یورپی یونین کی توسیع سے متعلق کمشنر مارٹا کوس نے کہا ہے کہ یورپی یونین اور ترکیہ کے درمیان تعلقات کو “نئی نظر سے دیکھنے” کا وقت آ چکا ہے، کیونکہ دونوں کے درمیان مضبوط شراکت داری سب کے لیے ایک ون ون صورتِ حال پیدا کر سکتی ہے۔
مارٹا کوس نے کہا کہ حقیقت یہ ہے کہ یورپی یونین اور ترکیہ کے درمیان اختلافات سے کہیں زیادہ مشترک چیزیں موجود ہیں، اور ہمیں اسی بنیاد پر آگے بڑھنا چاہیے۔ ہماری معیشتیں ایک دوسرے پر بہت زیادہ انحصار کرتی ہیں۔”
انہوں نے کہا کہ وہ اپنے پہلے سرکاری دورۂ ترکیہ کی منتظر ہیں اور اپنے عہدہ سنبھالنے کے پہلے دن سے ہی ترک حکام کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہیں، خاص طور پر وزیر خارجہ حکان فیدان کے ساتھ ان کے قریبی روابط رہے ہیں۔
مارٹا کوس کے مطابق ان کا یہ دورہ یورپی کمیشن کی صدر ارسلا فان ڈیر لیئن کے اس وژن سے ہم آہنگ ہے، جس کے تحت صدر رجب طیب ایردوان کے ساتھ بات چیت کے ذریعے یورپی یونین–ترکیہ تعلقات میں ایک نیا باب کھولنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
یورپی کمشنر نے کہا کہ دنیا اس وقت نہایت مشکل اور غیر یقینی دور سے گزر رہی ہے۔
دنیا تیزی سے بدل رہی ہے۔ چین، روس اور امریکا اپنے اپنے اثر و رسوخ کے دائرے جارحانہ انداز میں بڑھا رہے ہیں، اور ہم ایک بار پھر سامراجی طرزِ عمل کی واپسی دیکھ رہے ہیں۔”
ان حالات میں انہوں نے زور دیا کہ یورپی یونین اور ترکیہ کو باہمی تعاون مزید مضبوط کرنا ہوگا، کیونکہ ہجرت، تجارت اور سلامتی جیسے معاملات دونوں فریقین کو براہِ راست متاثر کرتے ہیں۔
مارٹا کوس نے امید ظاہر کی کہ یوکرین میں امن معاہدہ جلد طے پا جائے گا، جو یورپ اور بالخصوص بحیرہ اسود کے
خطے میں نئی حقیقتیں تشکیل دے گا۔
انہوں نے کہا کہ اس تناظر میں ترکیہ پہلے ہی ایک نہایت اہم شراکت دار ہے۔
انہوں نے بتایا کہ انقرہ کے دورے کا ایک اہم مقصد اعتماد سازی ہے، کیونکہ سیاست اور کاروبار دونوں میں اعتماد کی اہمیت بڑھتی جا رہی ہے۔
مارٹا کوس نے ترکیہ کو یورپی یونین کی کنیکٹیویٹی اسٹریٹجی کا “دل” قرار دیتے ہوئے کہا کہ یورپ، وسطی ایشیا اور قفقاز کے درمیان روابط مضبوط بنانے کے لیے ترکیہ کے بغیر پیش رفت ممکن نہیں۔
انہوں نے یورپی سرمایہ کاری بینک (EIB) کی ترکیہ واپسی کا خیرمقدم کرتے ہوئے انکشاف کیا کہ انقرہ میں قابلِ تجدید توانائی کے دو منصوبوں پر دستخط ہوں گے، جن میں ہر ایک کی مالیت 100 ملین یورو ہے۔
ان کے مطابق یہ منصوبے مستقبل میں توانائی اور رابطہ کاری کے بڑے منصوبوں کی بنیاد ثابت ہوں گے، جن میں یورپی بینک برائے تعمیر و ترقی (EBRD) اور عالمی بینک بھی کردار ادا کریں گے۔یورپی یونین کے مرکوسر اور بھارت کے ساتھ حالیہ تجارتی معاہدوں کے اثرات پر بات کرتے ہوئے مارٹا کوس نے کہا کہ یورپی یونین–ترکیہ تجارت مرکوسر کے ساتھ یورپی تجارت سے تقریباً دوگنا ہے
انہوں نے زور دیا کہ کسٹمز یونین کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے اور باقی رکاوٹیں دور کرنے کی ضرورت ہے، کیونکہ اسے گزشتہ 30 برسوں سے اپ ڈیٹ نہیں کیا گیا۔
یورپی کمشنر نے واضح کیا کہ یورپی یونین کا مجوزہ “میڈ اِن یورپ” اقدام ترکیہ کو خارج کرنے کے لیے نہیں ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ عالمی تجارتی نظام میں تبدیلیوں کے باعث یورپ کو اپنی سلامتی اور معاشی مفادات کو مدنظر رکھتے ہوئے فیصلے کرنا ہوں گے، تاہم ترکیہ کے لیے اس عمل میں شمولیت کے امکانات موجود ہیں، بشرطیکہ کچھ شرائط پوری کی جائیں۔
ترکیہ کی یورپی یونین میں شمولیت کے حوالے سے مارٹا کوس نے کہا کہ اگرچہ 2018 سے الحاق مذاکرات تعطل کا شکار ہیں، لیکن یورپی یونین اب بھی ترکیہ کو امیدوار ملک سمجھتی ہے۔
انہوں نے ترکیہ کی مضبوط جمہوری روایت اور فعال سول سوسائٹی کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ ان عناصر کو مضبوط بنانا باہمی اعتماد کے لیے ضروری ہے۔
دفاعی تعاون پر بات کرتے ہوئے انہوں نے ترکیہ کو نیٹو کا ایک اہم اور قابلِ اعتماد شراکت دار قرار دیا اور کہا کہ یوکرین جنگ میں ترک ڈرونز نے فیصلہ کن کردار ادا کیا۔
“ترکیہ یورپ کے لیے ایک فطری شراکت دار ہے، اور ہم یورپی سلامتی میں اس کے مزید مضبوط کردار کے خواہاں۔
