turky-urdu-logo

خوجالی کو یاد رکھنا — ایک اخلاقی ذمہ داری

خوجالی کی نسل کشی، جس نے آذربائیجانی عوام کی تاریخی یادداشت پر ایک انمٹ نقش چھوڑا، بیسویں صدی کے انسانیت کے خلاف ہونے والے سنگین ترین جرائم میں شمار ہوتی ہے۔ یہ ایک خونی سانحہ تھا جس نے ثابت کیا کہ ایک پورے شہر — بلکہ درحقیقت ایک پوری قوم — کو دانستہ طور پر نشانہ بنایا گیا۔

فروری 1992 میں پیش آنے والا یہ واقعہ جنگی قوانین، بین الاقوامی قانون، اور انسانیت کے بنیادی اصولوں کی کھلی خلاف ورزی تھا۔

خوجالی ایک اسٹریٹجک اہمیت کا حامل شہری علاقہ تھا جہاں عام شہری آباد تھے۔ ایک طویل عرصے تک شہر محاصرے میں رہا، اور اس کے مکین خوراک، ادویات اور انسانی امداد سے محروم رہے۔

حملے کی رات شہر پر بھاری ہتھیاروں، بکتر بند گاڑیوں اور توپ خانے سے اندھا دھند گولہ باری کی گئی۔

جو شہری جان بچانے کے لیے فرار ہونے کی کوشش کر رہے تھے، انہیں جنگلات، گھاٹیوں اور کھلے میدانوں میں بے دردی سے قتل کر دیا گیا۔

خواتین، بچوں اور بزرگوں کو خاص طور پر بے رحمی کا نشانہ بنایا گیا۔ سینکڑوں افراد کو یرغمال بنا لیا گیا، اور آج تک بہت سے افراد کا کوئی سراغ نہیں مل سکا۔

یہ سانحہ کوئی حادثہ نہیں تھا۔

خوجالی کی نسل کشی آذربائیجان کے خلاف آرمینیا کی طویل المدتی نسلی تطہیر اور قبضے کی پالیسی کا حصہ تھی۔

اس کا مقصد کاراباخ کے علاقے سے آذربائیجانی وجود کو مٹانا، خوف پھیلانا، اور عوام کو اجتماعی نقل مکانی پر مجبور کرنا تھا۔

خوجالی میں ہونے والے مظالم اس منصوبے کا واضح اظہار تھے۔

مختصر اعداد و شمار

واقعے کی تاریخ: 26 فروری 1992

مقام: خوجالی، نگورنو کاراباخ، آذربائیجان

شہید ہونے والے افراد: تقریباً 613

63 بچے

106 خواتین

70 بزرگ

زخمی: تقریباً 487 افراد

یرغمال اور قیدی: 127 افراد

گھروں اور انفراسٹرکچر کی تباہی:

شہر کا بیشتر حصہ تباہ

1,275 گھر جلائے یا مسمار کیے گئے

بے گھر ہونے والے افراد:

تقریباً 8,000 افراد نقل مکانی پر مجبور ہوئے

انصاف کے لیے آذربائیجان کی جدوجہد

کئی برسوں تک اس سانحے کو بین الاقوامی سطح پر انصاف نہیں مل سکا۔

تاہم آذربائیجان کی ریاست نے خوجالی کی حقیقت کو دنیا کے سامنے لانے کے لیے مسلسل کوششیں جاری رکھیں۔

اس سانحے کی پہلی سیاسی اور قانونی تشخیص قومی رہنما حیدر علییف سے منسوب ہے۔

ان کی پہل پر:

خوجالی کو سرکاری طور پر نسل کشی قرار دیا گیا

26 فروری کو یومِ سوگ قرار دیا گیا

بعد ازاں:

خوجالی کی بین الاقوامی شناخت

شہداء کی یاد

اور حقیقت کو دنیا تک پہنچانا

ریاستی پالیسی کا اہم حصہ بن گیا۔

اس ضمن میں حیدر علییف فاؤنڈیشن نے عالمی سطح پر آگاہی مہمات میں اہم کردار ادا کیا۔

