ترک صدر رجب طیب اردوان نے کہا ہے کہ ملک میں خاندانی سانحات کی سب سے بڑی وجوہات میں شراب نوشی، آن لائن بیٹنگ، جوا اور منشیات شامل ہیں۔ انہوں نے ان عناصر پر کڑی تنقید کی جو جوا کو معمول بنانے اور شراب کو سستا کرنے جیسے بیانات دے کر معاشرتی اقدار کو نقصان پہنچانا چاہتے ہیں۔
صدر اردوان کا کہنا تھا کہ وہ لوگ حقیقت سے نظریں چرا رہے ہیں جو شراب، سگریٹ اور منشیات کو آزادی کی علامت کے طور پر پیش کرتے ہیں، جبکہ منشیات فروشوں کے لیے جواز پیدا کرنے کی کوششیں بھی اسی خطرناک سوچ کا حصہ ہیں۔
انہوں نے واضح کیا کہ حکومت ان خطرات سے مکمل طور پر آگاہ ہے اور “انسان زندہ رہے تو ریاست زندہ رہے” کے اصول کے تحت ہر قسم کی لت کے خلاف بھرپور اور پرعزم جدوجہد جاری رکھے ہوئے ہے۔ ان کے مطابق سکیورٹی ادارے اور عدلیہ اپنی ذمہ داریاں پوری دیانت داری سے ادا کر رہے ہیں، تاہم محض سکیورٹی اقدامات اس ناسور کے خاتمے کے لیے کافی نہیں۔
صدر اردوان نے زور دیا کہ اس چیلنج سے نمٹنے کے لیے خاندانوں، معاشرے، سیاسی جماعتوں، تعلیمی اداروں، سماجی تنظیموں اور بالخصوص میڈیا کو مشترکہ طور پر متحرک ہونا ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ مادی اور روحانی طور پر مضبوط نوجوان ہی ان سماجی برائیوں کے خلاف سب سے مضبوط ڈھال ہیں۔ نظریہ، وژن، خود اعتمادی اور قومی و دینی اقدار سے وابستہ نوجوان نسل ہی ملک کے محفوظ مستقبل کی ضمانت ہے، اور حکومت اسی سوچ کے تحت اپنی پالیسیاں ترتیب دے رہی ہے۔
