مسلم دنیا کے اہم ترین ملکوں کے وزرائے خارجہ اس وقت ترکیہ کے شہر استنبول میں جمع ہیں، جہاں اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) کا 51 واں اہم اجلاس جاری ہے۔ یہ اجلاس ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب مشرقِ وسطیٰ میں اسرائیل اور ایران کے درمیان کشیدگی بڑھ رہی ہے، اور غزہ میں انسانی بحران شدید تر ہوتا جا رہا ہے۔
اس اجلاس میں ترکیہ کے صدر رجب طیب ایردوان ایک مضبوط آواز بن کر سامنے آئے ہیں۔ انہوں نے اسرائیل کی پالیسیوں کو کھل کر تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ اسرائیل کو مغربی طاقتوں کی مکمل حمایت حاصل ہے، اسی لیے وہ مسلسل خطے میں بدامنی پھیلا رہا ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ فلسطین کے لیے دو ریاستی حل اب ناگزیر ہو چکا ہے، اور او آئی سی کو متحد ہو کر دنیا کو مجبور کرنا ہوگا کہ وہ فلسطینی ریاست کو تسلیم کریں۔
صدر ایردوان نے یہ بھی کہا کہ اسرائیل نے ایران پر ایسے وقت حملے کیے جب ایران کے ایٹمی پروگرام پر مذاکرات ہو رہے تھے، جو بہت تشویش ناک بات ہے۔ انہوں نے صاف الفاظ میں کہا کہ ترکیہ کسی بھی ایسے نئے "نقشے” کی اجازت نہیں دے گا جو خون بہا کر بنایا جائے۔
ترکیہ کے وزیر خارجہ حقان فیدان نے بھی اسرائیل کو سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ مسئلہ صرف فلسطین یا ایران کا نہیں، بلکہ اصل مسئلہ "اسرائیل خود ہے”۔ انہوں نے کہا کہ اسرائیل اپنے حملوں سے پورے خطے کو جنگ کے دہانے پر لے آیا ہے، اور اب عالمی دنیا کو اس کے خلاف مؤثر قدم اٹھانا ہوگا۔
اس اجلاس میں ایران کے وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے بھی شرکت کی، اور اسرائیل کے خلاف بھرپور مذمت کی اپیل کی۔ انہوں نے کہا کہ ایران اپنے دفاع کا حق رکھتا ہے، اور او آئی سی کو چاہیے کہ وہ ایران کے حق میں مضبوط آواز بلند کرے۔
ادھر غزہ میں جاری تباہی اور انسانی مسائل پر بھی اجلاس میں گہری تشویش ظاہر کی گئی۔ تمام اسلامی ملکوں نے امداد بڑھانے اور مستقل امن قائم کرنے پر اتفاق کیا۔
اجلاس کی ایک خاص بات یہ بھی رہی کہ پاکستان کے نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار اور فیلڈ مارشل و آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر بھی ترکیہ کے مہمان بنے۔ صدر ایردوان نے دونوں پاکستانی رہنماؤں کا شاندار استقبال کیا، اور تینوں رہنماؤں نے خطے کی صورت حال پر تفصیلی بات چیت کی۔
یہ منظر اس بات کا پیغام تھا کہ
” ایک ہوں مسلم حرم کی پاسبانی کے لیے”
پاکستان اور ترکیہ حقیقت میں "یک جان دو قالب” بن چکے ہیں، جو ہر مشکل گھڑی میں ایک دوسرے کے شانہ بشانہ کھڑے ہیں۔
استنبول میں ہونے والا یہ او آئی سی اجلاس اس لیے بھی بہت اہم ہے کیونکہ یہاں سے جو فیصلے ہوں گے، وہ نہ صرف فلسطین، ایران اور غزہ کے مسئلے پر اثر ڈالیں گے بلکہ پوری مسلم دنیا کی سمت کا تعین بھی کریں گے۔
