انقرہ — ترکیہ نے فلسطین کی آزادی اور خودمختاری کے حق میں ایک مرتبہ پھر دوٹوک موقف اپناتے ہوئے عالمی برادری سے فوری اور ٹھوس اقدامات اٹھانے کا مطالبہ کیا ہے۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ:
جن ممالک نے فلسطین کو ریاست کے طور پر تسلیم کیا ہے، وہ اب اس موقف کو عملی اور فیصلہ کن اقدامات سے مزید مضبوط کریں۔
فوری طور پر غزہ میں جنگ بندی ہونی چاہیے، بلا رکاوٹ انسانی امداد پہنچائی جائے، اور اسرائیلی فوجیں غزہ سے واپس بلائی جائیں۔
غزہ فلسطین کا لازمی حصہ ہے اور فلسطینی ہی یہ طے کریں گے کہ اپنی سرزمین کو کس طرح چلانا ہے۔
ترکیہ نے زور دیا کہ اب وقت آ چکا ہے کہ فلسطین کو اقوامِ متحدہ میں مکمل رکنیت دی جائے۔ ساتھ ہی فلسطینی اداروں کی صلاحیت بڑھانے، مالی و تکنیکی معاونت میں اضافے، اور UNRWA جیسے اداروں کی سرگرمیاں جاری رکھنے کو بھی ناگزیر قرار دیا گیا۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ ترکیہ اس جدوجہد میں فلسطینی عوام کے ساتھ کھڑا ہے اور جب تک 1967 کی سرحدوں پر مبنی ایک مکمل فلسطینی ریاست، جس کا دارالحکومت مشرقی یروشلم ہو، قائم نہیں ہو جاتی، ترکیہ اپنے عزم اور استقلال کے ساتھ اس جدوجہد کو جاری رکھے گا۔

