turky-urdu-logo

استنبول یونیورسٹی شعبہ اردو میں مقبوضہ جموں کشمیر کے یوم سیاہ کے حوالے سے سیمینار

استنبول یونیورسٹی شعبہ اردو میں مقبوضہ جموں کشمیر کے یوم سیاہ کے حوالے سے سیمینار منعقد کیا گیا۔

صدر شعبہ اردو ڈاکٹر خليل طوقار نے کہا کہ ترک بھی کشمیریوں سے بے پناہ محبت کرتے ہیں اور مشکل گھڑی میں ان کے ساتھ ہیں۔

آزاد کشمیر کے سابق رکن اسمبلی عبدالرشید ترابی نے ترک حکومت اور عوام کا شکریہ ادا کیا۔

انکا کہنا تھا کہ ہماری ہر آزمائش میں ترک بھائی ہمیشہ سے ہمارے ساتھ کھڑے ہیں۔ ترکی نے ہمیشہ کشمیر کے مسئلے میں بین الاقوامی سطح پر آواز اٹھائی ہے۔

انہوں نے کشمیر کے حالات بتاتے ہوئے کہا کہ بر صغیرکے مسلمانوں نے بہت جدوجہد کی جس میں کشمیر کے مسلمانوں نے بہت مدد کی ۔

علامہ اقبال شاعر مشرق انکا بھی تعلق کشمیر سے تھا ۔

برصغیر کے مسلمانوں نے برصغیر میں بہت جدوجہد کی جس کے نتیجے میں برصغیر الگ ہوا۔

ہندوستان جہاں پر غیر مسلموں کی اکثریت تھی طے پایا کہ وہاں ہندوں رہیں گے اور جہاں مسلمانوں کی اکژیت ہوگی وہا ں تو فارمولا کے مطابق کشمیر کی عظیم زمین کو پاکستان کا حصہ بننا چاہیے تھا لیکن اسکا جو مقامی حکمران تھا وہ ایک ہندو تھا جسکی وجہ سے کشمیر دو حصوں میں بٹ گیا اور ہندووں نے اپنی فوجیں وہاں بھیج دیں جس کے خلاف کشمیریوں نے جہاد کیا اور ایک دہائی کشمیر آزاد ہو گیا جو آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کی شکل میں آج ہمارے پاس موجود ہے۔

ہندوستان ہی سب سے پہلے امن کونصل میں گیا اور وہاں یہ درخواست کی اس مسئلے کو امن کے ساتھ حل کیا جائے اور اسکے نتیجے میں یہ فیصلہ طے پایا کہ کشمیری اپنے مستقبل کا فیصلہ خود کریں گے مگر آج تک انہیں انکا حق نہیں دیا جارہا اور وہ آج بھی اپنے حق کے لیے لڑ رہے ہیں۔

Read Previous

ترکی: ملک بھر میں 98واں یوم جمہوریہ قومی جوش وجذبے سے منایا گیا

Read Next

ٹی ٹونٹی ورلڈ کپ: پاکستان نے افغانستان کو دلچشپ میچ کے بعد 5 وکٹوں سے شکست دے دی

Leave a Reply