turky-urdu-logo

وفاداری کی وہ کہانیاں جو دل کو چھو لیتی ہیں— پاکستان اور ترکیہ کے درمیان ابدی بھائی چارے کی ایک جھلک

تحریر: شبانہ ایاز

انقرہ کے حسین غازی چوک مماک میں سیکیورٹی کے سخت گھیرے میں کھڑی میں وہ لمحہ کبھی نہیں بھول سکتی جب صدر رجب طیب ایردوان اپنی انتخابی مہم سنہ 2023 کے لیے وہاں تشریف لا رہے تھے۔ صدر ایردوان کے اسٹیج کے بالکل سامنے والی ایک عمارت داخلہ کے لیے بند کر دی گئی تھی۔ میں اس عمارت میں جانا چاہتی تھی۔ میرے ساتھ میری مقامی ترک دوست بھی تھیں،
انہوں نے اندر جانے کی کوشش کی تو سیکیورٹی نے روک لیا۔ میری دوست نے فوراً میرا تعارف کروایا۔۔ "یہ پاکستانی صحافی ہیں۔”

بس یہی ایک جملہ کافی تھا۔ سیکیورٹی کا رویہ بدل گیا۔ راستہ بن گیا۔ عمارت کے مالک خود نیچے آئے۔ بہت گرم جوشی سے مجھے ویلکم کیا۔ خود لفٹ آن کی (جو سیکیورٹی وجوہات کی بنا پر بند تھی) ۔ وہ مجھے اوپر لے گئے۔

لفٹ میں وہ بار بار ایک ہی بات خوشی اور مسرت سے دہراتے رہے "ہم پاکستانی خواتین کی دل و جان سے عزت کرتے ہیں۔ کیونکہ پاکستان کی آباء و اجداد خواتین نے ترکیہ کے لیے قربانی دی تھی۔

ان کی آواز میں فخر تھا، آنکھوں میں شکر گزاری تھی۔

جب صدر ایردوان اپنی انتخابی مہم کی بس سے اترے تو ایک خوبصورت منظر دیکھنے کو ملا۔ وہ سب سے پہلے استقبال کے لیے کھڑے لوگوں سے مصافحہ کرنے لگے۔ پھر انہوں نے گرد و پیش کی بلڈنگوں پر کھڑے لوگوں کو بھی دیکھا اور اشارے سے سلام کیا۔ میرے چہرے پر حجاب کی وجہ سے وہ دور سے ہی میری طرف متوجہ ہو گئے۔ ان کی نگاہ مجھ تک پہنچی اور انہوں نے وہیں سے کھڑے ہوئے مجھے اشارے سے سلام کیا۔

پھر جب وہ اسٹیج پر آئے تو خاص طور پر ہماری بلڈنگ کی جانب مڑے، آگے بڑھ کر اشارے سے سلام کیا اور اپنے سینے پر ہاتھ رکھا — جیسے دل کی گہرائی سے قدردانی کا اظہار کر رہے ہوں۔

اس لمحے میرا دل بھر آیا۔ یہ کوئی رسمی سلام نہیں تھا۔ یہ ایک قوم کی تاریخی وفا کا زندہ، دھڑکتا اعتراف تھا۔

اسی وفاداری کی ایک اور جھلک گزشتہ دنوں استنبول کے مشہور تختہ کالے بازار میں دیکھنے کو ملی۔ ایک پاکستانی سیاح خاندان ایک دکان پر خریداری کرنے گیا۔ دکان کے مالک جمال الدین یلماز نے ان کی خریدی ہوئی چیزوں کی قیمت وصول کرنے سے انکار کر دیا۔ جب حیران خاندان نے وجہ پوچھی تو انہوں نے سادہ الفاظ میں کہا۔۔”ہمارے پاکستانی بھائیوں نے ہماری آزادی کی جنگ کے وقت ہمارا ساتھ دیا تھا اور خواتین نے اپنے سونے کے کنگن بھیجے تھے۔ میں آپ سے پیسے نہیں لے سکتا۔”

ترکیہ کی وزارت تجارت نے اسی جذبے کو سراہتے ہوئے جمال الدین یلماز کو "آہی تاجر سرٹیفکیٹ” پیش کیا۔

آہی روایت کیا ہے؟؟؟
یہ اناطولیہ کی ایک قدیم اور خوبصورت روایت ہے جو تیرہویں صدی میں آہی اوران نے شروع کی تھی۔ آہی ایک بھائی چارے کی تنظیم تھی جو دستکاروں، تاجروں اور کاریگروں کو اکٹھا کرتی تھی۔ یہ صرف تجارت کا نظام نہیں تھا بلکہ ایک اخلاقی، مذہبی اور سماجی نظام تھا۔ آہی روایت میں ایمانداری، ہمدردی، بھائی چارہ، سخاوت اور حلال کمائی کو مرکزی اہمیت دی جاتی تھی۔ یہ فتوت کی بنیاد پر قائم تھی — یعنی اچھائی، سچائی اور خوبصورتی کی اقدار پر۔ سلجوقی اور ابتدائی عثمانی دور میں آہی تنظیم نے معاشرے کو منظم کیا، نوجوانوں کو پیشہ سکھایا، اور تجارت کو اخلاقی حدود میں رکھا۔ آج بھی ترکیہ میں جب کوئی تاجر اخلاق اور وفا کا مظاہرہ کرتا ہے تو اسے "آہی تاجر” کہہ کر نوازا جاتا ہے۔ یہ روایت صدیوں سے بتاتی ہے کہ تجارت محض پیسہ کمانے کا ذریعہ نہیں، بلکہ کردار اور انسانی اقدار کی تربیت کا میدان ہے۔

