turky-urdu-logo

بھارت: حکمران جماعت کی جانب سے پیغمبر اسلام کی شان میں گستاخی، دنیا بھر میں احتجاج جاری

مسلم ممالک نے ہندوستان کی حکمران جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے رہنماؤں کی جانب سے پیغمبر اسلام (ﷺ) کے خلاف توہین آمیز ریمارکس پر سخت ناراضی اور ناپسندیدگی کا اظہار کیا ہے جب کہ قطر، کویت اور ایران نے ہندوستان کے سفیر کو طلب کرکے اپنا احتجاج ریکارڈ کرایا۔

قطر نے مسلمانوں کے جذبات کو ٹھیس پہنچانے والے ایسے ‘اسلام فوبک’ خیالات کے اظہار کی اجازت دینے پر ہندوستان سے عوامی سطح پر معافی مانگنے کا مطالبہ کیا ہے۔

دوسری جانب کویت نے ایک بیان میں بتایا ہے کہ اس نے بھارت سے احتجاج کرتے ہوئے سرکاری احتجاجی مسراسلہ تھمایا ہے جس میں بھارت کی حکمران جماعت کے ایک عہدیدار کی جانب سے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم، اسلام اور مسلمانوں کے خلاف دیے گئے توہین آمیز بیانات کو ریاست کویت کی جانب سے سختی سے مسترد کیا گیا اور شدید مذمت کا اظہار کیا گیا ہے۔

وزیر اعظم شہباز شریف نے بھی بی جے پی رہنما کے بیان کی مذمت کرتے ہوئے دنیا پر زور دیا ہے کہ وہ اس معاملے کا نوٹس لے، بھارت کی سرزنش اور مذمت کرے۔

اپنے بیان میں شہباز شریف کا کہنا تھا کہ انہوں نے بارہا کہا ہے کہ مودی کی قیادت میں بھارت مذہبی آزادیوں کو پامال کر رہا ہے اور مسلمانوں پر ظلم کر رہا ہے، نیا کو اس کا نوٹس لینا چاہیے اور بھارت کی سخت سرزنش کرنی چاہیے۔

ٹوئٹر پر جاری بیان میں وزیراعظم نے مزید کہا کہ مسلمانوں کی نبی کریم ﷺ سے محبت سب سے زیادہ ہے اور وہ حضور ﷺ کے لیے جان بھی قربان کر سکتے ہیں۔

ہندوستان ٹائمز کے مطابق بی جے پی کی ترجمان نوپور شرما اور پارٹی کے ایک اور رہنما نوین کمار جندال نے پیغمبر اسلام (ﷺ ) کے بارے میں توہین آمیز کلمات کہے، ان ریمارکس کی دنیا بھر میں مذمت کے بعد ہندوستان کی حکمران جماعت کو ان کے بیانات سے خود کو الگ کرنا پڑا اور ان دونوں رہنماؤں کے خلاف تادیبی کارروائی کا اعلان کیا۔

قطر کی وزارت خارجہ کی جانب سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ واقعہ کے بعد قطر نے ہندوستانی سفیر کو طلب کر کے اسے سرکاری احتجاجی مراسلے تھمایا جس میں قطر کی جانب سے مایوسی کا اظہار کیا گیا تھا اور بھارت کی حکمراں جماعت کے ایک عہدیدار کی جانب سے پیغمبر اسلام، اسلام اور مسلمانوں کے خلاف ادا کیے گئے متنازع ریمارکس کو مکمل طور پر مسترد کرتے ہوئے ان کی سخت مذمت کی گئی تھی۔

قطر نے اپنے بیان میں کہا کہ وہ بھارتی حکومت کی جانب سے ان ریمارکس کی عوامی سطح پر معافی اور فوری مذمت کی توقع رکھتا ہے۔

قطر نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ اس طرح کے اسلام مخالف ریمارکس کو بغیر سزا کے جاری رکھنے کی اجازت دینا انسانی حقوق کے تحفظ کے لیے بڑا خطرہ ہے، یہ مزید نفرت، تعصب اور ایک طبقے کے استحصال کا باعث بن سکتا ہے جس سے تشدد اور نفرت کا ایک نا ختم ہونے والا سلسلہ شروع ہو سکتا ہے۔

 

عمان کے مفتی اعظم شیخ احمد بن حمد الخلیل نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر جاری اپنے ایک بیان میں کہا ہندوستان کی حکمران جماعت کی ترجمان کا ‘غلیظ، توہین آمیز’ بیان ہر مسلمان کے خلاف جنگ کے مترادف ہیں۔

بسم الله الرحمن الرحيم إن الاجتراء الوقح البذيء من الناطق الرسمي باسم الحزب المتطرف الحاكم في الهند على رسول الإسلام ﷺ وعلى زوجه الطاهرة أم المؤمنين عائشة رضي الله عنها هو حرب على كل مسلم في مشارق الأرض ومغاربها، وهو أمر يستدعي أن يقوم المسلمون كلهم قومة واحدة ليوقفوا هذا العدوان السافر على أمة الإسلام وعلى نبيها، وباجتماع هذه الأمة في صعيد واحد للدفاع عن نبيها وعن حرمات دينها يكتب الله لها النصر ويفتح لها من أبواب الخير ما لا تحتسب، فلا يلبث أن يكون هذا الأمر خيرا لها وشرا على عدوها، كما قال الله تعالى في قصة الإفك: ﴿ إِنَّ الَّذِينَ جَاءُوا بِالْإِفْكِ عُصْبَةٌ مِنْكُمْ لَا تَحْسَبُوهُ شَرًّا لَكُمْ بَلْ هُوَ خَيْرٌ لَكُمْ لِكُلِّ امْرِئٍ مِنْهُمْ مَا اكْتَسَبَ مِنَ الْإِثْمِ وَالَّذِي تَوَلَّى كِبْرَهُ مِنْهُمْ لَهُ عَذَابٌ عَظِيمٌ ﴾النور: ١١. فـيـا غـارة الله اغـضـبـي وخـيـوله...اركــبـي ومـواضـيـه انـعـمـي بـورود ومُــنِّـي عـلى الأعـداء مـنـك بـزورةٍ....تــريـحـهـم مـن كـفـرهـم بـلحـود أحمد بن حمد الخليلي

ہندوستان نے قطر اور کویت دونوں ممالک کو بتایا ہے کہ جارحانہ خیالات بھارتی حکومت کے خیالات کی عکاسی نہیں کرتے جب کہ توہین آمیز ریمارکس کے ذمہ داروں کے خلاف ‘سخت کارروائی’ کی گئی ہے۔

Image

بی جے پی نے رہنماؤں کی پارٹی رکنیت معطل کردی

ہندوستان ٹائمز کے مطابق مسلم ممالک کی جانب سے سخت ردعمل سامنے آنے کے بعد حکمران بی جے پی نے نوپور شرما کو معطل کر دیا جب کہ نوین جندال کو ان کے ریمارکس پر پارٹی سے نکال دیا ہے۔

پارٹی کی جانب سے جاری کردہ بیان میں کسی رہنما کا نام نہیں لیا گیا لیکن بیان میں اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ پارٹی کسی مذہب کی توہین کو برداشت نہیں کرتی اور تمام مذاہب و عقائد کا احترام کرتی ہے۔

بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ ’بھارتیہ جنتا پارٹی کسی ایسے نظریے کے بھی خلاف ہے جو کسی فرقے یا مذہب کی توہین یا تذلیل کرتا ہو، بی جے پی ایسے لوگوں یا ایسے فلسفے کی تشہیر نہیں کرتی، ہندوستان کی ہزاروں سال کی تاریخ کے دوران ہر مذہب یہاں پھلا پھولا اور اس نے ترقی کی جب کہ بھارتیہ جنتا پارٹی تمام مذاہب کا احترام کرتی ہے۔

Read Previous

روضہ رسولﷺ کے چابی بردار شیخ نوری کی پاکستان آمد ، بلیو ٹاون سمارٹ سٹی بلاک کا افتتاح کیا

Read Next

ترکیہ نے بیلجیئم کو ہرا کر والی بال ویمن نیشن لیگ اپنے نام کر لی۔

Leave a Reply