ترکیہ کے صدر رجب طیب ایردوان نے جمعہ کے روز استنبول میں ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی سے ملاقات کی۔ صدارتی مواصلاتی ڈائریکٹوریٹ کے مطابق ملاقات میں دوطرفہ تعلقات اور خطے کی تازہ صورتحال پر تبادلۂ خیال کیا گیا۔
ملاقات میں ترک وزیر خارجہ حاقان فیدان بھی شریک تھے، تاہم صدارتی بیان میں گفتگو کی مزید تفصیلات جاری نہیں کی گئیں۔
اس سے قبل وزیر خارجہ حاقان فیدان نے اپنے ایرانی ہم منصب عباس عراقچی کے ساتھ علیحدہ ملاقات کی، جس کے بعد مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے امریکہ پر زور دیا کہ وہ ایران کے خلاف کسی بھی ممکنہ فوجی کارروائی کے لیے اسرائیلی دباؤ کو مسترد کرے۔ فیدان نے واضح کیا کہ انقرہ ایران کے خلاف کسی بھی فوجی مداخلت کی مخالفت کرتا ہے اور ایران سے متعلق مسائل کے پرامن، اندرونی اور عوام کی مرضی سے طے پانے والے حل کی حمایت کرتا ہے۔
ایرانی وزیر خارجہ کا یہ دورہ ایک ایسے وقت میں ہوا ہے جب ترکیہ تہران اور واشنگٹن کے درمیان ثالثی کی سفارتی کوششیں تیز کر رہا ہے۔ یہ پیش رفت ایسے مرحلے پر سامنے آئی ہے جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے خلاف فوری فوجی کارروائی کے خدشات کے حوالے سے اپنے بیانات میں نسبتاً نرمی دکھائی ہے۔
واضح رہے کہ دسمبر کے اواخر میں ایران میں معاشی مسائل کے خلاف احتجاج اور اس کے بعد کریک ڈاؤن کے باعث تہران اور واشنگٹن کے درمیان کشیدگی میں اضافہ ہوا تھا۔ اسی تناظر میں صدر ٹرمپ نے جمعہ کے روز بحری افواج کی نقل و حرکت کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ایران واشنگٹن کے ساتھ کسی ممکنہ معاہدے میں دلچسپی رکھتا ہے۔
یہ ملاقات خطے میں بڑھتی ہوئی سفارتی سرگرمیوں اور ترکیہ کے فعال ثالثی کردار کی عکاسی کرتی ہے، جس کا مقصد کشیدگی میں کمی اور سیاسی حل کی راہ ہموار کرنا ہے
