turky-urdu-logo

ترکیہ میں مطالعہ کا رجحان مضبوط، 3 لاکھ 58 ہزار طلبہ ’کتاب کُرْدو‘ مقابلے میں شامل

ترکیہ بھر میں مطالعہ کے فروغ کے لیے منعقدہ “کتاب کُرْدو” مقابلے میں 3 لاکھ 58 ہزار سے زائد طلبہ نے شرکت کر کے ایک نیا رجحان قائم کر دیا، جو ڈیجیٹل دور میں کم ہوتی مطالعہ کی عادت کے خدشات کے برعکس نوجوان نسل کے کتابوں سے بڑھتے ہوئے شغف کی عکاسی کرتا ہے۔

ترکیہ نوجوان فاؤنڈیشن (ٹوگوا) کے زیرِ اہتمام ہونے والے اس ملک گیر مقابلے میں جماعت پنجم سے ہشتم تک کے 3 لاکھ 58 ہزار 485 طلبہ نے حصہ لیا، جو بیک وقت 81 صوبوں اور 660 اضلاع کے 1459 تعلیمی اداروں میں منعقد ہوا۔ منتظمین کے مطابق گزشتہ سال کے مقابلے میں اس سال شرکت کی شرح میں تقریباً 40 فیصد اضافہ دیکھنے میں آیا۔

طلبہ نے اس مقابلے کی تیاری کئی ماہ تک ترک مصنفین کی منتخب کتابوں کا مطالعہ کر کے کی، جبکہ مختلف جماعتوں کے لیے علیحدہ مطالعہ فہرستیں ترتیب دی گئی تھیں۔ ایک گھنٹے پر مشتمل امتحان میں طلبہ کی کتابوں سے متعلق فہم اور تجزیاتی صلاحیتوں کا جائزہ لیا گیا۔

نمایاں کارکردگی دکھانے والے طلبہ کے لیے خصوصی انعامات کا اعلان بھی کیا گیا ہے، جن میں پہلی پوزیشن حاصل کرنے والے طالب علم کو ایک اہلِ خانہ کے ہمراہ عمرہ کی سعادت، دوسری پوزیشن پر آنے والے کو بلقان ممالک کا مطالعاتی دورہ جبکہ تیسری پوزیشن حاصل کرنے والے کو کمپیوٹر دیا جائے گا۔ اس کے علاوہ دیگر نمایاں طلبہ کے لیے نقد انعامات اور تحائف بھی مختص کیے گئے ہیں، جبکہ ٹاپ 10 طلبہ کے اساتذہ کو بھی مالی اعزازات سے نوازا جائے گا۔

ٹوگوا کے صدر ابراہیم بیشن جی نے امتحان کے دوران استنبول کے ایک اسکول کا دورہ کیا اور طلبہ کی بھرپور شرکت کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس مقابلے کا مقصد صرف انعامات دینا نہیں بلکہ نوجوانوں میں مطالعہ کی مستقل عادت کو فروغ دینا ہے۔

انہوں نے کہا کہ جدید ٹیکنالوجی اور سوشل میڈیا جہاں معلومات کے تیز حصول کو ممکن بناتے ہیں، وہیں کتابیں گہرائی اور پائیدار سیکھنے کا ذریعہ فراہم کرتی ہیں، اس لیے کم عمری سے مطالعہ کی عادت ڈالنا نہایت ضروری ہے۔

منتظمین کے مطابق یہ مقابلہ طلبہ کی ذہنی نشوونما اور ثقافتی شعور کو مضبوط بنانے کی ایک اہم کوشش ہے، کیونکہ مطالعہ نہ صرف تعلیمی کامیابی بلکہ پیشہ ورانہ ترقی میں بھی کلیدی کردار ادا کرتا ہے۔ اس بڑے پیمانے پر شرکت کو اس بات کا ثبوت قرار دیا جا رہا ہے کہ مناسب مواقع فراہم کیے جائیں تو نوجوان نسل میں کتابوں سے وابستگی اب بھی مضبوط ہے۔

Read Previous

خاتونِ اول امینہ ایردوان کی تشویشناک وارننگ،پانچ سال سے کم عمر بچوں کی اموات میں بھوک نمایاں وجہ

Read Next

ٹرمپ کی ایران کو نئی دھمکی، آبنائے ہرمز فوری نہ کھولنے پر سخت کارروائی کا انتباہ

Leave a Reply