پاکستان کی سب سے بڑی اور قدیم جامعہ میں ترکیہ کے ادارے ٹکا نے پرانے اور نادر مخطوطات محفوظ کرنے کا بیڑا اٹھا لیا. مخطوطات کو محفوظ کرنے کے لیے ٹکا کی جانب سے جدید ترین لائب قائم کی گئی. لیب کی افتتاحی تقریب میں جامعہ ترک کوآپریشن اینڈ کوآرڈینیشن ایجنسی (ٹکا) کے سربراہ محسن بالچی، ترک قونصلر جنرل علی ارباش، پنجاب یونیورسٹی کے پرو وائس چانسلر ڈاکٹر خالد محمود سمیت ترکیہ اور جامعہ پنجاب کے اعلیٰ حکام نے شرکت کی.

پرو وائس چانسلر جامعہ پنجاب اور ترک قونصلر جنرل علی ارباش نے لیب کا افتتاح کیا.
افتتاح کے موقع پر قونصلر جنرل لاہور علی ارباش کا کہنا تھا کہ "پنجاب یونیورسٹی میں نادر مخطوطات کا ایک بڑا ذخیرہ موجود ہے،تاہم ان کی حالت کافی خستہ ہے.”
اُنہوں نے نادر مخطوطات کی اہمیت بیان کرتے ہوئے کہا کہ "ہمارا مقصد ان قدیم اور نادر مخطوطات کو محفوظ بنانا ہے. ان شاء اللہ ہم پاکستان میں انہیں محفوظ بنانے کے لیے ہر ممکن اقدامات کریں گے.”
جامعہ پنجاب کے پرو وائس چانسلر نے قدیم مخطوطات کے بارے میں بات کرتے ہوئے کہا کہ "جامعہ پنجاب میں 25 ہزار سے زائد قدیم مخطوطات موجود ہیں، جو پاکستان کا سب سے بڑا ذخیرہ ہے، لیکن حالت پرانی ہونے کی وجہ سے ان کے ضائع ہونے کا خدشہ ہمیشہ رہتا ہے. "پرو وائس چانسلر پنجاب یونیورسٹی نے ترک ادارے ٹکا کا شکریہ بھی ادا کیا.

ترک ادارے ٹکا نے نہ صرف پنجاب یونیورسٹی میں قدیم مخطوطات کو. محفوظ بنانے کے لیے لیب قائم کی ہے، بلکہ پنجاب یونیورسٹی کے ملازمین کو تربیت بھی فراہم کر رہے ہیں.
