turky-urdu-logo

پاکستان اور ترکیہ کا سکیورٹی و انسدادِ دہشت گردی تعاون مزید مضبوط بنانے پر اتفاق

پاکستان کے وزیرِ مملکت برائے داخلہ طلعت چوہدری نے انقرہ کا دو روزہ سرکاری دورہ مکمل کر لیا، جس کے دوران انہوں نے سکیورٹی، انسدادِ دہشت گردی اور منشیات کی روک تھام کے شعبوں میں ترکیہ کے ساتھ ادارہ جاتی تعاون کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ کیا۔

وزیرِ مملکت کی قیادت میں اعلیٰ سطح وفد میں سیکریٹری داخلہ اور وزارتِ داخلہ کے اہم شعبہ جات کے سربراہان شامل تھے۔ دورے کے دوران پاکستانی وفد نے ترکیہ کے نائب وزیرِ داخلہ منیر کرالوغلو اور دیگر سینئر حکام کے ساتھ مشترکہ اجلاس کیا، جس میں دونوں ممالک کی وزارتِ داخلہ کے درمیان رابطوں اور ہم آہنگی کو فروغ دینے پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

وفد نے ترکیہ کے پولیس، انسدادِ دہشت گردی، امیگریشن اور انسدادِ منشیات کے محکموں کا بھی دورہ کیا، جہاں عملی تعاون کو بہتر بنانے اور بہترین طریقہ کار کے تبادلے پر تفصیلی گفتگو ہوئی۔

رمضان المبارک کے موقع پر طلعت چوہدری نے وزیرِ اعظم شہباز شریف اور وفاقی وزیرِ داخلہ محسن نقوی کی جانب سے نیک تمناؤں کا پیغام پہنچایا اور اس عزم کا اظہار کیا کہ پاکستان امن، سکیورٹی اور مؤثر نتائج کے حصول کے لیے ترکیہ کے ساتھ قریبی تعاون جاری رکھے گا۔

ترکیہ گزشتہ کئی برسوں سے دہشت گردی کے خطرات سے نمٹنے کے لیے مؤثر اقدامات کرتا آ رہا ہے، خصوصاً داعش اور پی کے کے جیسے گروہوں کے خلاف کارروائیوں میں نمایاں کامیابیاں حاصل کی ہیں۔ پاکستان بھی داعش اور تحریک طالبان پاکستان کے خلاف برسرِ پیکار ہے اور اس ضمن میں ترکیہ کے تجربات سے استفادہ کر سکتا ہے۔

وزیرِ مملکت کا یہ دورہ دونوں ممالک کے درمیان وسیع تر دوطرفہ تعلقات کو مزید گہرا کرنے کی جاری کوششوں کا حصہ ہے۔ گزشتہ سال جولائی میں ترکیہ کے صدر رجب طیب اردوان اور وزیرِ اعظم شہباز شریف نے تجارت، دفاع، توانائی، رابطہ سازی اور سرمایہ کاری سمیت اہم شعبوں میں تعاون بڑھانے کے عزم کا اعادہ کیا تھا۔

ستمبر 2025 میں ترکیہ کے وزیرِ دفاع یاسر گولر نے اسلام آباد کا دورہ کیا اور ترکیہ۔پاکستان مشترکہ اقتصادی کمیشن کے 16ویں اجلاس میں شرکت کی، جس میں بڑھتے ہوئے اقتصادی روابط کو اجاگر کیا گیا۔ بتایا گیا کہ ترک کنٹریکٹرز پاکستان میں 3.5 ارب ڈالر مالیت کے 72 بڑے منصوبے مکمل کر چکے ہیں، جبکہ دوطرفہ تجارت کا حجم 1.4 ارب ڈالر سے تجاوز کر گیا ہے، جو سالانہ بنیادوں پر 35 فیصد اضافہ ظاہر کرتا ہے۔ دونوں ممالک نے تجارت کا ہدف 5 ارب ڈالر تک پہنچانے کے عزم کا اظہار کیا ہے۔

عالمی ادارے اسٹاک ہوم انٹرنیشنل پیس ریسرچ انسٹیٹیوٹ کے مطابق ترکیہ پاکستان کو دفاعی سازوسامان فراہم کرنے والے بڑے ممالک میں شمار ہوتا ہے، جو دونوں ممالک کے دفاعی تعاون کی اہمیت کو ظاہر کرتا ہے۔

Read Previous

صدر ایردوان اور خاتونِ اول کا بیوغلو میں نجی رہائش گاہ پر افطار، اہلِ خانہ سے ملاقات اور خیرسگالی کا اظہار

Leave a Reply