رپورٹ شبیر احمد
اگست 2021 میں افغان طالبان نے اچانک کابل فتح کرکے دنیا کو ورطہ حیرت میں ڈال دیا۔ طالبان کے اچانک قبضے اورامریکی فوجیوں کے انخلاء سے ملک بھر میں خوف و ہراس کی فضا پھیل گئی۔ ابھی افغان طالبان اپنے لائحہ عمل اور حکمت عملی کو دنیا کے سامنے رکھنے میں مصروف تھے کہ امریکہ نے افغانستان کے زرمبادلہ کے ذخائر کی مد میں پڑے 7 ارب ڈالر بیرون ملک اثاثے منجمد کردیے۔ دوسری جانب گہماگہمی کی کیفیت میں افغانستان کے تمام تر بڑے کاروباری مراکز دو ماہ تک بند رہے۔ ان دو ترقی مخالف سرگرمیوں نے افغان معیشت کوخاطر خواہ نقصان پہنچایا۔

تاہم اس وقت افغانستان میں ڈالر ریٹ 75 افغانی کے برابر ہے جبکہ پاکستان میں ڈالر کی قیمت 280 روپے ہیں۔ سالوں پر محیط جنگوں سے تباہ حال افغانستان میں ڈالر ریٹ کا اس قدر کم ہونا باعث حیرت ہیں۔ دوسری جانب ہمسایہ ملک ہونے کے ناطےپاکستان پر اس کامنفی اثر مرتب ہورہا ہے۔
افغان معیشت کی وضاحت کرتے ہوئے ماہر معیشت اور سابق وزیر خزانہ ڈاکٹر سلمان شاہ نے ترکیہ اردو کو بتایا کہ "افغانستان میں ڈالر کی ڈیمانڈ پاکستان کے باالمقابل بہت کم ہے۔ افغانستان کی قرضوں کی ادائیگی نہیں رہتی جبکہ درآمدات اور برآمدات بھی کچھ زیادہ نہیں ہے۔ اس وجہ سے ان کا ایکسچینچ ریٹ پاکستان سے زیادہ ہوتا ہے۔پاکستان کی برآمدات اور درآمدات میں تواز ن موجودنہیں، بہت ساری چیزیں بشمول تیل، اشیاءخوردنوش اور خام مال درآمد کیے جاتے ہیں اور برآمد ہونے والی اشیاء کی مقدار کم ہے۔ افغانستان کے ہاں درآمدات اور برآمدات میں یہ عدم توازن نہیں پایا جاتا”۔

عمومی طور پر ترقی پزید ممالک میں جہاں کی معیشت بیرونی قرضوں پر استوار ہوتی ہے ، یہ تاثر پایا جاتا ہے کہ ڈالر کی اڑان معیشت کی خرابی کا سبب ہے۔ ڈاکٹر سلمان شاہ اس تاثر سے اختلاف کرتے ہوئے بتاتے ہیں کہ "کسی ملک کی معیشت کا اندازہ لگانے کے لیے وہاں موجود لوگوں کی طرز زندگی، فی کس آمدنی، بے روز گاری ، پیداوار اور خرچ کو مدنظر رکھا جاتا ہے۔ یہ ساری چیزیں پاکستان اور افغانستان میں مختلف ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ پاکستان میں ڈالر کی ڈیمانڈ زیادہ ہے جبکہ سپلائی بہت کم ہے اور افغانستان میں ڈیمانڈ کم جبکہ سپلائی ترسیلات زر کی مد میں اچھی خاصی ہوجاتی ہے۔ نتیجے کے طور پر افغانستان کا ایکسچینج ریٹ بہتری کی جانب چلا جاتا ہے”۔
اگرچہ، افغانستان کی معیشت پاکستان سے مختلف ہے، مگر کچھ حوالوں سے وہ اپنے حساب سے بہتری کی جانب بھی بڑھ رہے ہیں۔ ماہر معیشت اور لاہوریونیورسٹی آف مینجمنٹ سائنسز کے پروفیسر اکرام الحق کے مطابق "کھلے عام تجارت ایک کمزور معیشت کے لیے سب سے بڑا سہارا ہے۔ افغانستان کے لوگ زیادہ تر کاروباری ہے۔ وہاں مقامی کرنسیوں میں زیادہ تر کاروبار ہوتا ہے۔ افغانستان میں تجارت کا رجحان ان دنوں بھی رہا جب جنگ کی وجہ سے نامساعد حالات تھے۔ افغانستان دوسرے ممالک کے لیے ایک سبق ہے کہ اگر کھلے عام تجارت کے توسط سے مقامی کرنسیوں میں لین دین کا رجحان بڑھ جائے تو بہتر معیشت کی راہ ہموار ہوسکتی ہے”۔
اکرام الحق بھی اس بات سے متفق ہے کہ معیشت کی جانچ کے کئے پہلو ہوتے ہیں، تاہم انہوں نے بتایا کہ "جب معیشت میں تجارت کے لیے ایک بڑا حجم رکھا جاتا ہے تو اس کے کافی مثبت اثرات ہوتے ہیں۔ اس کی بنیاد پر نہ صرف مقامی کرنسی کی قدر و قیمت میں اضافہ ہوتا ہے جبکہ مال کی خرید و فروخت بھی بڑے پیمانے پر ہوتی ہے۔یقینی طور پر اس ضمن میں انہیں ہم پر برتری حاصل ہے۔ ان کے تاجر پاکستان کی مارکیٹوں میں بھی فوائد سمیٹتے ہیں”۔

