تحریر: شبانہ ایاز
گزشتہ ہفتے ترکیہ کے خوبصورت شہر استنبول نے ایک بار پھر جنوبی ایشیا کے امن عمل میں اہم کردار ادا کیا۔ پاکستان اور افغانستان کے درمیان استنبول امن معاہدہ پر مبنی مذاکرات، جو ترکیہ اور قطر کی ثالثی میں 25 اکتوبر سے 30 اکتوبر تک جاری رہے، نے خطے کی کشیدگی کو کم کرنے کی ایک نئی راہ کھولی ہے۔
یہ بات چیت اس وقت شروع ہوئی جب 12 اکتوبر کو پاک افغان سرحد پر شدید جھڑپیں ہوئیں، جن میں درجنوں فوجی اور شہری شہید ہوئے۔ پاکستان نے الزام لگایا کہ افغان طالبان TTP یعنی تحریک طالبان پاکستان اور دیگر دہشت گرد گروہ افغان سرزمین سے حملے کر رہے ہیں، جبکہ افغان طالبان نے پاکستانی فضائی حملوں کو اپنی خودمختاری کی خلاف ورزی قرار دیا۔ان پاکستان افغان مذاکرات سے پہلے 19 اکتوبر کو قطر کے شہر دوحہ میں دوحہ جنگ بندی طے ہوئی تھی، جس نے فوری طور پر سرحدی جھڑپوں کو روک دیا۔ تاہم، دیرپا حل کے لیے مزید بات چیت کی ضرورت تھی۔
ترکیہ نے برادرانہ جذبے سے استنبول میں میزبانی کی اور دونوں فریقوں کو ایک میز پر بٹھایا۔ ترکیہ کی وزارت خارجہ کے مطابق، یہ اجلاس چھ دن تک جاری رہے اور بالآخر ایک عبوری معاہدہ طے پایا۔ اس کے تحت دونوں ممالک نے دوحہ جنگ بندی کو برقرار رکھنے کا عزم ظاہر کیا، افغان سرزمین سے دہشت گردی روکنے پر اتفاق کیا اور ایک مشترکہ نگرانی کے نظام قائم کرنے کا فیصلہ کیا۔ اگلا اجلاس 6 نومبر کو پھر استنبول میں ہوگا، جہاں معاہدے کی تفصیلات اور خلاف ورزی پر جرمانے کا نظام طے ہوگا۔ترکیہ ثالثی کا کردار اس عمل میں مرکزی رہا۔ صدر رجب طیب ایردوان کی قیادت میں ترکیہ نے امت مسلمہ کے بھائیوں کے درمیان امن کی کوشش کی اور قطر کے ساتھ مل کر غیر جانبدارانہ ثالثی کی۔ جب 28 اکتوبر کو مذاکرات تعطل کا شکار ہوئے اور پاکستان نے واپسی کی دھمکی دی تو ترکیہ کی سفارتی مداخلت نے صورتحال سنبھالی۔
پاکستانی وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا کہ ترکیہ کی کوششوں سے "کھلی جنگ” کا خطرہ ٹل گیا۔ افغان انٹیریئر منسٹر سراج الدین حقانی نے بھی ترکیہ اور قطر کی ثالثی کو سراہا اور کہا کہ یہ بات چیت علاقائی استحکام کی بنیاد بنے گی۔ یہ پاک افغان تعلقات کی تاریخ میں ایک اہم موڑ ہے، کیونکہ دونوں ممالک کے درمیان 2600 کلومیٹر لمبی سرحد پر تنازعات سالہا سال چلتے رہے ہیں۔ان مذاکرات کا پس منظر بھی دلچسپ ہے۔ 2021 میں افغان طالبان کی اقتدار میں واپسی کے بعد سے پاکستان میں TTP کے حملوں میں اضافہ ہوا، جن کی تعداد 2024 میں 500 سے تجاوز کر گئی۔ پاکستان کا مؤقف ہے کہ TTP اور بلوچ لبریشن آرمی (BLA) جیسی تنظیمیں بھارت کی حمایت سے افغان علاقوں سے آپریٹ کر رہی ہیں۔
دوسری طرف، افغان طالبان پاکستان پر الزام لگاتے ہیں کہ وہ افغان سرحد پر ڈرون حملے کر رہے ہیں۔ استنبول میں پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف ایک تفصیلی پلان پیش کیا، جس میں مشترکہ نگرانی اور انٹیلی جنس شیئرنگ شامل تھی۔ ترکیہ نے دونوں فریقوں کی شکایات سن کر ایک متوازن حل نکالا، جو جنوبی ایشیا امن کے لیے خوش آئند ہے۔یہ استنبول امن معاہدہ محض ایک کاغذی دستاویز نہیں بلکہ دونوں ملکوں کے عوام کی بہتری کی امید ہے۔ پاکستان میں سرحد کے قریب رہنے والے قبائلی علاقوں میں امن سے تجارت بحال ہوگی، جو 2024 میں 20 ارب ڈالر تک تھی۔ افغانستان کی معیشت، جو جنگ کی وجہ سے تباہ ہو چکی ہے، بھی مستحکم ہوگی۔
ترکیہ کا یہ برادرانہ کردار امت مسلمہ کی وحدت کی علامت ہے۔ ماضی میں بھی ترکیہ نے فلسطین، صومالیہ اور شام جیسے مسائل میں مصالحت کی ہے، اور اب پاک افغان تعلقات کو بہتر بنانے میں اس کی کوشش قابلِ تحسین ہے۔عالمی سطح پر بھی یہ پیش رفت اہم ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایکس (سابق ٹویٹر) پر کہا کہ وہ اس بحران کو "بہت جلد” حل کریں گے۔ سعودی عرب اور چین نے بھی مذاکرات کی حمایت کی۔
اگر 6 نومبر کا اجلاس کامیاب ہوا تو یہ نہ صرف پاکستان اور افغانستان بلکہ پوری خطے کے لیے معاشی ترقی کی نئی راہیں کھولے گا۔ تاہم، چیلنجز اب بھی موجود ہیں—TTP کے خلاف عملی کارروائی اور سرحدی تنازعات کا حل۔ترکیہ کا پیغام صاف ہے کہ امن کی خواہش کمزوری نہیں بلکہ طاقت کی انتہا ہے۔
استنبول مذاکرات نے ثابت کیا کہ بات چیت سے دشمنیاں ختم ہو سکتی ہیں۔ پاکستان کی قیادت، فوج اور سفارت کاروں نے حکمت اور صبر سے کام لیا، جبکہ افغان طالبان نے بھی لچک دکھائی۔ اب دنیا دیکھ رہی ہے کہ کیا یہ عبوری معاہدہ مستقل امن میں بدل پائے گا۔ جنوبی ایشیا میں امن کی یہ کرن اگر چمکتی رہی تو خطہ خوشحال ہوگا۔
