مغربی ترکی کے ایک پرائمری سکول میں طالب علموں نے آوارہ بلی کو گود لیا جو دیکھتے ہی دیکھتے سکول کے بچوں کی بہترین دوست بن گئی۔
مغربی مانیسا صوبے میں سہزادلر کے کاراوگلو پرائمری اسکول کے طلباء بلی کی دیکھ بھال کر کے خوشی محسوس کرتے ہیں۔
سکول کے بچوں نے بلی کا نام یوکوکو اورسلیپر رکھا ہے۔
سکول کی پرنسپل اور ٹیچر سے سکول کے ایک گروپ نے بلی کی دیکھ بھال کرنے کی اجازت حاصل کی اور اسے سکول میں رکھ لیا۔
جب انہیں اجازت ملی، تو ایک مقامی جانوروں کے ڈاکٹر نے بلی کو بیماریوں سے بچنے کے لیے تمام ضروری ٹیکے لگائے۔
سلیپر کو طلباء کے ذریعہ کھلایا جاتا ہے اور اس کی دیکھ بھال کی جاتی ہے اور وہ اپنا دن دھوپ میں سوتے ہوئے اور چھٹی کے وقت طلباء کے ساتھ کھیل کر گزارتی ہے۔
کلاس کے دوران، وہ کھاتی ہے، کھیلتی ہے، گرم ریڈی ایٹر پر بیٹھتی ہے، اور یہاں تک کہ طالب علموں کی میزوں پر سونا اسکا پسندیدہ مشغلہ ہے۔
میڈیا سے بات کرتے ہوئے سکول پرنسپل کا کہنا تھا کہ سکول میں بلی کی موجودگی بچوں کو سکول آنے کے لیے انسپائر کرتی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ سکول میں ہم بچوں کو جانوروں سے محبت کرنے کا درس بھی دیتے ہیں تاکہ وہ بڑے ہوکر ایک اچھے شہری کا فرض ادا کرسکیں۔
انکا کہنا تھا کہ ہمارے سکول میں 160 بچے تھے مگر اب سلیپر کو ملا کر 161 ہیں۔
10 سالہ طلبہ کا کہنا تھا کہ سلیپر کو اپنا نام بہت پسند ہے اور جب بھی ہم اسے اس نام سے پکارتے ہیں تو وہ ہمارے باس بھاگی چلی آتی ہے۔
ترکی کے لوگ ہمیشہ سے ہی بلیوں اور جانوروں کو پسند کرتے ہیں اور انکے ساتھ بہت محبت سے پیش آتے ہیں۔