افغانستان کے پاس اس وقت ترسیلات زر، بیرونی امداد، اور معدنی وسائل کی مد میں زرمبادلہ ڈالر سپلائی کے تین بڑے ذرائع ہیں۔اکرام الحق کہتے ہیں کہ” افغانستان نے اپنے قدرتی ذخائر کا بہتر استعمال کیا ہے۔ چین سمیت اہم ممالک کے ساتھ معدنی ذخائر کے معاہدوں نے ان کی معیشت کو کافی فائدہ پہنچایا ہے”۔
"ایک سے زائد کرنسیوں میں خرید و فرخت سے ڈالر ریٹ کا تعین ہوتا ہے۔ اگر یہ زیادہ ہو تو ڈالر ریٹ کم ہوتا ہے۔ اسی طرح ان کرنسیوں سے ڈالر بھی خریدے جا سکتے ہیں۔اس لیے ان کے لیے ڈالر کی خرید و فروخت بھی ایک بڑی تجارت ہے۔ اس بابت ان کے لیے بارڈر پر کوئی پابندی نہیں۔ دوسرے ممالک اس ضمن میں ایک خاص حد کے بعد پابندی لگاتے ہیں”۔
دوسری جانب ڈاکٹر سلمان شاہ ڈالر ریٹ کے کم ہونے اور افغان کرنسی کے مضبوط ہونے کو مکمل مثبت ترقی نہیں سمجھتے ۔ وہ کہتے ہیں کہ ” افغان معیشت پاکستان سے بہتر نہیں بلکہ مختلف ہے۔وہ اپنی ضروریات زیادہ تر خود ہی پوری کرلیتے ہیں کیونکہ ان کی معیشت دنیا کے ساتھ مربوط نہیں ہے۔ وہاں آج بھی غربت زیادہ اور فی کس آمدنی پاکستان سے کم ہے۔ محض ایکسچینج ریٹ کے بہتر ہونے کو معیشت کی کل ترقی نہیں قرار دیا جاسکتا۔ ڈالر ریٹ کے بہتر ہونے میں سمگلنگ اور مقامی کرنسی میں تجارت کا بھی اہم کردار ہے”۔
افغانستان میں مقامی کرنسی کے حوالے سے اس وقت سب سے زیادہ متحرک کردار افغان مرکزی بنک ادا کررہا ہے۔ مرکزی بنک کی جانب سے ہر ماہ ڈالرز کی نیلامی کی جاتی ہے۔ افغان مرکزی بنک کے ترجمان حسیب اللہ نوری نے ترکیہ اردو کو بتایا کہ”مرکزی بنک مقامی کرنسی کے فروغ کے لیے محنت اور لگن کے ساتھ کوشاں ہے۔قومی بنک ہونے کی وجہ سے اس وقت ہمارا کردار سب سے نمایاں ہیں۔ ”
حسیب اللہ نوری سے جب ہم نے مقامی کرنسی کے بہتر ہونے کی وجوہات پوچھی تو انہوں نے جواب دیاکہ” قومی بنک ہونے کے ناطے ہم نے کوشش کی ہے کہ بڑے پیمانے پر مقامی کرنسی کی سمگلنگ کو روکا جائے۔ اس حوالے سے اداروں کے ساتھ مل کر ہم نے سمگلنگ کی تمام تر کوششیں ناکام بنادی ہیں۔ یہ سب سے بنیادی وجہ ہے کہ ہماری کرنسی آج ڈالر کے مقابلے بہتر پوزیشن میں موجود ہے”
دوسری وجہ کی جانب اشارہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ”سمگلنگ کی روک تھام کے ساتھ ہم نے مارکیٹوں میں اشیائے خورد ونوش کی قیمتوں کو بھی کنٹرول کیا ہوا ہے۔ روز مرہ استعمال کی اشیاء کی قیمتیں قومی بنک کی طرف سے متعین کردہ نرخ سے آگے پیچھے نہیں ہوتی۔ اس اقدام نے مہنگائی کی شرح کو قابو کیا ہوا ہے”۔

