تحریر: تزئین حسن
پاکستان میں فلسطین کے حوالے سے جذباتیت تو بہت پائی جاتی ہے لیکن قوم کی اکثریت زمینی حقائق سے بے خبر ہے اور اسی نا وا قفیت کی وجہ سے عجیب عجیب غلط فہمیاں سمجھدار اور پڑھے لکھے لوگوں کے بیانیہ میں بھی نظر آتی ہیں-
رائے عامہ دوسرے تنازعات کی طرح یہاں بھی دو حصوں میں تقسیم ہے- لیکن دونوں حصے عام طور سے فلسطین کے پیچیدہ مسئلے کا ضرورت سے زیادہ سادہ منظرنامہ (انگریزی میں اوورسمپلی فائیڈ ورژن بھی کہا جاتا ہے) پیش کرتے ہیں- اس مسئلے کو عموماً ایک مذہبی تنازعہ کے طور پر دکھایا جاتا ہے۔ ایک منظر نامے کے تحت بیت المقدس میں یہود کا ہیکل سلیمانی موجود تھا اور اس طرح یہود کا حق فلسطین پر مذہبی لحاظ سے مسلمانوں سے زیادہ ہے۔ اس لئے مسلمانوں کو فلسطین سے دست بردار ہو جانا چاہئے۔ جبکہ دوسری طرف مسلمانوں کو یہ بتایا جاتا ہے کہ یہ قبلہ اول مسجد اقصیٰ کی حرمت اور حفاظت کا مسئلہ ہے- حقیقت یہ ہے کہ اس تنازعہ کو مذہبی رنگ دینے میں یہود کا فائدہ ہے-
اس موقف کی کمزوری پر ہم آگے بحث کرتے ہیں:
فی الحال اتنا سمجھ لیجئے کہ لاکھوں فلسطینیوں کو طاقت کے زور پر انکے گھروں سے نکا لنا اور انہیں ہمسایہ ممالک اور غزہ میں پناہ لینے پر مجبور کرنا اصل میں انسانی حقوق کا مسئلہ ہے اور اسےبین الاقوامی قانون کے تناظر دیکھنا چاہئے اور یہی تناظر فلسطینیوں کے حق میں بھی جاتا ہے۔
مسجد اقصیٰ کی حرمت مسلمانوں کے لئے یقیناً ایک جذباتی مسئلہ ہے لیکن اگر دنیا میں اس مسئلے کو اجاگر کرنا ہے تو اسے انسانی حقوق کے مسئلے کے طور پر پیش کرنا ہوگا اور عالمی انسانی حقوق کی اصطلاحات استعمال کر کہ اسے خود بھی سمجھنا ہو گا اور سمجھانا ہو گا- بین الاقوامی قوانین کے تناظر میں دیکھیں تو فلسطین کے منظر نامے میں کئ ایسے حقائق ہیں جنہیں آج کے قاری کے لئے سمجھنا ضروری ہے۔ ان میں سے ایک اسرائیل کی اپارٹائیڈ پالیسیز بھی ہیں۔ اپارٹائیڈ کا لفظ ایسے طرز حکمرانی کے لئے بولا جاتا ہے جس میں سرکاری سرپرستی میں نسلی عصبیت پر مبنی پالیسیاں باقاعدہ ایک پلاننگ کے تحت (institutionalized طریقے سے) اختیار کی جائیں اور ملک میں موجود دو قوموں یا نسلوں کے ساتھ الگ الگ برتاؤ کیا جائے۔ ایسا ایک قوم کو دوسری قوم پر برتری دلانے کے لئے کیا جاتا ہے- اپارٹآئیڈ انسانیت کے خلاف نسل کشی کے بعد دوسرا بڑا جرم تصور کیا جاتا ہے۔
