آذربائیجان طیارہ حادثے پر آذربائیجان کے صدر الہام علیوف نے روسی صدر کی معافی پر ردِ عمل دیتے ہوئے کہا کہ "3 دن تک روسی حکام کی جانب سے حادثے کے حقائق چھپانے کی کوشش کی گئی۔ واضح رہے کہ ہفتے کی شام روسی صدر کی جانب سے آذربائیجان کے طیارہ حادثے پر معافی مانگی گئی تھی۔
روسی صدر کا بیان
25 دسمبر کو آذربائیجان کا مسافر طیارہ قازقستان کے شہر اکتاؤ کے قریب گر کر تباہ ہوا۔ ابتدائی تحقیقات اور عینی شاہدین کے گواہوں کے مطابق طیارے کو باہر سے کسی چیز نے نشانہ بنایا۔
قازقستان کی وزارت ِ ٹرانسپورٹ کے مطابق طیارہ حادثے سے 30 منٹ پہلے تک اکتاؤ ائیر پورٹ سے رابطے میں تھا اور طیارے کو نیچے اتارنے کی تیاری کی جا رہی تھی۔
ہفتے کی شام روس کے صدارتی ہاؤس کریملن کی جانب سے ایک بیان میں کہا گیا ” طیارے کو غلطی سے روسی دفاعی نظام نے نشانہ بنایا۔” ولادیمیر پیوٹن کی جانب سے حادثے پر معافی طلب کی گئی۔
آذربائیجان کا ردِ عمل
آذربائیجان کے صدر الہام علیوف نے پیوٹن کی معذرت کے جواب میں کہا کہ "حادثے کے بعد ابتدائی تین دن تک روس کی جانب سے حادثے کی حقیقت چھپانے کی کوشش کی گئی، اور مضحکہ خیز وضاحتیں دی گئیں۔ انہوں نے کہا کہ ہمارا طیارہ حادثاتی طور پر گرایا گیا، لیکن حقائق چھپانے کی کوششوں نے صورت حال کو مزید خراب کیا۔”
