پاک افغان سرحد پر کشیدگی کے تناظر میں پاکستان کی سیکیورٹی فورسز نے یکم مارچ 2026 کو افغان طالبان (ٹی ٹی اے) کی متعدد اگلی چوکیوں کے خلاف بھرپور جوابی کارروائی کی ہے۔ سیکیورٹی ذرائع کے مطابق یہ کارروائی 26 فروری کو سرحد پار سے ہونے والی مبینہ جارحیت کے ردعمل میں کی گئی۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ فورسز نے تمام اہم سیکٹرز میں افغان طالبان کی چوکیوں کو نشانہ بنایا اور مختلف علاقوں میں پیش قدمی کرتے ہوئے مزید 5 چوکیوں پر قبضہ کر لیا، جس کے بعد قبضے میں لی گئی مجموعی چوکیوں کی تعداد 31 ہو گئی ہے۔ کارروائی کے دوران مارٹر اور توپ خانے کا استعمال کیا گیا جبکہ بعض مقامات پر فضائی کارروائی بھی کی گئی۔

سیکیورٹی رپورٹس کے مطابق تیراہ، مہمند اور خیبر کے علاقوں میں افغان طالبان کی جانب سے مزاحمت کی کوشش کی گئی، تاہم فورسز نے مؤثر کارروائی کرتے ہوئے ان کوششوں کو ناکام بنا دیا۔

سیکیورٹی ذرائع نے دعویٰ کیا ہے کہ اس پوری کارروائی میں افغان طالبان کو بھاری جانی اور عسکری نقصان پہنچا، جس میں سینکڑوں جنگجوؤں کی ہلاکت اور زخمی ہونے کی اطلاعات شامل ہیں، جبکہ متعدد چوکیاں، گاڑیاں اور عسکری تنصیبات بھی تباہ کی گئیں۔

ذرائع کے مطابق ژوب سیکٹر میں 32 مربع کلومیٹر پر مشتمل غُدوانہ انکلیو بدستور پاکستان کے کنٹرول میں ہے، جبکہ کئی سرحدی مقامات پر افغان طالبان کی چوکیوں کو خالی بھی دیکھا گیا ہے۔
سیکیورٹی حکام کا کہنا ہے کہ کارروائی کے دوران پاکستان کی سیکیورٹی فورسز کا کوئی جانی نقصان نہیں ہوا اور صورتحال پر مسلسل نظر رکھی جا رہی ہے۔