یہ لفظ سب سے پہلے جنوبی افریقہ میں 1948سے لیکر 1990 کی دھائی کے آغاز تک گوروں کی حکومت میں مقامی آبادی کے ساتھ روا رکھے جانے والے سلوک کے لئے استعمال ہوا- حالیہ ادوار میں چین کے ایغور مسلمانوں کے ساتھ چینی حکومت کے امتیازی سلوک کے لئے بھی یہ لفظ استعمال ہو رہا ہے- اس نظام کے تحت سرکاری پالیسیوں میں ایک نسل (گورے، چینی، اسرائیلی یہودی) کی حیثیت دوسری نسل (کالے، ایغور، عرب فلسطینی) سے اونچی ہوتی ہے اس لئے سرکار کی پالیسیاں برتر نسل کی حمایت میں بنائی جاتی ہیں اور دوسری نسل کے ساتھ باقاعدہ پلاننگ کے ساتھ امتیاز برتا جاتا ہے- یہ امتیاز دوسری نسل کو مسلسل کمزور اور بنیادی حقوق اور زندگی گزرنے کے وسائل سے محروم کرتا چلا جاتا ہے۔
اپارٹآئیڈ کا اردو ترجمہ نسلی عصبیت کیا جاتا ہے لیکن چونکہ بین الاقوامی قانون میں یہ ایک تکنیکی اصطلاح ہے اس لئے ہم اورجنل اصطلاح ہی استعمال کریں گے۔ اسرائیل کا طرز حکمرانی اپنی حدود میں رہنے والے فلسطینی عربوں کے ساتھ 1948 سے نسلی عصبیت پر مبنی رہا ہے اور اب دنیا بھی اس پر آواز اٹھانے لگی ہے۔
اپریل 2021 میں انسانی حقوق کے معروف ادارے ہیومن رائٹس واچ نے اپنی 213 صفحات پر مبنی رپورٹ میں کہا ہے کہ اسرائیل فلسیطنیوں کے خلاف اپارٹ آئیڈ یعنی نسلی عصبیت پر مبنی قوانین اور پالیسیز کا ارتکاب کر رہا ہے۔ رپورٹ میں ان اقدامات کو انسانیت کے خلاف جرائم قرار دیا گیا- ہیومن رائٹس واچ نے انٹرنیشنل کرمنل کورٹ (آئی سی سی) سے یہ مطالبہ بھی کیا ہے کہ وہ اپارٹائیڈ اور جنگی جرائم میں ‘ملوث افراد کے خلاف تحقیقات اور قانونی کاروائی کا آغاز کرے۔’ مذکورہ رپورٹ سے چند ہفتے قبل آئ سی سی نے اسرائیل اور حماس دونوں کے جنگی جرائم کی تحقیقات کا اعلان کیا- فلسطینی اتھارٹی نے اس مطالبے کا خیر مقدم کیا، لیکن اسرائیل نے ان تحقیقات کو سامی مخالف یعنی یہود مخالف قرار دیکرانہیں عدالت کے دائرہٕ کار سے باہر قرار دیکر مسترد کر دیا ہے۔
اب آیئے چند سادہ تاریخی حقائق کا جائزہ لیتے ہیں۔
فلسطین کی تقسیم کے حوالے سے اقوام متحدہ کی قرارداد کے کچھ ہی مہینے بعد 1948 میں اسرائیل نے فلسطین کے اٹھتر (78) فیصد علاقے پر قبضہ کر لیا تھا۔ ساڑھے سات لاکھ فلسطینیوں کو اردن، لبنان اور شام ایک باقائدہ منصوبے کے تحت بھاگنے پر مجبور کیا گیا۔ انہیں باہر نکال کر انکی واپسی کے تمام راستے مسدود کئے گئے۔ ان کے گھروں کی قیمتی اشیاء لوٹ کر انہیں مسمار کر دیا گیا- یہی نہیں انکے پھلدار درختوں کو کاٹ کر وہاں ایسے درخت لگائے گئے جو کسی قسم کی غذا فراہم نہیں کر سکتے۔ یہی نہیں ان گاؤں کے گرد باڑ لگا کر انہیں کلوز ملٹری زون ڈکلئیر کیا گیا۔ جہاں کسی در انداز کی موجودگی کی صورت میں اسے فوراً شوٹ کیا جا سکتا ہے۔ ایسا اس لئے کیا گیا کہ اگر لبنان، اردن سے کوئی فلسطینی مہاجر واپس آنے میں کامیاب بھی ہو جائے تو وہ اپنے گاؤں پہنچ کر دوبارہ اپنا گھر نہ بنا سکے اور انکے درخت اور فصلیں انہیں زندہ رہنے کے لئے غذا فراہم نہ کر سکیں۔ اسرائیل نے ہجرت کرنے والے فلسطینیوں کو بین الاقوامی قانون کے تحت رائٹ آف ریٹرن کا حق دینے سے انکار کر دیا۔
اس معاملے کا ایک اور پہلو اسرائیل کی حدود میں رہنے والے عرب فلسطینی بھی ہیں جنکی تعداد 1948 میں اسرائیل کے قیام کے بعد ڈیڑھ لاکھ رہ گئی تھی ۔ آج یہ اسرائیل کی آبادی کا بیس فیصد ہیں- حالیہ دنوں میں انکے خلاف اسرائیل کے صیہونی شہری وہی کر رہے ہیں, جو انڈیا کے مسلمانوں کے ساتھ ہو رہاہے جی ہاں عرب فلسطینیوں کی مآب لنچنگ کی کئی وارداتیں اسرائیل کے مختلف شہروں میں سامنے آئی ہیں- لیکن حالیہ تنازعہ کے شور میں اس مآب لنچنگ کو وہ عالمی کوریج نہیں مل رہی جو ملنی چاہئے۔
یاد رہے اسرائیل کی آبادی کا بیس فیصد فلسطینی، ان فلسطینیوں کے علاوہ ہیں جو مغربی کنارے اور غزہ یعنی فلسطینی اتھارٹیز کے تحت ایک محصور زندگی گزار رہے ہیں- یہ بھی یاد رہے کہ فلسطینی اتھارٹیز پر بھی حتمی کنٹرول اسرائیل کا ہی ہے کیونکہ انہیں الگ ملک تسلیم کرنے کے باوجود اسرائیلی ریاست ہی انکے زمینی، فضائی، اور بحری راستے کنٹرول کر رہی ہے- اس طرح عملاً یہ فلسطینی ایک اوپن ایئر کنسنٹریشن کیمپ میں زندگی گزار رہے ہیں- یہ اپنی ٹیکس کلیکشن تک کے لئے آزاد نہیں۔ یہ اپنے سرکاری ملازمین کی تنخواہیں تک اسرائیل کی مرضی کے بغیر ادا نہیں کر سکتے- ان شہریوں کی بجلی پانی تک اسرائیل کے کنٹرول میں ہیں- اسرائیل جب چاہتا ہے انکے فنڈز ادا کرنے سے انکار کر دیتا ہے۔ غزہ کے رہائشیوں نے چونکہ حماس کو منتخب کیا ہے جسے اسرائیل مزاحمت کے با عث دہشت گرد قرار دیتا ہے اس لئے اسرائیل نے انکی ناکہ بندی مغربی کنارے سے بہت زیادہ زیادہ سخت کر رکھی ہے۔
دوسری طرف اسرائیل کی حدود میں رہنے والے زیادہ تر وہ فلسطینی ہیں جو 1948 کے وقت اسرائیل کے شہروں میں مقیم تھے۔ یہ بظاہر اسرائیلی شہری ہیں۔ انکے پاس ووٹ دینے کا حق بھی ہے اور اسرائیلی پاسپورٹ بھی۔ لیکن یہ بھی پچھلے بہتر سال سے مسلسل اپارٹائیڈ پالیسیز کا سامنا کر رہے ہیں۔ 1948 کے بعد سے ہی ان پر مختلف نوعیت کی پابندیاں ہیں۔
اسرائیل کے ان جرائم کو بے نقاب کرنے کے لئے مغرب میں فلسطینی حامی مصنفین نے کئی کتابیں لکھیں- ناصرہ شہر میں مقیم معروف برطانوی صحافی جوناتھن کک جو فلسطین ایک مسئلے پر تین کتب تحریر کر چکے ہیں کے مطابق اسرائیل کے قیام کے بعد ان فلسطینیوں کو بغیر اجازت اپنا علاقہ چھوڑنے کی اجازت نہیں تھی۔ انہیں کسی دوسرے علاقے میں کام کرنے کے لئے سرکاری اجازت نامہ درکار ہوتا ہے۔ یہ ایک بہت معمولی سی مثال ہے لیکن ایسی پابندیاں آپکے روزگار اور معاش کے حق پر براہ راست اثر انداز ہوتی ہیں- لیکن ان اپارٹائیڈ پالیسیز کا سب سے زیادہ کریہہ پہلو فلسطینیوں سے انکے گھر اور گاؤں خالی کروا کر وہاں مسلسل یہودی بستیاں بسانا یا انکے گھروں میں یہودیوں کو آباد کرنا ہے۔
1967 کی جنگ میں کامیابی اور فلسطین کے سو فیصد رقبے پر قبضے کے بعد اسرائیل نے باقاعدہ ایک منصوبے کے تحت مشرقی یروشلم اور مغربی کنارے کے درمیاں یہودی بستیاں قائم کیں تاکہ فلسطینیوں کو مسلسل تقسیم کیا جائے۔
پچھلے چون 54 سال سے فلسطینی آبادیوں کی تقسیم کا سلسلہ مسلسل جاری ہے۔ مشرقی یروشلم، مغربی کنارے اور غزہ کی پٹی کو ایک دوسرے سے الگ کرنے کے علاؤہ خود مغربی کنارے میں بھی لاتعداد صیہونی بستیاں قائم کی گئیں۔ اس طرح فلسطینی آبادیوں کو مسلسل ایک دوسرے سے کاٹ کر گھیٹوز میں تبدیل کیا گیا اور انہیں اپنی ضروریات کے لئے خود انحصار نہیں رہنے دیا گیا۔ فلسطینی ایک گاؤں سے دوسرے گاؤں کبھی کبھی اسکول، صحت کے مراکز اور ہسپتال جانے کے لئے بھی اسرائیلی چیک پوسٹوں جو اپارٹائیڈ پالیسیز کی ہی ایک شکل ہے- فلسطینی گاؤں کو سڑکوں کے ذریعے ایک دوسرے سے جدا کیا گیا ہے جن پر اسرائیل کا قبضہ ہے۔
دنیا نے اسرائیل کے قیام کو تو تسلیم کر لیا لیکن 1967 میں اسرائیل نے فلسطین کے باقی ماندہ بائیس فیصد پرجو قبضہ کیا وہ عالمی قوانین کے مطابق غیر قانونی ہے- وہ تمام علاقہ جو اس جنگ کے بعد ہضم کیا گیا ہے اور وہ تمام بستیاں جن کی تعمیر اسکے بعد کی گئی عالمی برادری اور بین الاقوامی قانون کے تحت غیر قانونی ہیں- اسی لئے جنرل اسمبلی نے کئی مرتبہ اسرائیل کے خلاف قراداد منظور کی- آخری قرارداد ٢٠١٧ میں یروشلم یا بیت المقدس کو اسرائیل کے دار الخلافہ قرار دینے کے خلاف تھی۔
اس قبضے کے پچیس برس بعد امریکا اور عالمی برادری کی کوششوں سے سن 1994 میں اوسلو امن مذاکرات کا آغاز کیا گیا تو دنیا اور یاسرعرفات کی لیڈر شپ کا خیال تھا کہ اسرائیل مشرقی یروشلم، مغربی کنارے اورغزہ کی بائیس فیصد رقبے پر فلسطینی ریاست کی تشکیل کے لئے سنجیدہ ہے- لیکن نوے کی دھائی میں یہودی بستیوں کی تعمیر میں تیزی آ گئی- مذاکرات جاری تھے اور باقی ماندہ فلسطین میں یہودی بستیوں کی تعداد بھی جاری تھی جس سے فلسطینوں کو مزید کونے میں دھکیلا جا رہ تھا۔
سن 2000 میں کیمپ ڈیوڈ میں اسرائیل کے وزیراعظم ایہود بارک نے یاسر عرفات کو پیشکش کی کہ وہ اس بائیس 22 فیصد میں سے اسی 80 فیصد رقبہ قبول کرلیں اور مشرقی یرو شلم اور مغربی کنارے میں جو یہودی بستیاں بسائی گئیں ہیں انکا خیال دل سے نکال دیں- اسے ساتھ ہی یروشلم کے بجائے اسکے قریب ایک گاؤں میں فلسطینی اتھارٹی کا دار الحکومت بنانے کی اور گاؤں کا نام القدس رکھنے کی پیشکش بھی کی گئی- ظاہر ہے اس شاندار پیشکش کو یاسرعرفات قبول نہ کر سکے۔
