پاکستان نے خیبرپختونخوا میں سرحد کے قریب افغانستان سے دہشت گردوں کی فائرنگ پر افغان ناظم الامور کو دفترخارجہ طلب کرکے احتجاج کیا۔
دفترخارجہ سے جاری بیان میں کہا گیا کہ افغان ناظم الامور سےدو واقعات پر احتجاج کیا گیا۔
بیان میں کہا گیا کہ پہلا واقعہ 14 اپریل کو افغان بارڈر فورسز نے ضلع چترال میں پاکستانی فوج کی پوزیشنز پر بلااشتعال فائرنگ کی جہاں 5 سے 6 گھنٹے تک فائرنگ جاری رہی۔
واقعے کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ پہلے واقعے میں افغان سرزمین سے 35 آرٹیلری فائر کیے گئے تاہم پاکستانی فوج کی جانب سے اس جارحیت کا مؤثر جواب دیا گیا۔
دفترخارجہ نے بتایا کہ دوسرے واقعے میں دہشت گرد پاکستان کے اندر دہشت گردی کی سرگرمیوں کے لیے بلااستثنیٰ افغان سرزمین استعمال کر رہے ہیں۔
بیان میں کہا گیا کہ ہماری طرف سے افغان حکومت کو پاک-افغان سرحد محفوظ بنانے کے لیے مسلسل درخواستوں کے باوجود افغان بارڈر سیکیورٹی فورسز کی جانب سے کارروائیوں میں اضافہ ہو رہا ہےجو گہری تشویش کا باعث ہے اور باہمی تعاون کے تصور کے بھی خلاف ہے۔
دفترخارجہ نے کہا کہ پاکستان سرحد پار سے فائرنگ کی شدید مذمت کرتا ہے اور ان اقدامات سے امن برقرار رکھنے کے لیے ہونے والی کاؤشوں اور پاک-افغان سرحد پر استحکام کو نقصان پہنچے گا۔
بیان میں کہا گیا کہ پاکستان توقع کرتا ہے کہ سرحد پار سے ہونے والی مسلسل کارروائیوں میں ملوث افراد اور دہشت گردوں کے سہولت کاروں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔
