ترکیہ کے صدر رجب طیب اردوان نے نوجوانوں کے لیے مخصوص نئے ٹیلی وژن چینل TRT Genç کا باضابطہ افتتاح کر دیا۔ یہ چینل نوجوان نسل کی فکری، جذباتی اور ثقافتی تربیت کے لیے متنوع اور معیاری پروگرام نشر کرے گا۔
بش تپے ملت کانگریس اینڈ کلچر سینٹر میں منعقدہ افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے صدر اردوان نے نوجوانوں کو “ریاست کا مستقبل” قرار دیتے ہوئے کہا کہ انہیں قوم کے گھر میں خوش آمدید کہنا ان کے لیے باعثِ مسرت ہے۔ انہوں نے TRT کے عملے کو مبارکباد دی اور نئے چینل کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار کیا۔
صدر اردوان کے مطابق TRT Genç پر سائنس و ٹیکنالوجی، ثقافت و فنون، کھیل، تاریخ اور حالاتِ حاضرہ جیسے موضوعات پر پروگرام نشر کیے جائیں گے، جن کا مقصد نوجوانوں کی فکری، ذہنی اور اخلاقی نشوونما کو فروغ دینا ہے۔
انہوں نے نشے، اسکرین پر حد سے زیادہ انحصار، آن لائن بیٹنگ، جوا اور منشیات کو ایک “سماجی وبا” قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان مسائل سے نمٹنے کے لیے ایسے تعلیمی اور رہنمائی فراہم کرنے والے پلیٹ فارمز کی اشد ضرورت ہے۔
صدر اردوان نے خبردار کیا کہ موجودہ دور کی ثقافتی جنگوں میں خاندانی نظام شدید دباؤ کا شکار ہے، اور ڈیجیٹل گیمز جیسے مشغلے بھی نوجوانوں کو آہستہ آہستہ آن لائن جوا اور غلط راستوں کی طرف لے جا سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ محض اعلانات کافی نہیں، بلکہ اس مسئلے کا سنجیدگی اور عزم کے ساتھ مقابلہ کرنا ہوگا۔
انہوں نے اس عزم کا بھی اظہار کیا کہ “حق اور سچ” کی جدوجہد سرکاری اداروں، اناطولیہ ایجنسی اور ڈائریکٹوریٹ آف کمیونیکیشن کے ذریعے ہر محاذ پر جاری رہے گی۔
اس موقع پر TRT کے ڈائریکٹر جنرل محمد زاہد سوباجی نے کہا کہ TRT Genç ان نوجوانوں کے لیے بنایا گیا ہے جو بچوں اور بڑوں کے مواد کے درمیان خلا محسوس کرتے ہیں اور ایک باوقار، محفوظ اور معیاری چینل کی تلاش میں ہوتے ہیں۔ ان کے مطابق یہ چینل قومی اقدار، ریاستی سرپرستی اور ثقافتی ورثے کی بنیاد پر تیار کیا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ یہ چینل والدین کے لیے بھی ایک محفوظ پلیٹ فارم ہوگا جہاں خاندان اکٹھے بیٹھ کر دیکھ، سیکھ اور آپس کے رشتے مضبوط کر سکیں گے۔ TRT Genç کی نمایاں خصوصیت یہ ہوگی کہ یہ تعلیم اور تفریح کو یکجا کرتے ہوئے نوجوانوں کو باصلاحیت اور باکردار شخصیات سے متعارف کرائے گا۔
ڈائریکٹر جنرل کے مطابق نوجوان کاروباری افراد، سائنس دانوں، موجدوں اور خلا بازوں سے ملاقاتوں پر مبنی پروگرام نوجوانوں کو یہ احساس دلائیں گے کہ “میں بھی کر سکتا ہوں”، اور انہیں مثبت رول ماڈلز فراہم کریں گے۔