ان مذاکرات کی ناکامی کا ذمہ دار امریکا اور اسرائیل نے یاسر عرفات کو ٹھہرایا- ایک اسرائیلی سیاست دان کا کہنا تھا کہ |”فلسطینی کسی بھی "موقعہ کو ہاتھ سے جانے” کا "موقعہ” ہاتھ سے نہیں جانے دیتے-” یہی بات ہمارے کچھ دانشور بھی دہراتے ہیں کہ فلسطینی خود ہی اسرائیل سے امن کے لئے سنجیدہ نہیں ہیں۔
لیکن اسرائیل کی جوع فی العرض یعنی زمین کی حرص ابھی ختم نہیں ہوئی تھی- سن 2002 میں ویسٹ بینک اور غزہ میں فلسطینیوں کو اس اسی 80 فیصد کے بھی محض بیالیس 42 فیصد میں عملاً محصور کرنے کے لئے آہنی دیواریں تعمیر کی گئیں- یعنی اب فلسطینیوں کے پاس عملاً فلسطین کی سرزمین کے سو فیصد کا بائیس فیصد کا اسی فیصد کا محض بیالیس فیصد ہے- یہ فلسطین کے کل رقبے کا سات اشارہ تین نو فیصد یعنی ساڑھے سات فیصد سے کچھ کم رقبہ ہے- لیکن اس ساڑھے سات فیصد پر بھی اسرائیل فلسطین کو خود مختار ریاست بنانے کی اجازت نہیں دے رہا۔
اہنی دیواروں کی تعمیر بھی دراصل اپارٹائید پالیسیز کا حسہ ہیں جنکے ذریعے غزہ اور مغربی کننارے کے باسیوں کو اسرائیلی آبادی سے الگ کر دیا گیا جس نے ان آبادیوں کے مسائل میں بے پناہ اضافہ کر دیا- بعد ازاں غزہ کی پٹی (جو محض اٹھائیس کلومیٹر لمبی اور چھے کلومیٹر چوڑی اور تقریباً بیس لاکھ کی آبادی کا مسکن ہے) سے تو اسرائیل نے اپنی غیر قانونی بستیاں ختم کر لی ہیں لیکن مغربی کنارے میں اور مشرقی یروشلم میں یہودی بستیاں بنا کر صیہونی آباد کاریاں جاری ہیں اور اس عمل کے نتیجے میں جو بائیس فیصد حصہ 1967 سے پہلے فلسطین کے پاس تھا ان میں بھی اسرائیل کا کنٹرول مزید طاقت ور ہوتا جا رہا ہے۔
جس چیز کو ہمارے دانشور سمجھنے میں ناکام ہیں وہ یہ ہے کہ اسرائیل فلسطینی اتھارٹی کو آزاد اور خود مختار اسٹیٹ کے اختیارات دینے پر راضی نہیں ہے- اس باقی ماندہ زمین کے فضائی، بحری، اور زمینی راستوں پر پوری طرح اسرائیل کا کنٹرول ہے- فلسطینی نہ اپنی مرضی سے کہیں جا سکتے نہ آ سکتے نہ تجارت کر سکتے- انہیں اپنی بھری حدود میں مچھلیاں پکڑنے کی بھی اجازت نہیں۔
ماہرین کے مطابق ایسا مستقبل میں کسی بھی فلسطینی ریاست کو قیام میں عمل میں آنے سے روکنے کے لئے کیا گیا- ہمارے سادہ لوح بھائی یہ سمجھتے کہ اسرائیل کا جھگڑا بس حماس سے ہے- اگر حماس اپنی کاروائیوں سے باز آ جائے تو "اسرائیل تو فلسطینی ریاست کے قیام میں سنجیدہ ہے۔
یہودی بستیوں کی آباد کاری
