پاکستان کے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی اہم سفارتی مشن پر ترکی پہنچے جہاں وہ فلسطین کی تیزی سے بگڑتی ہوئی صورتحال پر دنیا کی توجہ دلوانے کی کوشش کر رہے ہیں۔
وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے تر کی میں صدر رجب طیب ایردوان اور وزیر خارجہ مہوت چاوش اولو سے ملاقات کی۔
شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ اگر پاکستان اور ترکی فلسطینوں کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑے رہیں تو کوئی بھی طاقت انکا کچھ نہیں بگاڑ سکتی۔
ایک بیان میں شاہ محمود قریشی نے کہا کہ اگر عالمی برادری فلسطینی صورتحال پر خاموش رہی تو یہ ‘نوحہ خوانی ہوگی’۔
انہوں نے یورپی ممالک میں مسلم کمیونٹی سے مطالبہ کیا کہ وہ غزہ میں فلسطینیوں پر اسرائیل کے ظلم و ستم کو روکنے میں مدد کے لیے اپنا کردار ادا کریں۔
وزیر خارجہ نے کہا کہ فلسطین میں بمباری کے نتیجے میں بجلی کی بندش ہوئی ہے اور اشیائے ضروریات کی فراہمی متاثر ہوئی ہے۔
انکا مزید کہنا تھا کہ اسرائیل اس معاملے کو مزید ‘پیچیدہ’ کر رہا ہے اور تل ابیب کے جنگی طیاروں کی بمباری فلسطینیوں کو صحت کی دیکھ بھال تک رسائی سے روک رہی ہے۔
شاہ محمود قریشی نے کہا کہ ‘رکاوٹیں پیدا کی جارہی ہیں’ تاکہ فلسطینی وزیر خارجہ غزہ کی صورتحال کے بارے میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس آگاہ نہ کرسکیں۔
وزیر خارجہ کا ی مزید کہنا تھا کہ ‘ہم فلسطینی وزیر خارجہ کا انتظار کریں گے اور چاہتے ہیں کہ وہ ہمارے ساتھ سیشن میں شریک ہوں’۔
ترکی کے بعد شاہ محمود قریشی اپنے نیو یارک کے دورے کے دوران مختلف سیاسی شخصیات سے ‘اہم ملاقاتیں’ کریں گے اور ‘یو این جی اے میں مظلوم فلسطینیوں کے لیے آواز اٹھائیں گے’۔
وہ مقامی اور بین الاقوامی میڈیا کے نمائندوں سے بھی بات کریں گے اور فلسطین کی صورتحال سے متعلق پاکستان کے مؤقف کو ان تک پہنچائیں گے۔
شاہ محمود قریشی نے 21 مئی کو فلسطین میں جاری اسرائیلی جارحیت کے خلاف ملک بھر میں پرامن احتجاج کی کال دینے کے لیے قومی اسمبلی کے پلیٹ فارم کا استعمال کیا تھا۔
وزیر خارجہ نے کہا تھا کہ پاکستان اور ترکی نے فلسطینی عوام پر صیہونی مظالم کے خلاف اقوام متحدہ میں آواز اٹھانے کا فیصلہ کیا ہے۔
انہوں نے کہا تھا کہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کا ہنگامی اجلاس بلانے کا مطالبہ کیا جائے گا جہاں وہ اور ان کے ترک ہم منصب فلسطین کے لیے آواز اٹھائیں گے۔
شاہ محمود قریشی نے کہا کہ پاکستان کی واضح پوزیشن ہے کہ اسرائیل کا ان فلسطینیوں سے مقابلہ نہیں کیا جانا چاہیے جو تل ابیب کے مظالم کا سامنا کررہے ہیں۔
وزیر خارجہ کی طرف سے پیش کی جانے والی ایک قرارداد میں فلسطینی عوام کی منظم اور سفاکانہ حق تلفی، اخراج اور نسلی صفائی کی شدید مذمت کی گئی۔
