمال کی تفصیلات سامنے نہیں آئیں۔ ساتھ ہی ایک بین الاقوامی استحکام فورس کی تشکیل کا اعلان بھی کیا گیا جس کے تحت ہزاروں فوجیوں اور پولیس اہلکاروں کی تعیناتی کی منصوبہ بندی کی گئی ہے۔

وزیر اعظم شہباز شریف نے اپنے خطاب میں کہا کہ مشرقِ وسطیٰ میں پائیدار امن کے لیے غزہ میں مکمل اور مؤثر جنگ بندی ضروری ہے۔ انھوں نے زور دیا کہ فلسطینی عوام کو ان کی سرزمین کا حق دیا جائے اور اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق ایک آزاد اور خودمختار فلسطینی ریاست قائم کی جائے۔

شہباز شریف نے اپنی تقریر میں صدر ٹرمپ کی سفارتی کوششوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ پاکستان اور انڈیا کے درمیان جنگ بندی میں ان کی بروقت مداخلت سے خطہ بڑی تباہی سے بچ گیا۔ اجلاس کے بعد جاری اعلامیے میں اسے پاکستان کی فعال خارجہ پالیسی کا مظہر قرار دیا گیا۔

Read Previous

حاکان فیدان: ترکیہ غزہ کے لیے ہر ممکن تعاون فراہم کرنے کو تیار ہے

Read Next

پاکستان اور بنگلہ دیش نئے دور کے شراکتی تعلقات مضبوط بنانے پر متفق

Leave a Reply