ان یہودی بستیوں کی آباد کاری میں بھی شدید بے رحمی کا مظاہرہ کیا جاتا ہے۔ گھر والوں کو چند دن قبل اطلاع دے دی جاتی ہے کہ وہ اپنا گھر خالی کر دیں ورنہ سرکار کسی جانی یا مالی نقصان کی زمہ دار نہیں ہوگی۔ امریکی نوجوان امن ایکٹوسٹ راشیل کوری کی کہانی بہتوں کو یاد ہوگی جو گھروں کو مسمار کرنے سے روکنے کے لئے بلڈوزر کے سامنے کھڑی ہوگئی اور بلآخر خود بھی بلڈوزر ہو کر جان سے گئ۔ اس واقعے سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ اسرائیلی حکومت کی پالیسیز کس قدر بے رحم اور بے لچک ہیں۔ جب ایک امریکی لڑکی کےاحتجاج کے سامنے بلڈوزر نہ رک سکا تو فلسطینیوں کے ساتھ کیا کیا جاتا ہوگا۔ ذرا تصور کریں کہ آپ کو اطلاع دی جاتی ہے کہ سرکار آپکا گھر مسمار کرنے فلاں دن بلڈوزر بھیجے گی- آپ اپنے گھروالوں، بچوں، مال اور مستقبل میں اپنی رہائش کے خود ذمہ دار ہیں- اب آپ اپنا سامان اور بال بچے سمیٹ کر اسرائیل کی حدود سے باہر جہاں بھی جانا چاہیں آزاد ہیں- خوش حال فلسطینی کرائے کا گھر افورڈ کر سکتے ہیں لیکن بہت سی یہودی بستیوں میں انہیں کورٹ کے فیصلے کے باوجود گھر کرائے پر نہیں دیا جاتا۔
حالیہ تنازع جواب پوری طرح جنگ میں تبدیل ہو چکا ہے ابھی مشرق بیت المقدس میں شیخ جراح نامی گاؤں میں فلسطینی شہریوں کو انکے گھروں سے بے دخل کرنے کے واقعے کے بعد مسجد اقصیٰ میں اسکے خلاف فلسطینی عوام کے احتجاج سے شروع ہوا۔ جسکے بعد اسرائیل نے مسجد اقصیٰ میں پولیس آپریشن کے ذریعے اس احتجاج کو طاقت سے کچلنےکی کوشش کی۔
اسرائیل کے نہتےعوام پر آپریشن کے خلاف حماس نے الٹیمیٹم جاری کیا کہ اسرائیلی قانون نافذ کرنے والے مسجد اقصیٰ سے نکل جائیں ورنہ حماس مزاہمت کرے گی- صورت حال یہ کہ بین الاقوامی قانون کے ماہرین کا کہنا ہے کہ فلسطینیوں کو مزاحمت اور اپنے دفاع کا حق حاصل ہے۔
ہمارے ہاں فلسطین کے پچید ہ مسئلے کی تصویر کشی ایک مذہبی تنازعہ کے طور پر کی جاتی ہے جس سے صیہونی موقف کی حمایت ہوتی ہے- کیونکہ فلسطین یا بیت المقدس میں مسجد اقصیٰ سے پہلے یہود اور عیسائیوں کے مذہبی مقامات موجود تھے، اور اس طرح یہود کا حق فلسطین پر مذہبی لحاظ سے مسلمانوں سے زیادہ ہے۔
حدیث شریف میں مسلمان کی جان اور مال کو کعبہ شریف کی اضات سے زیادہ محترم قرار دیا گیا ہے- مسجد اقصیٰ کی حرمت کے ساتھ ساتھ ہمیں فلسطینیوں جن میں مسلمانوں کے علاوہ عرب عیسائی بھی شامل ہیں کہ جان، مال اور عزت کی حفاظت کے لئے بھی سنجیدہ ہونا چاہیے- قبلہ اول ہمارے لئے بہت اہم لیکن اس مسئلے کی مذہبی رنگ دینے سے مسلمانوں کا موقف کمزور پڑتا ہے- یہ وہی غلطی ہے جو ہم کشمیر کو پاکستان کی شہ رگ قرار دیکر کرتے رہے ہیں۔
انڈیا ہمیشہ سے یہی چاہتا ہے کہ دنیا کو باور کرائے کہ کشمیر انڈیا اور پاکستان کے درمیان ایک علاقائی تنازعہ ہے- جبکہ بین الاقوامی قوانین کے تحت کشمیریوں کے حق خود ارادیت اور انسانی حقوق کا مسئلہ ہے۔
