ترکیہ کے صدر رجب طیب ایردوان نے شام میں جاری عوامی تحریک اور اسد انتظامیہ کے خاتمے پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ، یہ تبدیلی نہ صرف شام کے عوام ،بلکہ ترکیہ کے لیے بھی باعث خوشی ہے۔
جسٹس اینڈ ڈویلپمنٹ پارٹی کی دینزلی میں منعقدہ آٹھویں عام صوبائی کانگریس سے خطاب کرتے ہوئے صدرایردوان نے کہا کہ،
شام میں 13 سالہ جبر و ظلم کا خاتمہ ہو گیا ہے، مخالفین نے دمشق میں کامیابی حاصل کر لی ہے، اور اس جدوجہد میں کامیابی پر ہم بھی شام کے عوام کے ساتھ خوش ہیں۔ بطور ایک ہمسایہ ملک، جس کی شام کے ساتھ 911 کلومیٹر طویل سرحد ہے، ہم نے ان جھڑپوں کے منفی اثرات کو سب سے زیادہ محسوس کیا ہے اور کئی پہلوؤں سے بھاری قیمت چکائی ہے۔
صدر ایردوان نے اپنی تقریر میں اس بات پر زور دیا کہ، شام میں بیرونی طاقتوں نے دہشت گرد تنظیموں کو استعمال کیا اور داعش کے نام پر PKK/YPG جیسی علیحدگی پسند تنظیموں کو ہتھیار فراہم کیے ۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ، ظالم اسد انتظامیہ نے شام کو منشیات کی پیداوار کا مرکز بنا دیا تھا، اور یہاں کی جیلوں کو موت اور تشدد کے اڈوں میں تبدیل کر دیا گیا تھا۔ میں عورتوں کے ساتھ ہونے والی زیادتیوں اور انسانیت سوز مظالم کی تفصیلات میں نہیں جاؤں گا، لیکن شام میں جو انقلاب آیا ہے، وہ ہر اس شخص کے لیے باعث مسرت ہوگا جس کے دل میں انسانیت کے لیے ہمدردی موجود ہے۔
