انقرہ میں پاکستانی سفارت خانے نے جمہوریہ ترکیہ کی 100ویں سالگرہ کے موقع پر ایک خصوصی تقریب کا اہتمام کیا۔

ترکیہ میں پاکستان کے سفیر یوسف جنید نے ترک معززین کی میزبانی کی جن میں انقرہ کے گورنر واسپ ساہن، انقرہ کے میئر منصور یاواس، پاک ترک پارلیمانی فرینڈ شپ گروپ کے چئیر مین علی شاہین کے علاوہ دیگر تعلیمی، کاروباری اور میڈیا سے تعلق رکھنے والے افرد نے تقریب میں شرکت کی۔
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے علی شاہین کا کہنا تھا کہ دونوں ممالک کے درمیان صدیوں پرانے برادرانہ اور تزویراتی تعلقات نہ صرف باہمی مضبوطی کا باعث ہیں بلکہ دونوں ممالک کی قیادت اور وژن کے تحت علاقائی استحکام کے لیے مضبوط تعلق کا کام بھی کرتے ہیں۔

یاواس نے اپنی طرف سے اس بات پر زور دیا کہ پاکستان اور ترکیہ کے گہرے تاریخی، ثقافتی اور برادرانہ تعلقات ہیں اور یہ دوستی "مشترکہ اقدار اور باہمی مفادات” کی بنیاد پر آنے والے سالوں میں مزید مضبوط ہوگی۔
اپنے ریمارکس میں واسپ نے کہا کہ پاکستان اور ترکیہ کے تعلقات مثالی ہیں کیونکہ دونوں ممالک ہمیشہ ضرورت کے وقت ایک دوسرے کے ساتھ کھڑے رہے ہیں اور علاقائی اور عالمی پلیٹ فارمز پر ایک دوسرے کا مسلسل ساتھ دیا ہے۔
ترک قوم کو سالگرہ کی مبارکباد دیتے ہوئے پاکستانی سفیر ڈاکٹر یوسف جنید کا کہنا تھا کہ جمہوریہ کی صد سالہ،ترک قیادت اور عوام کے غیر متزلزل عزم اور وژن کا منہ بولتا ثبوت ہے، جنہوں نے سنگین چیلنجوں کے باوجود ایک خوشحال اور جمہوری قوم کی تعمیر کے لیے انتھک محنت کی۔

سفیر نے اس بات پر بھی روشنی ڈالی کہ ترک صدر رجب طیب ایردوان کی ” قیادت میں ترکیہ کی ترقی نے نئی بلندیاں حاصل کیں اور ملک ایک مضبوط اور خوشحا” قوم کے طور پر ابھرا۔
شاندار پاکستان-ترکیہ کے دوطرفہ تعلقات کو اجاگر کرتے ہوئے، سفیر نے اس بات کا اعادہ کیا کہ ایک قومی دو ریاستیں دونوں ممالک کے درمیان برادرانہ تعلقات کو بہترین انداز میں بیان کرتی ہے، جس کی بنیاد مشترکہ مذہبی، ثقافتی اور لسانی وابستگیوں اور مشترکہ تاریخ پر رکھی گئی ہے۔

