ترک صدر رجب طیب ایردوان نے پاکستان اور افغانستان کے درمیان جاری سفارتی ڈیڈلاک کے خاتمے کے لیے اعلیٰ سطحی وزارتی وفد کو پاکستان بھیجنے کا اعلان کیا ہے۔
ترکیہ کی جانب سے یہ اقدام دونوں برادر اسلامی ممالک کے درمیان کشیدگی کم کرنے اور امن و تعاون کے عمل کو دوبارہ فعال بنانے کی کوشش کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
ترک ذرائع کے مطابق، اس وفد میں وزیر خارجہ حاقان فدان، وزیر دفاع یاسر گولر اور انٹیلی جنس چیف ابراہیم قالن شامل ہوں گے، جو اسلام آباد میں اعلیٰ حکام سے ملاقاتیں کریں گے۔
یہ وفد پاک افغان تعلقات میں حالیہ تعطل پر بات چیت کے ساتھ ساتھ بارڈر سیکیورٹی، انسدادِ دہشتگردی تعاون، اور علاقائی استحکام کے موضوعات پر بھی تبادلہ خیال کرے گا۔
ترکیہ نے ہمیشہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان امن و مفاہمت کے فروغ میں ثالثی کا کردار ادا کیا ہے۔ صدر ایردوان نے اپنے بیان میں کہا کہ "اسلامی دنیا کے اتحاد اور خطے کے امن کے لیے ترکیہ اپنا کردار ادا کرتا رہے گا۔”
ذرائع کے مطابق، یہ دورہ آئندہ چند دنوں میں متوقع ہے اور دونوں ممالک کے تعلقات میں سفارتی پیش رفت کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔
