نیو یارک میں اقوام متحدہ کے اجلاس سے قبل مسلم ممالک کے وزرائے خارجہ کا مسئلہ فلسطین پر مشاورتی اجلاس ہوا۔
پاکستانی وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے اجلاس کی صدارت کی۔
اجلاس میں ترک وزیر خارجہ میلوت چاوش اولو، فلسطین کے وزیر خارجہ ریاض المالکی، تیونس کے وزیر خارجہ عثمان جارندی، اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے صدر ولکان بوزکیر اور اقوام متحدہ میں او آئی سی ممالک کے سفیروں نے شرکت کی۔
وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پورے عالم اسلام کو اسرائیلی جارحیت اور اسرائیل کے مسلمانوں سے امتیازی سلوک روا رکھنے پر تشویش ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ اسرئیل مسلمانوں کے مقدس مہینے رمضان میں مسجد اقصی پر حملہ آور ہوا اور اسرائیلی فوج نے بے گناہ فلسطینیوں کو بے دردی سے گرفتار کیا جس کے نتیجے میں سیکٹروں فلسطینی زخمی ہوئے۔ وزیر کارجہ کا کہنا تھا کہ پاکستان مقدس مقامات کے تقدس کی پامالی، ٖغیر قانونی طور پر یہودی آبادکاریوں اور فلسطینیوں کو انہی کی زمین سے بے دخل کرنے کی سازش کی شدید الفاظ میں مذمت کرتا ہے۔
انہوں نے امید کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ” امید ہے کہ اس اجلاس سے بین الاقوامی کمیونٹی تک او آئی سی کا موقف پہنچ جائے گا۔
شاہ محمود قریشی نے او آئی سی ممبر ممالک کا اقوام متحدہ کے ہنگامی اجلاس بلوانے میں کردار ادا کرنے پر ان کا شکریہ بھی ادا کیا۔
