وزیراعظم پاکستان، شہباز شریف کے ترکیہ کے دو روزہ دورے کے دوران ترکیہ اور پاکستان نے توانائی، معدنیات اور انفارمیشن ٹیکنالوجی سمیت مختلف شعبوں میں تعاون بڑھانے پر اتفاق کیا ہے، جبکہ صدر رجب طیب ایردوان نے دفاعی شعبے میں مشترکہ منصوبے شروع کرنے کی خواہش کا اظہار کیا ہے۔
انقرہ میں وزیراعظم پاکستان کے ہمراہ مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے صدر، رجب طیب ایردوان نے وزیراعظم پاکستان کوخوش آمدیدکہا۔ ان کا مزید کہنا تھ اکہ، پاکستان اور ترکیہ کے تعلقات محض سفارتی نہیں، بلکہ دلوں کے رشتے ہیں۔پاکستان دہشت گردی کے خاتمے کے لیے سنجیدہ کوششیں کر رہا ہے، اور ترکیہ ان کوششوں کی مکمل حمایت کرتا ہے۔
صدر نے واضح کیا کہ، ہم دفاعی شعبے میں مشترکہ منصوبے شروع کرنا چاہتے ہیں۔ دونوں ممالک کے درمیان عالمی امور پر خیالات میں مکمل ہم آہنگی پائی جاتی ہے۔
اس موقع پر وزیراعظم پاکستان نے کہاکہ، ترکیہ نے ہر مشکل وقت میں پاکستان کا ساتھ دیا، رجب طیب ایردوان کی قیادت میں ترکیہ نے قابلِ قدر ترقی کی ہے۔
انہوں نے ترکیہ میں پُرجوش استقبال اور پرتپاک میزبانی پر صدر ایردوان کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ، دونوں ممالک کے تعلقات قلبی، تاریخی اور ثقافتی رشتوں میں بندھے ہوئے ہیں۔
شہباز شریف نے یاد دلایا کہ، صدرایردوان نے 2022 میں پاکستان میں آنے والے سیلاب کے دوران متاثرین کے ساتھ یکجہتی کے اظہار کے لیے دورہ کیا تھا، جیسا کہ وہ 2010 کے سیلاب کے وقت بھی پاکستان آئے تھے۔ ہم ان لمحات کو کبھی فراموش نہیں کریں گے، ترکیہ نے جس انداز میں ہمارا ساتھ دیا وہ برادرانہ تعلقات کی بہترین مثال ہے۔
وزیراعظم پاکستان نے فلسطین کے مسئلے پر دو ٹوک مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہاکہ،غزہ میں پچاس ہزار سے زائد بے گناہ فلسطینی شہید ہو چکے ہیں، اسرائیلی جارحیت کی پرزور مذمت کرتے ہیں۔ فوری جنگ بندی کی ضرورت ہے۔
شہباز شریف نے کہا کہ، پاکستان اور ترکیہ کو دہشت گردی کے خلاف مشترکہ حکمت عملی اپنانا ہوگی۔ ترکیہ کے ساتھ توانائی، کان کنی، معدنیات اور آئی ٹی جیسے شعبوں میں دو طرفہ تعاون بڑھانے پر اتفاق ہوا ہے۔
وزیراعظم پاکستان صدر ایردوان کی دعوت پر منگل کے روز ترکیہ پہنچے، جہاں وزیر دفاع نے ان کااستقبال کیا۔