میرا انقرہ والا ذاتی تجربہ اور استنبول کا یہ تاجر والا واقعہ ایک ہی دھاگے سے جڑے ہیں۔ دونوں میں وہی وفا ہے، وہی قدردانی ہے جو سو سال پہلے کی قربانی کو آج بھی زندہ رکھے ہوئے ہے۔

خلافت تحریک کے زمانے میں، جب ترکیہ اپنی آزادی کی جنگ لڑ رہا تھا، برصغیر کی مسلمان خواتین نے اپنے سونے کے زیورات، کنگن، ہار بیچ کر ترک بھائیوں کی مدد کی تھی۔ وہ عورتیں جو خود غربت اور مشکلات میں گھری تھیں، انہوں نے اپنا سب کچھ دے دیا۔ آج سو سال بعد

بھی ترکیہ کی گلیوں، بازاروں اور دلوں میں وہ قربانی زندہ ہے۔

ترکیہ میں میرے سفر کے دوران ایسے کئی چھوٹے چھوٹے واقعات پیش آئے۔ ایک دکان پر خریداری کرتے ہوئے جب مالک کو پتا چلا کہ میں پاکستانی ہوں تو اس نے ڈسکاؤنٹ سے زیادہ، محبت سے نوازا۔ ایک ٹیکسی ڈرائیور نے کرایہ لینے سے انکار کیا اور کہا، "آپ کے ملک نے ہمارے لیے بہت کیا ہے۔” ایک 86 سالہ ترک بزرگ اکرام صاحب نے مجھے دیکھ کر دعا کی "اللہ پاکستانی بھائیوں کو ہمیشہ خوش رکھے۔”
وہ اپنی دو نسلوں کو اس احسان کے بارے میں تفصیل سے بتاتے رہتے تھے اور اپنے بیٹے رشتو اونلیل کو وصیت کرکے فوت ہوئے کہ اس پاکستانی فیملی کا بہت خیال رکھنا ۔
اور جب میں ان کی تدفین کے موقعہ پر ان کے گاؤں چورم پہنچی تو ایک لمحے کے لیے بھی اجنبیت محسوس نہیں ہوئی ،میرا تعارف پاکستانی کاردیش کہہ کر کروایا جاتا تو ان لوگوں کی آنکھوں میں محبت دیدنی تھی ۔

یہ محض courtesy نہیں تھی۔ یہ ایک گہری تاریخی لگاؤ تھا جو نسل در نسل منتقل ہو رہا ہے۔

آج جب پاکستان اور ترکیہ کے درمیان تعلقات سیاسی اور معاشی سطح پر مضبوط ہو رہے ہیں، تو ان ذاتی لمحات کی اہمیت اور بڑھ جاتی ہے۔ یہ وہ پل ہیں جو دو ملکوں کے عوام کو ایک دوسرے سے جوڑتے ہیں۔ یہ وہ جذبہ ہے جو سفارتکاری سے بالاتر ہے۔

جمال الدین یلماز جیسے تاجر، انقرہ کے اس عمارت کے مالک جیسے عام شہری، اور ہزاروں ترک لوگ جو آج بھی خلافت تحریک کی داستان سناتے ہیں — یہ سب اس بات کی گواہی دیتے ہیں کہ وفاداری وقت کے ساتھ کم نہیں ہوتی، بلکہ پختہ ہوتی ہے۔

ہم پاکستانیوں کو بھی اس بات پر فخر کرنا چاہیے کہ ہماری آباؤ اجداد نے ایک مشکل وقت میں بھائی کا ہاتھ تھاما تھا۔ اور آج بھی، جب ترکیہ کسی مشکل میں ہو، ہمارے دل اس کے ساتھ ہوتے ہیں۔

لیکن یاد رکھیں، یہ رشتہ ایک طرفہ نہیں چل سکتا۔ ہمیں بھی اپنی نئی نسل کو یہ تاریخ سکھانی چاہیے۔ اپنی خواتین کی قربانیوں کو زندہ رکھنا چاہیے۔۔

جیسا کہ وزارت تجارت ترکیہ نے کہا: "وفاداری قوم بننے کی بنیاد ہے، اخلاق تجارت کی بنیاد ہے۔”

اور میں بھی یہ کہوں گی — وفاداری انسانی رشتوں کی بنیاد ہے۔اصل بھائی چارہ وہی ہے جو مشکل میں کام ائے۔

ترکیہ کے یہ واقعات ہمیں سکھاتے ہیں کہ ترک قوم خود پر ہونے والے احسان کو کبھی نہیں بھولتی۔

Read Previous

ترکیہ کے زلزلہ متاثرہ بچوں پر مبنی فلم کی لندن میں خصوصی نمائش

Leave a Reply