2020 کی جنگ — تاریخی انصاف کی علامت

2020 کی 44 روزہ جنگ کے دوران آذربائیجان کی فوج نے مقبوضہ علاقے آزاد کرائے۔

یہ صرف فوجی فتح نہیں تھی — بلکہ خوجالی کے شہداء کے لیے انصاف کی علامت بھی تھی۔

اسی جنگ کے دوران:

آرمینیا نے گنجہ، بردعہ، ترتار اور دیگر شہری علاقوں پر میزائل حملے کیے، جس سے ایک بار پھر ثابت ہوا کہ شہری آبادی کو نشانہ بنانا اس کی حکمت عملی کا حصہ ہے۔

اکتوبر 2023 میں صدر الہام علییف نے خوجالی میں قومی پرچم لہرا کر اس جدوجہد کو ایک علامتی تکمیل دی۔

خوجالی — صرف ایک واقعہ نہیں، ایک سوال ہے

خوجالی کو اکثر ایک خبر یا ایک تاریخی حوالہ سمجھا جاتا ہے۔

لیکن:

سرخیاں منجمد نہیں ہوتیں

حوالے بچوں کی چیخیں نہیں سنتے

اس رات لوگ ہتھیار نہیں اٹھائے ہوئے تھے۔

وہ اپنے بچوں کو اٹھائے ہوئے تھے۔

وہ فتح نہیں چاہتے تھے۔

وہ صرف زندگی چاہتے تھے۔

سب سے تکلیف دہ چیز صرف ظلم نہیں تھا — بلکہ اس کے بعد آنے والی خاموشی تھی۔

دنیا کے پاس:

الفاظ تھے

ادارے تھے

کیمرے تھے

مگر دنیا خاموش رہی۔

اور خاموشی کبھی غیر جانبدار نہیں ہوتی۔

خاموشی ہمیشہ کسی ایک فریق کا ساتھ دیتی ہے۔

خوجالی دنیا سے سوال کرتا ہے

اگر متاثرین کسی اور جگہ کے ہوتے

تو کیا خاموشی اتنی طویل ہوتی؟

انسانی حقوق خوجالی پہنچ کر خاموش کیوں ہو گئے؟

معصوموں کی موت سفارتی جملوں میں کیوں گم ہو گئی؟

یاد رکھنا کیوں ضروری ہے؟

کیونکہ بھول جانا — جرم میں شریک ہونا ہے۔

اس رات انسانیت کا امتحان ہوا۔

اور وہ خاموش رہ کر ناکام ہو گئی۔

خوجالی کو یاد رکھنا ضروری ہے۔

تاکہ:

بے حسی ہماری دنیا کا معمول نہ بن جائے۔

اور انسانیت زندہ رہے۔

خوجالی کے بارے میں لکھنا مشکل ہے۔

لیکن نہ لکھنا — اس سے بھی بڑا جرم ہے۔

خاموشی ایک دوسرا قتل ہے۔

خاموشی رضامندی ہے۔

اسی لیے خوجالی کو یاد رکھا جائے گا۔

خاموشی سے نہیں — سچ کے ساتھ۔

جذبات کے ساتھ — مگر انصاف کے ساتھ۔

مصنف کا تعارف :

فرید مصطفیٰ یوف آذربائیجان کی حکمران جماعت ینی آذربائیجان پارٹی (YAP) کے ضلع یاسامال کی علاقائی تنظیم کے نائب چیئرمین ہیں، جو وزارتِ سائنس و تعلیم کے تحت قائم انسٹیٹیوٹ آف سوائل سائنس اینڈ ایگروکیمسٹری میں کام کرتی ہے۔ وہ مغربی آذربائیجان کمیونٹی کے بھی سرگرم رکن ہیں اور خوجالی کے سانحے سمیت قومی تاریخ اور اجتماعی یادداشت کے موضوعات پر لکھتے اور آگاہی پیدا کرتے ہیں

Read Previous

پاکستان اور ترکیہ کا سکیورٹی و انسدادِ دہشت گردی تعاون مزید مضبوط بنانے پر اتفاق

Read Next

ترکیہ کا خوجالی قتلِ عام کے متاثرین کو خراجِ عقیدت، آذربائیجان سے یکجہتی کا اعادہ

Leave a Reply