دنیا کو فلسطینی مسئلے کو انسانی حقوق کے دائرے میں دکھانا ہو گا- اسکے لئے عالمی ہیومن رائٹس، بین الاقوامی قانونی، کے مطابق انسانیت کے خلاف جرائم، نسل کشی، نسلی عصبیت، جنگی جرائم کی اصطلاحات کے ذریعے فریم کرنا ہو گا
یہ سارے قوانین اور انسانی حقوق راقم کی نظر میں کم و بیش وہی ہیں جو قران و سنت خصوصاً میثاق مدینہ اور حجت الوداع کے خطبات سے صراحت کے ساتھ بیان کے گئے ہیں۔
فلسطین پر پہلا حق کس کا
تاریخی حقیقت یہ ہے کہ آرکیا لوجی اور عالمی تاریخ کے مطابق یہاں بنی اسرائیل سے قبل کنعانی رہتے تھے- ان کنعانیوں نے بنی اسرائیل کا مذہب اپنایا- معروف اسرائیلی صحافی، امن ایکٹوسٹ اوراسرائیلی ڈیفنس فورسز کے سابق سپاھی اوری ایونری کے مطابق خود اسرائیل کے اپنے محققین کی تحقیق کے مطابق فلسطین کی آبادی قدیم زمانوں سے تبدیل نہیں ہوئی- اپنے ایک مضمون ‘Whose Acre’ میں اونری لکھتے ہیں کہ خود اسرائیل کے دوسرے صدر یتزک بن زیوی کی ریسرچ کے مطابق فلسطین کی سر زمین کی آبادی تاریخ کے ابتدائی زمانوں سے لیکر انیسویں صدی کے اول وآخر میں صیہونی بستیوں کے قیام تک تبدیل یاں ہوئ تھی. کنعانی آبادی، بنی اسرائیل(حضرت یعقوب کی اولاد جو بعد ازاں یہودی کہلائے) کے ساتھ مدغم ھوئی اور یہودی ہو گئی، رومی سلطنت میں عیسائیت پھیلنے کے بعد یہ عیسائ ھو گئے. دور فاروقی کی مسلم فتح کے بعد آبادی کی اکثریت ںے اسلام قبول کیا اور عرب کلچر اور زبان کو اپنا لیا. یوری اونری کے مطابق یورپ کے اشکنازی یہودیوں کی بڑے پیمانے پر ہجرت سے پہلے یہاں جو عربی بولنے والے یہودی، عیسائی اور مسلمان آباد تھے وہی در اصل اس سرزمین کے اصل وارث تھے۔
یہ بھی یاد رہے کہ اسرائیل کے قیام کی جدو جہد کرنے والے صیہونی یہودیوں کی اکثریت سیکولر نظریات کی حامل ہے جو مذہب کو ریاست سے الگ پرائیویٹ معا ملہ سمجھتے ہیں- اسی لئے یروشلم میں ہر سال گے (ہم جنسوں کی ) پریڈ ہوتی ہے- جسکے مذہبی یہودی شدید مخالف ہیں- اسکے علاوہ اسرائیل میں عرب یہودیوں کے خلاف بھی شدید امتیاز اور تفریق برتی جاتی ہے- اسرائیلا صحافی اور محقق شوشانہ مدمونی نے اس موضوع پر ایک کتاب بھی تصنیف کی ہے عرب یہودیوں کے ساتھ اسرائیلی ریاست کے سلوک پر راقم کا ایک تفصیلی فیچر موجود ہے۔
اس معاملے کا ایک پہلو یہ بھی ہے کہ تاریخ گواہ ہے اور خود عرب فلسطینیوں کا کہنا ہے کہ بالفور ڈکلریشن سے پہلے فلسطین میں مسلمان، عیسائی اور یہودی مل جل کر رہتے تھے- عربی بولنے والے عیسائی اور یہودی، فلسطین میں ہمیشہ ایک معقول تعداد میں موجود رہے اور انکے اور فلسطینی مسلمانوں کےدرمیان کبھی دنگے فساد نہیں ہوے جبکہ یورپ سے آئے یہودیوں کی بستیوں کے قیام سے قبل ان میں نوے فیصد سے زائد مسلمان تھے۔
