رکن بھارتی پارلیمنٹ اور کانگرس جنرل سیکرٹری جیرام رامیش نے مودی حکومت کی مغربی ایشیا میں خارجہ پالیسی کی ناکامی پر کہا کہ پاکستان کا امریکہ-اسرائیل اور ایران جنگ میں ثالثی کرنا بھارت کے لیے ” جھٹکا” ہے۔
انہوں نے بھارت کی اس سفارتی نامی کی وجہ وزیراعظم نریندر مودی کی خود ساختہ "وشو گورو” ڈپلومیسی کو ٹھہرایا۔
انہوں نے وزیر خارجہ جے شنکر کو بھی نشانہ بناتے ہوئے کہا:
"جے شنکر حکومت کی سفارتی شرمندگی کو چھپانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ پاکستان جو سیاسی، سماجی، اقتصادی اور عالمی پر نازک صورتحال میں تھا اب پنی سفارتی کوششوں سے نئی جان پا چکا ہے ۔ بھارت کی بزدلی نے پاکستان کو ثالث ملک بنا دیا ہے۔”
کانگریس نے پارلیمنٹ میں مغربی ایشیا کے معاملے پر مکمل بحث کا مطالبہ کیا اور کہا کہ حکومت نے بھارت کے قومی مفادات کی مکمل ناکامی دکھائی ہے۔
