turky-urdu-logo

استنبول کی تاریخی سلطان احمد مسجد رمضان میں روحانیت کا مرکز بن گئی

استنبول کی تاریخی و ثقافتی شناخت کی نمایاں علامت، سلطان احمد مسجد، چار صدیوں سے زائد عرصے سے نہ صرف عبادت گاہ بلکہ عثمانی فنِ تعمیر کا درخشاں نمونہ بنی ہوئی ہے۔ اس عظیم الشان مسجد کو سلطان احمد اول کے حکم پر شاہی معمار صدفکار محمد آغا نے ڈیزائن کیا۔ تعمیر کا آغاز 1609 میں ہوا اور تقریباً سات سال پانچ ماہ میں یہ منصوبہ مکمل ہوا، جب کہ 9 جون 1617 کو اسے باقاعدہ عبادت کے لیے کھول دیا گیا۔

کلاسیکی عثمانی دور کی آخری عظیم یادگاروں میں شمار کی جانے والی اس مسجد کو اندرونی حصے میں نصب نیلے ازنک ٹائلوں کی وجہ سے عالمی سطح پر “بلیو مسجد” بھی کہا جاتا ہے۔ تقریباً 20 ہزار دیدہ زیب ٹائلیں اور درجنوں گلِ لالہ کے نقوش اس کے داخلی حصے کو آراستہ کرتے ہیں۔

چھ میناروں کی موجودگی نے اسے عثمانی فنِ تعمیر میں منفرد مقام دیا۔ اس سے قبل چھ میناروں والی واحد مسجد مکہ مکرمہ کی مسجد الحرام تھی، جس کے تقدس کو برقرار رکھنے کے لیے وہاں ایک اضافی مینار تعمیر کیا گیا۔ وسیع صحن، مرکزی گنبد اور نیم گنبدوں پر مشتمل یہ عمارت جمالیاتی حسن اور انجینئرنگ مہارت کا حسین امتزاج پیش کرتی ہے۔ اس کا محلِ وقوع آیا صوفیہ کے بالمقابل ہونے کے باعث استنبول کے افق پر ایک منفرد توازن پیدا کرتا ہے۔

یہ مسجد دراصل ایک مکمل “کُلیہ” (جامعہ طرز کا مجموعہ) کا حصہ تھی جس میں مدرسہ، ابتدائی مکتب، شاہی رہائش گاہ اور بازار بھی شامل تھے، یوں مذہبی، تعلیمی اور سماجی سرگرمیوں کو ایک مرکز کے گرد منظم کیا گیا۔

ماہرِ تاریخ و فنون یاسین سائیلی کے مطابق سلطان احمد اول نے کم عمری میں تخت سنبھالنے کے بعد اس مسجد کی تعمیر کے ذریعے عثمانی سلطنت کی قوت و وقار کو اجاگر کرنے کا ارادہ کیا۔ تاریخی روایات کے مطابق سلطان خود بھی تعمیراتی عمل میں دلچسپی لیتے اور صبح کی نماز کے بعد مزدوروں کے ساتھ کام کرتے تھے۔

رمضان المبارک کے دوران یہ مسجد خصوصی روحانی اور سماجی مرکز کی حیثیت اختیار کر لیتی تھی۔ عثمانی دور میں اس کے صحن اور ملحقہ میدان میں عوامی اجتماعات، مذہبی عبادات اور سماجی میل جول کا اہتمام کیا جاتا تھا۔ روایات کے مطابق استنبول رمضان کی راتوں میں سحر تک بیدار رہتا، جب کہ مسجد کو محیا اور چراغوں سے روشن کیا جاتا اور خاندان بڑی تعداد میں یہاں حاضری دیتے تھے۔

آج بھی ہر سال لاکھوں مقامی و غیر ملکی سیاح اس تاریخی مسجد کا رخ کرتے ہیں، اور یوں سلطان احمد مسجد استنبول کی تہذیبی وراثت اور عثمانی شان و شوکت کی زندہ علامت کے طور پر اپنی اہمیت برقرار رکھے ہوئے ہے۔

Read Previous

ترکی کا یونان پر گیس تلاش کے معاہدے پر سخت ردعمل، بحیرۂ روم میں کشیدگی میں اضافہ

Read Next

اسٹیڈفاسٹ ڈارٹ 2026: نیٹو کی سب سے بڑی مشق میں ترکیہ کا کلیدی کردار، جدید ڈرون صلاحیتوں کی تعریف

Leave a Reply