بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی (بی این پی) کے قائد طارق رحمان نے منگل کے روز بنگلہ دیش کے وزیرِ اعظم کے عہدے کا حلف اٹھا لیا، جس کے ساتھ ہی ملک میں ان کی جماعت کی بھاری اکثریت سے حاصل ہونے والی انتخابی کامیابی کے بعد ایک بڑی سیاسی تبدیلی سامنے آئی ہے۔
ساٹھ سالہ طارق رحمان سابق وزیرِ اعظم خالدہ ضیا کے صاحبزادے اور مقتول سابق صدر ضیاء الرحمان کے بیٹے ہیں۔ وہ ایسے وقت میں اقتدار سنبھال رہے ہیں جب ملک کو سیاسی استحکام کی بحالی، سرمایہ کاروں کے اعتماد کی واپسی اور گارمنٹس سمیت اہم صنعتی شعبوں کی بحالی جیسے فوری چیلنجز کا سامنا ہے۔ یہ صورتحال 2024 میں نوجوانوں کی قیادت میں ہونے والی تحریک کے بعد پیدا ہوئی، جس کے نتیجے میں شیخ حسینہ کی حکومت کا خاتمہ ہو گیا تھا۔
انتخابات سے قبل عبوری دور میں نوبیل انعام یافتہ محمد یونس کی سربراہی میں ایک عبوری انتظامیہ نے ملک کا نظم و نسق چلایا۔
روایات کے برعکس اس بار حلف برداری کی تقریب کھلے آسمان تلے قومی پارلیمان کی عمارت کے ساؤتھ پلازہ میں منعقد ہوئی، جبکہ ماضی میں ایسی تقریبات عموماً صدارتی رہائش گاہ میں منعقد کی جاتی تھیں۔ صدر محمد شہاب الدین نے طارق رحمان اور ان کی کابینہ سے حلف لیا۔ تقریب میں اعلیٰ سیاسی شخصیات، سفارت کاروں، سول و عسکری حکام اور چین، بھارت اور پاکستان سمیت مختلف ممالک کے نمائندوں نے شرکت کی۔
بی این پی نے دو تہائی اکثریت حاصل کرتے ہوئے تقریباً دو دہائیوں بعد اقتدار میں واپسی کی ہے۔ جماعتِ اسلامی، جو 2013 میں پابندی ختم ہونے کے بعد پہلی مرتبہ انتخاب میں شریک ہوئی اس نے ریکارڈ 68 نشستیں حاصل کیں۔ شیخ حسینہ کی عوامی لیگ کو الیکشن کمیشن کی جانب سے رجسٹریشن منسوخ ہونے کے بعد انتخاب لڑنے کی اجازت نہیں دی گئی۔
جماعتِ اسلامی اور اس کے اتحادی، جن میں نیشنل سٹیزن پارٹی شامل ہے جس کی قیادت ان نوجوان کارکنوں نے کی جو حسینہ حکومت کے خاتمے کی تحریک میں پیش پیش تھے، حزبِ اختلاف کا کردار ادا کریں گے۔ جماعت کے رہنما شفیق الرحمٰن نے کہا ہے کہ ان کی جماعت ایک بااصول، چوکنا اور پُرامن اپوزیشن کا کردار ادا کرے گی، اگرچہ انہوں نے 32 حلقوں میں انتخابی نتائج کو چیلنج بھی کیا ہے۔
طارق رحمان کی وزارتِ عظمیٰ تک رسائی ایک طویل اور ہنگامہ خیز سیاسی سفر کا نتیجہ ہے۔ وہ گزشتہ سال 17 سالہ خود ساختہ جلاوطنی ختم کر کے لندن سے وطن واپس آئے تھے، جو اپنی والدہ کے انتقال سے کچھ ہی عرصہ قبل وطن پہنچے۔ ان کے مخالفین طویل عرصے سے ان پر بدعنوانی کے الزامات عائد کرتے رہے ہیں، جن کی وہ تردید کرتے ہیں، تاہم ان کی واپسی نے پارٹی کارکنوں میں نیا جوش پیدا کیا اور انتخابی مہم کو نئی توانائی دی۔
انتخابی نتائج کے بعد اپنے پہلے خطاب میں طارق رحمان نے امن و امان برقرار رکھنے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ امن، قانون اور نظم و ضبط ہر قیمت پر قائم رکھنا ہوگا۔ انہوں نے اپنے حامیوں کو انتقامی کارروائیوں سے گریز کی ہدایت کی اور خبردار کیا کہ کسی قسم کی افراتفری برداشت نہیں کی جائے گی۔
اس سے قبل منگل کو طارق رحمان اور دیگر اراکینِ پارلیمان نے بھی حلف اٹھایا اور یوں وہ 2024 کی پرتشدد تحریک کے بعد منتخب ہونے والے پہلے نمائندے بن گئے۔ اراکین سے حلف چیف الیکشن کمشنر اے ایم ایم ناصر الدین نے لیا اور انہوں نے بنگلہ دیش سے وفاداری کا عہد کیا۔
بی این پی اتحاد نے مجموعی طور پر 212 نشستیں حاصل کیں جبکہ جماعتِ اسلامی کی قیادت میں اتحاد نے 77 نشستیں جیتیں۔ براہِ راست منتخب ہونے والی خواتین کی تعداد صرف سات رہی، تاہم خواتین کے لیے مخصوص مزید 50 نشستیں جماعتوں کو ان کے ووٹوں کے تناسب سے دی جائیں گی۔ اقلیتی برادریوں سے تعلق رکھنے والے چار امیدوار بھی کامیاب ہوئے، جن میں دو ہندو شامل ہیں، جبکہ مسلم اکثریتی بنگلہ دیش میں ہندو آبادی تقریباً سات فیصد ہے۔
انتخابات سے قبل کئی ہفتوں تک کشیدگی کے باوجود پولنگ کے دن بڑے پیمانے پر بدامنی نہیں ہوئی اور نتائج کے بعد ملک میں نسبتاً پُرسکون صورتحال برقرار ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق اگر نئی حکومت معیشت کے شعبے میں بہتر کارکردگی دکھانے میں کامیاب ہو جاتی ہے تو دیگر چیلنجز سے نمٹنا نسبتاً آسان ہو جائے گا اور ملک میں استحکام پیدا ہوگا۔
